مسکرانے کے ذہنی، روحانی اور جسمانی فوائد

میرے دوست اور کلاس فیلو ڈاکٹر موسی خان (رفا انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد) نے دلچسپ یادداشت پر مشتمل اپنی ایک حالیہ تحریر میں لکھا ہے کہ "ترقی یافتہ ممالک میں سفر کے دوران میں زیادہ تر اچھی اور خوبصورت یادیں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شہریوں کے لیے موجود سہولیات اور مسائل کا بھی مسلسل جائزہ لے رہا ہوں، اسی طرح عام لوگوں کے رویوں اور معمولات کو بھی توجہ دے رہا ہوں۔ یورپین ممالک خاص کر اسکینڈینیوین سٹیٹس والے ممالک بہت ہی پرامن ہیں اور وہاں کے لوگ بھی نسبتاً زیادہ شائستگی سے پیش آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم تو صرف منہ سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ مسکرانا صدقہ ہے لیکن بحیثیت معاشرہ اس قول پر عمل، میں سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں محسوس کر چکا ہوں جب اجنبی لوگ بھی نظر ملاتے وقت مسکرا کر “ہائے” کہتے ہیں”۔

یہ بات بظاہر تو معمولی سی ہے لیکن حقیقت میں ایک غیر معمولی خوبی ہے۔ مسکرا کر ملنا کون سی بڑی بات ہے تاہم اخلاق و جذبات کی وسیع و عمیق دنیا پر اس رویے کے نہایت دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مسکرانا بندے کو خوش، معتدل اور دوسروں کے لیے زیادہ قابل قبول بناتا ہے۔ یقین کریں مسکراہٹ ایک طاقت ہے، مسکراہٹ ایک سفارت ہے، مسکراہٹ ایک روحانیت ہے، مسکراہٹ ایک وسیلہ قبولیت ہے اور یہ کہ مسکراہٹ تو دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے کی ایک قدرتی مہارت بھی ہے۔ اس کو ارادی طور پر پیدا کریں، اسے مسلسل افزائش دیں، اس سے خود کو بہتر بننے میں مدد لیں اور اس "خدائی سائنس” کو اپنا گرد و پیش بہتر بنانے میں استعمال کریں۔

سیرت کی کتب میں بکثرت روایات مذکور ہیں کہ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے۔ جب بھی آپ پر کسی کی نظر پڑتی تو اسے آپ سے دائمی مسکراہٹ کے سبب بے اختیار ایک خوشگوار احساس میسر آتا۔ مسکرانا، مسکرا کر نرمی اور گرم جوشی سے ملنا، لوگوں کے مسائل معلوم کر کے حل کرنا، اپنے ہاتھ اور زبان کو ضرر دینے سے روکنا، لوگوں کے حال احوال کا لحاظ کرنا، کسی بھی کام کے لیے آسان طریقے کو اختیار کرنا، نیک اور دانشمندانہ مشوروں سے الجھے خیالوں کو سلجھانا، امیروں کو غریبوں کی جانب متوجہ کرنا، غریبوں کو آسودہ حال حضرات کی طرف روانہ کرنا، امید دلانا، مایوسی کے گرداب میں پھسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر یقین کی جانب متوجہ کرنا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنتیں ہیں۔

مسکراہٹ ایک دل آویز، خوشگوار اور جاذب نظر کیفیت کا نام ہے۔ مسکراہٹ کا مسکن انسان کا چہرہ ہوتا ہے اور جس چہرے پر مسکراہٹ بسیرا کر لیتی ہے تو یقیناً اس کی کشش اور رونق میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے۔ قدرتی یا ارادی طور پر مسکراہٹ کے کئی مواقع روزانہ کی زندگی میں پیش آتے ہیں، مثلًا خوش ہو کر، مل کر یا کوئی کامیابی پا یا دیکھ کر انسان بے اختیار مسکرانے لگتے ہیں اور یوں ایک خوشگوار اجتماعی ماحول بن جاتا ہے جس سے ہر بندہ اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق خوشی کشید کرتا ہے۔

حال ہی میں آمریکہ کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک محققین نے کچھ عمر رسیدہ مریضوں پر تحقیق کی۔‏ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ مریضوں پر ان لوگوں کے چہرے کے تاثرات کا کیا اثر ہوتا ہے جو اُن کی دیکھ‌ بھال پر معمور ہوتے ہیں۔‏ معلوم ہوا "جب دیکھ‌ بھال کرنے والے شخص کے چہرے سے یہ ظاہر ہوتا کہ اُسے دل سے مریض کی فکر ہے اور وہ اُس کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے تو مریض کو اِطمینان محسوس ہوتا اور یوں اُس کی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری آتی۔‏ لیکن جب دیکھ‌ بھال کرنے والے شخص کے چہرے سے ناگوار تاثرات دیکھنے کو ملتے تو اس سے مریض اور تیماردار کے درمیان دُوری پیدا ہو جاتی اور نتیجتاً مریض کی صحت بگڑ جاتی”۔

ایک اور تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مسکرانے سے اِنسان زیادہ پُراعتماد ہوتا ہے،‏ خوش رہتا ہے اور یوں اس کا ذہنی تناؤ بھی کم ہوتا ہے جبکہ الٹ طور پر ہر وقت مُنہ بنا کر رکھنے والوں کو اس رویے کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔‏

مسکراہٹ انسان کو ذہنی، روحانی، جذباتی اور جسمانی طور پر بے شمار فوائد پہنچانے والی ایک سستی اور فراوانی سے میسر سرگرمی ہے۔ مسکراہٹ کچھ کچھ قدرتی، کچھ کچھ ارادی اور کچھ کچھ مصنوعی ہوتی ہے۔ مسکراہٹ قدرتی نہ ہونے کے باوجود ہر شخص کے مزاج اور ذہنی و جسمانی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ مسکراہٹ تناؤ کم کر کے راحت کا احساس فراہم کرتی ہے۔ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے بعض ماہرین نے مسکرانے کے پانچ فوائد پر اتفاق کیا ہے آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں!

01 مسکراہٹ کا متعدی ہونا

عام طور پر جب ہم کسی شخص کو مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم خود بھی مسکرانے لگتے ہیں گویا کہ مسکراہٹ، مسکرانے والے کے چہرے کو سجانے کے بعد ہمارے چہرے تک سرعت سے منتقل ہوگئی اور یوں چہرے سے چہرہ چمکتا ہوا پورا ماحول خوشگوار بن جاتا ہے۔ طبی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جب ہم کسی مسکراتے شخص کو دیکھتے ہیں تو اس سے ہمارے دماغ کا ایک مخصوص حصہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ یہ حصہ چہرے کی اس حرکت کو کنٹرول کرتا ہے جس کے نتیجے میں مسکراہٹ سامنے آتی ہے۔

02 تناؤ کم کر کے دل کو پر سکون بناتی ہے

یہ کافی مشکل ہے کہ کوئی انسان کسی بڑے اعصابی دباؤ کا شکار ہو اور وہ مسکرائے۔ تاہم تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس سے اعصابی تناؤ کی شدت کم ہو جاتی ہے اور دل پر دباؤ میں بھی کمی آتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کو یک گونہ راحت کا احساس ہوتا ہے۔

03 صحت مند کیمیائی مرکبات پیدا کرتی ہے۔

مسرت کا احساس دلانے والے کیمیائی مرکبات کا اخراج
دراصل Endorphins کیمیائی مرکبات ہیں۔ یہ وہ مرکبات ہیں جو ہمیں مسرت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ کیمیائی مرکبات بعض سرگرمیوں مثلا دوڑنا، ورزش کرنا اور کھیل کود کے دوران خارج ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ محض مسکرانے سے بھی ان مرکبات کے اخراج میں مدد ملتی ہے جو انسانی جسم میں تناؤ کو کافی کم کرتے ہیں۔

04 مسکراہٹ جسم کی قوت مدافعت کو قوت پہنچاتی ہے۔

مسکراہٹ انسانی جسم میں سفید خونی خلیے تیار کرنے میں بھی مدد دیتی ہے جو کہ بیماریوں کے خلاف جسم میں مزاحمت کی ذمے داری انجام دیتے ہیں۔ اس طرح جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ عام طور پر ہم اس لیے بچوں کو دوران علاج ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ اس سے خون کے سفید خلیوں میں اضافہ ہوتا ہے جو بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے بچوں کے مدافعتی نظام کو طاقت پہنچاتے ہیں۔

05 دماغی صحت کو مضبوط بناتی ہے

مسکراہٹ عام طور پر ذہن کو طویل دورانیے تک مثبت پیرائے میں رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کے کام کے ثمر آوری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کے اندر توجہ مرکوز رکھنے اور چیلنجوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کی قدرت باقی رکھتی ہے۔ اگر معاملہ مسکراہٹ سے بڑھ کر ہنسنے تک پہنچ جاتا ہے تو یہ ہمارے لیے اور زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ ہنسنے سے دل کی صحت اچھی رہتی ہے، دوران خون بہتر ہوتا ہے اور پٹھوں کو آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ہنسنے کا عمل پھیپھڑوں کے لیے بھی بہت مفید ہے جس سے الرجی اور پھیپھڑوں کے انفیکشن جیسے موذی امراض کے آثار کم ہو جاتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ زندگی میں خوشیاں خود سے نہیں آتی، باقاعدہ پیدا کرنا پڑتا ہیں۔ خوشحال اور بدحال لوگوں کے احوال میں ان کے اپنے رویوں کو خاص عمل دخل حاصل ہے۔ اگر مسکراہٹ خوشی میں مددگار چیز ہے اور یقیناً ہے تو ہمیں اس کا خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں بڑھتے تناؤ کی سطح نیچے آ سکے اور نتیجتاً ایک خوشگوار زندگی گزارنا ممکن ہو جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے