بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بانو بی بی کی والدہ کی ویڈیو دیکھتے ہی میری آنکھوں میں ایک فلم کی کہانی گھومنے لگی۔ یہ فلم پڑوسی ملک کے ایک دیہات کی تھی۔ فلم کے آغاز میں ہی ایک ہجوم دکھایا جاتا ہے جو ایک جوڑے کو محبت کرنے کے جرم میں سزا کے لیے لے جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کا یہ ہجوم اس جوڑے کو مار پیٹ کرتے ہوئے بازار سے گزرتا ہے تو وہاں موجود ہر شخص اس جوڑے کے خلاف بولنے لگتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص اس جوڑے کے خلاف ہے۔ وہ رسم و رواج جو صدیوں سے چلے آ رہے ہوتے ہیں، ہر ایک کے لیے وہ معمول بن جاتے ہیں۔ اس میں کیا غلط ہے کیا صحیح، یہ سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، اور جو ان رسم و رواج سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے، وہ بھی بے بس ہو کر ساتھ چلنے لگتا ہے۔
خیر، بھیڑ اور مار پیٹ کو دیکھ کر اس ہوٹل میں شہر سے آئے میاں بیوی اس ہجوم کے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔ ہجوم جوڑے کو ویرانے میں لے جا کر قتل کر دیتا ہے۔ خون خرابہ دیکھ کر جھاڑیوں میں چھپے میاں بیوی ویڈیو بناتے ہیں جنھیں دیکھ لیا جاتا ہے۔ شوہر کو قتل کر دیا جاتا ہے لیکن بیوی پولیس اسٹیشن پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، لیکن وہاں اسے درپردہ قتل ہونے والی لڑکی کے خاندان کے حوالے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ تو فلم کی ہیروئن تھی جسے بالآخر کامیاب ہی ہونا تھا، وہ بھی سب کچھ ٹھیک کر کے۔ وہ کوئی بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بانو بی بی نہیں تھی، جو چپ چاپ اپنے مقتل کی جانب اس یقین سے بڑھتی ہے کہ ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے، عزت کے نام پر قتل کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے اور کوئی اس کو نہیں بچائے گا۔
فلم کی ہیروئن تھی، پولیس اسٹیشن سے بھی بھاگ نکلتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکی کے گھر جا پہنچتی ہے۔ گھر کے مرد وہاں موجود نہیں ہوتے، وہ چیخ چیخ کر قتل کی گئی لڑکی کی ماں کو بتاتی ہے کہ آپ کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے، لیکن وہ خاتون ہیروئن کو ہی بند کر دیتی ہے تاکہ اسے گھر کے مردوں کے حوالے کرے۔ تو یہ تھی اس ماں کی کہانی جو اپنی بیٹی کے قتل کو حق سمجھتی ہے، جیسے بانو کی ماں اپنی بیٹی کے قتل کو حق سمجھتی ہے۔
حال ہی میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بانو بی بی کی والدہ نے بھی ویڈیو بیان میں اس ضمن میں گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی۔
بدچلنی کے شبہے میں عورت اور اس کے آشنا کا قتل "سیاہ کاری” یا "کاروکاری” کہلاتا ہے اور یہ دستور بہت قدیم ہے۔ یہ ایک سماجی برائی ہے جس کی جڑ زیادہ تر قبائلی علاقوں پر مبنی ہے۔ عزت کے نام پر قتل کو مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ سندھ میں لڑکیاں کاروکاری کا شکار ہوتی ہیں، پنجاب میں یہ "کالا کالی”، "کاروکاری” کہلاتا ہے، کے پی کے میں "طور طورہ”، جبکہ بلوچستان میں "سیاہ کاری” کہا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل ہونے والے فیصلے قبائل اور کمیونٹی کی باہم رضامندی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں یہ دستور ہے، وہاں کے مقامی افراد جرگے کے فیصلے کو ماننا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
جون 2025 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں دہرے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ بعد ازاں اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بظاہر قتل ہونے والے جوڑے پر بسند کی شادی کا الزام تھا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ قتل ہونے والے افراد کے درمیان ازواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی تھے۔ والدہ نے بھی بانو کے پانچ بچوں کی عمریں بالترتیب بتاتے ہوئے بتایا کہ بانو احسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور 25 دن بعد وہ واپس آئی۔ تب بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا، لیکن احسان اللہ آئے روز میرے بیٹوں کو دھمکیاں دیتا تھا۔
یہاں بات یہ نہیں کہ مقتولہ اور مقتول شادی شدہ تھے یا ان کے کتنے بچے تھے، اہم بات تو یہ ہے کہ دو انسانوں کا بے دردی سے قتل ہوا اور تماشائی تھا سارا ہجوم۔۔۔ اپنوں کا ہجوم۔
دہرے قتل کی ویڈیو اب تک لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے۔ متعدد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بانو کی والدہ کو بھی 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے جن کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ لگتا ہے ہو سکتا ہے بانو کو انصاف مل جائے گا لیکن اسے زندگی نہیں ملے گی۔
اس ضمن میں اب تک بہت کچھ کہا گیا اور کہا جا رہا ہے۔ یوٹیوبرز نے چٹ پٹی ہیڈ لائنز کے ساتھ اپنے چینلز بھر دیے ہیں۔ ہر پل اس واقعے کے بارے میں کچھ نہ کچھ نیا سننے کو مل رہا ہے۔ کاش بانو بھی بتا سکتی کہ اس کا قصور کیا تھا، وہ کیا چاہتی تھی، کیا سوچتی تھی۔ بانو کی طرح بہت سی خواتین کو موت کی نیند سلایا جا چکا ہے جن کی نہ تو کوئی ویڈیو سامنے آئی نہ ہی قاتلوں کو سزا ملی، اور یہی وجہ ہے کہ یہ رسم آج بھی قائم ہے۔ کاش بانو بول سکتی۔