شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کے آگے پیچھے نمایاں انداز میں لفظ "ایڈوکیٹ”، "ڈاکٹر”، "میڈیا”، یا بعض اوقات صرف "پریس” لکھا نظر آتا ہے۔ یہ پلیٹیں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والوں کی پیداوار نہیں بلکہ انسانی ذہن کے اندر چھپے ہوئے احساسِ برتری، خود ساختہ مقام اور مخصوص رعایت کی تمنا کی عکاس ہیں۔
ڈاکٹر اگر اپنی گاڑی پر "ڈاکٹر” لکھتا ہے تو بعض مواقع پر اس کی ایک اخلاقی اور انسانی توجیہ دی جا سکتی ہے مثلاً سڑک پر کسی کو اچانک طبی امداد کی ضرورت پڑ جائے تو اردگرد کے لوگ فوری پہچان سکیں کہ یہ شخص مددگار ہو سکتا ہے۔ یہ کسی حد تک قابلِ فہم بات ہے۔ لیکن "ایڈوکیٹ” کا لکھوانا یا خاص طور پر "میڈیا” لکھوانا مجھے ایک شوھدی اور گھٹیا حرکت لگتی ہے۔
آج کشمیر ہائی وے پر ایک بڑی گاڑی — بلکہ کافی زیادہ بڑی گاڑی — نظر آئی جس کے اگے اور پیچھے ایک سبز رنگ کی پلیٹ لگی ہوئی تھی، جس پر لکھا تھا: "میڈیا”۔ وہ صاحب انتہائی سست روی، بلکہ چہل قدمی کے سے انداز میں مسلسل فاسٹ لائن میں گاڑی چلا رہے تھے اور پیچھے سے راستہ مانگنے کے باوجود کسی کو گزرنے نہیں دے رہے تھے۔ گاڑی کی فل بیم لائٹس مسلسل روشن تھیں، جیسے وہ سب کو اندھا کر فیناباہ تھے ھوں۔ شاید وہ اس زَعم میں تھے کہ میڈیا سے ہیں، اس لیے قانون توڑنے کی کھلی چھوٹ ہے۔
اب یہ نہیں معلوم کہ وہ "میڈیا” پرنٹ کا تھا، الیکٹرانک کا، یا انٹرٹینمنٹ چینل کا — لیکن اتنا ضرور پتہ چل گیا کہ وہ ادب، تہذیب، اور شعور کے کسی میڈیا سے نہیں تھے۔ اگر وہ واقعی صحافی تھے تو پھر یہ ایک خبر نہیں بلکہ شرم کا نوٹس ہے۔ کیونکہ صحافی تو پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں، اور پڑھے لکھے لوگ ایسی حرکت نہیں کرتے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔ تو یہاں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے — اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ میڈیا کی پلیٹ لگا کر گاڑی کو ٹینک، اور خود کو جرنیل سمجھنے والے "صحافی” درحقیقت وہ لوگ نہیں جو سچ لکھتے ہیں — یہ وہ لفافہ بردار، سیلفی باز، یوٹیوبی، اور پرسکون ضمیر فروش ہیں جن کا کام اب خبر دینا نہیں، خود کو خبر بنانا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے "میڈیا” کے مقدس پیشے کو سڑکوں پر تماشہ بنا دیا ہے۔ گاڑی پر میڈیا کی پلیٹ لگانے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جو اندر سے بالکل خالی، مگر باہر سے خود کو بااختیار ظاہر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جیسے کسی گدھے کو شیروں کی کھال پہنا دی جائے — وہ چلتا بھی گدھے کی طرح ہے، بولتا بھی گدھے کی طرح، مگر زَعم شیر کا رکھتا ہے۔
یہ ہمارے معاشرے کی ایک بڑھتی ہوئی بیماری ہے — لوگ اپنے پیشے کو شناخت کے بجائے طاقت کی علامت بنا لیتے ہیں۔ صحافی اگر قانون توڑے، وکیل اگر زبردستی پارکنگ لے، ڈاکٹر اگر بل نہ دے، اور پولیس اہلکار اگر سگنل توڑے — تو یہ پیشے نہیں، دھبے بن جاتے ہیں۔
یہ "میڈیا” پلیٹیں صحافت کی علامت نہیں، خود پسندی کے اسٹیکر ہیں۔ یہ اس احساسِ کمتری کا علاج ہیں جو چھوٹے قد کے لوگ اونچی گاڑیوں سے کرنا چاہتے ہیں — وہ گاڑی سے طاقت تو خرید سکتے ہیں، مگر شعور نہیں۔ اور جب شعور نہ ہو، تو گاڑی میں بیٹھا شخص دراصل ایک بے ہنر، بے ظرف اور بے حیثیت وجود ہوتا ہے، جو صرف نمبر پلیٹ سے اپنی عزت کا ڈھونگ رچاتا ہے۔
سڑکیں تو کسی کی ذاتی جاگیر تو ھیں نہیں۔ تو پھر حکومت سب پیشوں کو پلیٹ کا پابند کرے۔ ہر شخص اپنی گاڑی پر اپنے پیشے کا بورڈ لگائے۔ پھر انصاف کا تقاضا پورا ہو کہ کسی گاڑی پر "نائی” کی پلیٹ ہو، کسی پر "موچی” لکھا ہو، ایک پر "قصاب” ہو، اور کسی پر "دھوبی” یا "خاکروب”۔ آخر یہ بھی تو ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں — ایمانداری سے کام کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ کیا انہیں یہ حق نہیں کہ وہ بھی ایسی ہی پلیٹیں لگائیں اور شہر کی سڑکوں پر دندناتے پھریں؟ یا یہ رعایت صرف ان کے لیے ہے جو قلم اور کیمرہ پکڑ کر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟
میں نے خود کئی بار سڑکوں پر ناکوں پر میڈیا لکھی گاڑی والوں کو پولیس سے جھگڑتے، رعب جھاڑتے، اور بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے سنا ہے: "ہم میڈیا سے ہیں!”
بھئی میڈیا سے ہو تو کیا قانون توڑو گے؟ بدتمیزی کرو گے؟ جھگڑا کرو گے؟ کیا میڈیا تمہیں سارے اختیارات دے چکا ہے؟
یہ رویہ صرف میڈیا نہیں، تمام معزز پیشوں کے چہرے پر تھپڑ ہے۔
سچ یہ ہے کہ سڑک پر "میڈیا” لکھوا کر قانون شکنی کرنا، یا "ایڈوکیٹ” کی پلیٹ لگا کر پولیس کو آنکھیں دکھانا — انسانیت نہیں، جہالت ہے؛ بلکہ درندگی ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے اداروں کو بدنام کیا، عوام کو مشتعل کیا، اور عزت دار پیشوں کو مشکوک بنا دیا۔
یہ جو پلیٹ ہم گاڑی پر چپکاتے ہیں، کہیں ہمارے اصل کردار سے زیادہ طاقتور نہ ہو جائے۔ کیونکہ اگر ہماری شناخت صرف ایک دھندلا سا لفظ ہے — "میڈیا” — اور ہمارے عمل میں روشنی نہیں، پھر ہم اندھیرے کے پجاری ہیں، علم کے نہیں۔