وقت زندگی کی اکائی ہے اور زندگی اوقات کا مجموعہ۔ انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ اسے ملتا ہے۔ سب کچھ وقت کے مرہون منت ہے۔ انسان جو کچھ پاتا یا لٹاتا ہے وہ بھی سب وقت کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہوتا ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا ہو یا کوئی خوش، صحت مند و توانا ہو، کامیابی ہو یا ناکامی، دولت ہو یا غربت سب وقت کے ہاتھوں آنے جانے والے مختلف "حال احوال” ہیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی انسان پر آنے والا ہے کہ جس میں انسان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا بلکہ انسان خود وقت کے سمندر میں بہہ کر تحلیل ہو جائے گا یہاں تک کہ اسے ایک نئی دنیا میں پھر سے اٹھایا جائے گا۔
قومی تناظر میں وقت کی اہمیت نہایت اہم ہے، کیونکہ وقت ہی وہ بنیادی سرمایہ ہے جو اگر ضائع ہو جائے تو واپس نہیں آتا۔ اقوام کی ترقی اور زوال کا انحصار وقت کے صحیح استعمال پر ہوتا ہے۔ جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں، منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتی ہیں، اور ہر لمحے کو بہتر مستقبل کے لیے استعمال کرتی ہیں، وہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
وقت کی پابندی، مستقل مزاجی، اور کام کی باقاعدگی کسی بھی قوم کی کامیابی کی کنجی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے وقت کو ضائع کیا، وہ پیچھے رہ گئے، جبکہ وقت کے صحیح استعمال نے آمریکہ، چین، جاپان، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو عروج بخشا۔ لہٰذا، قومی سطح پر ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے وقت کو بامقصد کاموں میں صرف کرے تاکہ اجتماعی ترقی ممکن ہو سکے۔
وقت کی صورت میں زندگی کا آغاز ایک لمحے سے ہوتا ہے جبکہ اختتام کیلیے بھی ایسا ہی ایک لمحہ مقرر ہے یعنی ایک فرد کی زندگی دو لمحوں کے درمیان حائل "وقفہ” ہے اور بس۔ یہ وقت ہی ہے جس نے زمانے کے مختلف ٹکڑے یعنی ماضی، حال اور مستقبل کو باہم جوڑا ہے۔ یہ وقت کا تسلسل ہی تو ہے جو حال کو ماضی اور مستقبل کو حال میں ہر آن بدلتا رہتا ہے۔ ذرا سوچئے پھر انسان کو دیکھ لیجیے کس طرح پیدائش، بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے وقت کے اندر کروٹیں بدلتے ہوئے آغاز سے آنجام تک بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
اس سارے سفر میں انسان سرکل کی مانند گھوم پھر کر عدم سے وجود، وجود سے مختلف تبدیلیوں کے چکر کاٹ کر بالآخر معدومیت کی کھائی میں گم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ معدومیت سے مراد مکمل خاتمہ قطعاً نہیں۔ مرنے کے بعد انسان پہلے "عالم برزخ” منتقل ہوگا اور بعد میں عالم آخرت میں نہ صرف دوبارہ جی اٹھے گا بلکہ اپنے اوقات، اعمال، صلاحیتوں اور مواقع کے لیے خدا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ زندگی کے بارے میں انسانی احساس جگانے کے لیے بس یہی نکتہ کافی ہے کہ زندگی کے بارے میں ہم بالآخر اپنے رب کے حضور جواب دہ ہوں گے۔
انسان کو زندگی وقت کی صورت میں ملی ہے اور وقت کے تناظر میں ہی اس عطیہ خداوندی کا استعمال مطلوب ہے۔ آپ کام کرتے ہو یا اعمال ہر جگہ اور ہر موقع پر انسان کو وقت درکار ہوتا ہے۔ وقت کے سرمائے کو درست انداز میں استعمال کرکے افراد اور اقوام دونوں کامیاب اور سرخرو ٹہرتے ہیں جبکہ ناقدری اور غفلت کا رویہ آپناتے لوگ زمانے کا آزلی و آبدی خسارہ دامن میں بھر کر تاریخ کے گرد میں کہیں گم ہوجاتے ہیں۔ خوشی اور کامیابی، خیر اور نیکی، طاقت اور غلبہ، تعمیر اور اصلاح، علم اور آگہی، ترقی اور آسودگی ایسے پھل ہیں جو وقت کے باغ میں ہی بنی نوع انسان کو میسر آتے ہیں۔
وقت کی حقیقت پر کوئی سوچنا شروع ہو جائے تو اس پر ظاہر ہوگا کہ وقت ہی سب سے بڑی نعمت ہے، وقت ایک آمانت ہے، وقت بہت بڑی دولت ہے، وقت ہی زندگی ہے، وقت عطائے خداوندی ہے، وقت مہلت عمل ہے، وقت کامیابی پانے کی کنجی ہے، وقت تاریخ ہے اور عبرت کے سامان سے بھرا ہوا دامن بھی، بچپن کی خوشیاں، جوانی کی راحتیں اور قوتیں اور بزرگی کی شفقتیں اور رونقیں سب دراصل وقت کے لہروں میں اچلتی کھودتی وہ شیرینیاں ہے جو آزل سے انسان کا دل بہلاتی ہیں۔
وقت ایک ایسی چیز ہے جس کی سب سے ذیادہ قدر دانی انسان سے مطلوب ہے۔ جو وقت کی قدر کرتا ہے وہ کچھ کھو نہیں رہا اور جو وقت کی ناقدری کر بیھٹے وہ کچھ پا نہیں سکتا۔ وقت کے بہاؤ اور جبر میں مسلم احساس جاگ اٹھا، احساس زیاں آتا رہا، جذبوں اور ولولوں نے کروٹ بدلی، تحریک پاکستان چل نکلی، بصیرت و بصارت کی خوبیوں سے آراستہ قیادت سے وقت کے بہاؤ نے مسلمانان برصغیر کو سرفراز کیا اور یوں قیام پاکستان کا موقع تاریخ کو دیکھنا نصیب ہوا۔ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پہ فرمایا تھا کہ "پاکستان کی بنیاد تو اس وقت پڑی تھی جس وقت بر صغیر میں پہلے ہندو نے کلمہ پڑھا تھا”۔ اشفاق احمد نے اپنی مشہور کتاب "زاویہ” میں ایک جگہ لکھا ہے "جب پاکستان قائم ہوا تو آغاز میں ہم سرکاری فائلوں کو کانٹوں سے جوڑا کرتے تھے اور اب ہم کہوٹہ کے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ کانٹے سے کہوٹے تک کا سفر کامیاب بھی ہے اور بھرپور بھی”۔ اس بات میں ایٹمی صلاحیت سے آراستہ ہونے کی طرف لطیف اشارہ موجود ہے۔
گزشہ 77 سالہ تاریخ میں ہم نے یقیناً کچھ نہ کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ترقی و خوشحالی، انصاف و استحکام، نظم و ضبط، امن و تحفظ، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی فلاح و بہبود کی منزل سے دور ہی رہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ کروڑوں نفوس پر مشتمل(25 کروڑ)، وسیع رقبے کے حامل(تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر)، ایک ٹھوس نظریاتی آساس(اسلامی نظریہ حیات) رکھنے والی ملت سے منزل اوجھل ہے؟ من جملہ دوسرے وجوہات کے، ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے وقت کے حوالے سے مجموعی طور پر غفلت کا عمومی روش اپنا رکھا ہے۔ ہم اگر کہیں ہمت کر کے گھروں، دفاتر، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور دوسرے کام کے مقامات پر وقت کے ضیاع کے حوالے سے ڈیٹا جمع کر دیں تو یقین کریں معمولی احساس سے بھی ہمارے ہوش اڑ جائیں گے۔
ہم مانیں یا نہ مانیں ہمارے ہاں حکومتیں، لیڈرشپ، عوام اور اداروں سمیت مختلف طبقات وقت کے بارے میں احساس ذمہ داری سے کافی حد تک خالی ہیں۔ جن پیمانوں سے ہم وقت کے بارے میں اپنا عمومی طرزِ عمل بہتر کر سکتے ہیں ان میں سے پچپن، جوانی اور بڑھاپے کے ادوار ہیں۔ جوانی کی عمر میں پہنچ کر انسان کو اپنے اوقات کے بارے میں حساس ہونا چاہیے یہ وہ وقت ہوتا ہے جس میں ایک فرد کے مستقبل کی شیرازہ بندی ہوتی ہے اسی دور میں تعلیم، پیشہ وارانہ مہارت، رہائش، اخلاقی رویے، سیاسی وابستگی اور سماجی کردار کا تعین ہوتا ہے اور زندگی کا یہ دور نوجوانوں سے بھرپور محنت، صحت مند تربیت، معتدل روش، اخلاقی شفافیت اور سماجی فعالیت کا تقاضا کر رہا ہے۔
عین اسی فارمولے کا اطلاق سیاسی جماعتوں پر بھی ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت پر دو ادوار ہی گردش کر رہے ہیں ایک اپوزیشن میں ہونے کا دور اور دوسرا اقتدار میں آنے کا دور۔ اپوزیشن کی حالت میں ایک سیاسی جماعت سے قوم کو توقع ہوتی ہے کہ وہ مسائل کی معقول توضیح اور جرآت مندی سے نشان دہی کریں مزید برآں عوام کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کریں اور ایک دور اکثر سیاسی جماعتوں پر وہ آتا ہے کہ جس میں اقتدار ان کے ہاتھوں میں آجاتا ہے پھر اس کے پاس وقت اور مواقع ہوتے ہیں کہ جس سے کام لے کر وہ قوم کی خدمت کریں، اس کے مسائل حل کریں اور عوام کے معیار زندگی بلند کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ اب ایک جماعت اگر اقتدار میں آکر بھی صرف چیخ و پکار روا رکھے اور معقول تدبیر اختیار کرنے کے بجائے صرف پرجوش تقریروں سے کام چلانے پر آجائیں تو یہیں سمجھا جائے گا کہ وہ وقت ضائع کر رہی ہے۔
ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ من حیث القوم منصوبہ بندی، احساس ذمہ داری، مہارت کاری، فرض کی آدائیگی، محنت و لگن اور نظم و ضبط نے ہمارے دلوں میں ابھی تک گھر نہیں کیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہیں آللہ تعالیٰ نے اس کو وقت کے دامن میں سمیٹا ہے، اس لیے ہم نے پانے کے خاطر اسے ٹٹولنا ہوگا، احساس اور ادراک کے ساتھ وقت کے خزانے کو استعمال میں لانا ہوگا، نظم و ضبط اور میرٹ سے کام لینا ہوگا، محنت، صلاحیت اور درست ترجیحات کے تعین کو ممکن بنانا ہوگا، اہم کام پہلے اور کم اہم کام بعد میں والی "سائنس” اپنانی ہوگی، غیر ضروری کاموں سے دامن بچا کر فلاح و ترقی کا سفر آگے بڑھانا ہوگا، ایشوز اور نان ایشوز کے درمیان "عقل” کو حائل کرنا ہوگا۔ تب کہیں جاکر ہم یہ توقع رکھنے میں حق بہ جانب ہوں گے کہ وقت کے بادل سے ہم پر بھی خوشیوں اور کامیابیوں کی بارش برس جائے۔