سعودی عرب کے دلچسپ سماجی اور ثقافتی رنگ

چند برس قبل ایک کورین شہری موبینی جو ڈیڑھ برس قبل سعودی عرب بغرض سیاحت آئے تھے، اس کو یہاں کا ماحول، سماج اور ثقافت اس قدر پسند آئیں کہ تبوک میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ انہوں نے یہاں مقامی باشندوں سے دوستی کر لی اور یہاں رہنے والے شہریوں سے میل جول بڑھا کر سعودی ثقافت کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موبینی نے کہا کہ "وہ سیاحت کے لیے تقریباً ڈیڑھ برس قبل آئے تھے، کہا مجھے بعض سعودی دوستوں نے سیر و سیاحت کے لیے بلایا تھا لیکن اب مجھے یہاں کی زندگی اس قدر اچھی لگی ہے کہ تب سے اب تک تبوک میں ہی رہ رہا ہوں اور یہاں سے جانے کا دل نہیں کر رہا”۔

کورین شہری کا کہنا ہے کہ "مجھے سعودی عرب اپنا دوسرا گھر لگ رہا ہے۔ میں یہاں ہونے والے میلوں میں شرکت کر رہا ہوں تبوک میں اونٹوں کا میلہ دیکھا جو مجھے بہت اچھا لگا”۔

کورین شہری نے مزید بتایا کہ "وہ مقامی پروگراموں میں شرکت کسی روک ٹوک کے بغیر کرتے ہیں اور انہیں کہیں بھی آنے جانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ مجھے یہاں کے ثقافتی پروگراموں میں حصہ لینا بہت اچھا لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں میں اونٹوں کا "مقابلہ حسن” بھی دیکھنے گیا تھا یہ ایک منفرد تجربہ تھا”۔

کورین شہری نے مزید بتایا کہ "یہاں میں نے مختلف قسم کے اونٹ دیکھے ہیں۔ یہاں کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ مجھے مملکت کے بارے میں بہت کچھ مزید دیکھنا اور جاننا ہے میں چاہتا ہوں کہ اس ملک کی ثقافت اور معاشرت میں موجود دلچسپ پہلوؤں کو اپنے طور پر دریافت کر سکوں”۔

کسی بھی معاشرے کا اصل حسن اور کشش اس کے ثقافتی رنگوں اور سماجی اقدار میں نمایاں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کی ثقافت اس کی تاریخ، مذہب اور تہذیبی روایات کی بدولت بے حد بھرپور اور متنوع واقع ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی ثقافت اسلامی روایات اور دیہاتی (قبائلی) طرز زندگی میں گہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، حالانکہ حالیہ برسوں میں جدید طرز زندگی کے اثرات بھی کافی نمایاں ہوئے ہیں۔ حالیہ عالمی مزاج، رجحان اور رویوں نے مغربی معاشروں کو تنہائی، آزادی اور بے زاری کی طرف لے گئے ہیں جو انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے اب وہاں لوگ ایسے معاشروں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں جہاں انہیں خلوص، گرم جوشی، وابستگی اور مہمان نوازی جیسی خوبیوں کا تجربہ ہو سکیں۔ آئیے اسی تناظر میں سعودی عرب کی ثقافت و معاشرت کے چند نمایاں پہلوؤں کو لطیف سے اشارے کرتے ہیں:

اسلام:

اسلام سعودی عرب کا ریاستی مذہب ہے اور یہ ملک اسلام کے ساتھ اپنے اقدار مزاج اور رویوں کی سطح پر جڑا ہوا ہے۔ روزمرہ کی زندگی کا اسلامی طریقوں اور اقدار سے گہرا تعلق ہے، جس میں دن کے پانچ وقت کی اذان و نماز، اسلامی قوانین کا نفاذ، روایتی رسوم و رواج کی پابندی، رمضان المبارک کے روزے، حج کا اہتمام اور عیدین منانے کے لیے تعطیلات کی پابندی شامل ہیں۔

خاندانی نظام:

سعودی معاشرہ خاندانی اور سماجی ڈھانچے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ خاندان انتہائی قابل احترام ہوتا ہے اور توسیع شدہ خاندان بھی اکثر ساتھ رہتے ہیں۔ گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے جو اہم اختیار کا حامل ہوتا ہے اور فیصلے اکثر و بیشتر اجتماعی طور پر کیے جاتے ہیں۔ عوامی مقامات پر صنفی علیحدگی کا رواج عام ہے اور اداروں میں بھی مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ پورشنز قائم ہوتے ہیں۔

لباس:

سعودی مردوں کے لیے روایتی لباس "تھوبی” یا "ڈشداشا” ہوتا ہے، یہ ایک لمبا سفید لباس ہوتا ہے جب کہ خواتین روایتی طور پر عبایا، ڈھیلا ڈھالا سیاہ چادر اور حجاب کہلانے والا اسکارف پہنتی ہیں تاہم جدید فیشن کی طرف بتدریج رجحان بڑھ رہا ہے اور بہت سے سعودی مرد اور خواتین اب شہری علاقوں میں مغربی طرز کے لباس پہنتے ہیں۔

کھانا:

سعودی ماکولات ملک کے دیہاتی ورثے اور پڑوسی عرب ممالک سے ہم آہنگ ہیں۔ گوشت چاول، میمنا، چکن، اور مچھلی عام غذائیں ہیں اور مختلف پکوانوں میں اکثر خوشبودار جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کی آمیزش ہوتی ہے۔ روایتی سعودی کھانوں میں کبسہ (گوشت کے ساتھ مصالحہ دار چاول)، مطبق (بھرے ہوئے پیسٹری) اور ہری (گوشت اور گندم کا دلیہ) زیادہ مقبول اور عام استعمال میں ہوتے ہیں۔

مہمان نوازی:

سعودی معاشرہ اپنی مہمان نوازی اور سخاوت کے لیے جانا جاتا ہے۔ مہمانوں کو کھانا اور راحت پہنچانا ایک عام عمل ہے اور سعودی لوگ مہمانوں کے ساتھ اکثر بڑے احترام اور گرمجوشی سے پیش آتے ہیں۔ کھانا بانٹنا اور گفتگو میں مشغول ہونا سعودی مہمان نوازی کے اہم پہلو ہیں۔

روایتی فنون اور دستکاری:

سعودی عرب میں مختلف فنون اور دستکاری کی ایک بھرپور روایت موجود ہے۔ روایتی دستکاریوں میں بنائی، مٹی کے برتن، دھاتی کام اور قالین سازی شامل ہیں۔ یہ ملک اپنی خطاطی کے لیے بھی جانا جاتا ہے جسے ایک آرٹ فارم کے طور پر بہت ذیادہ پزیرائی حاصل ہے۔ سعودی عرب کی موسیقی میں اکثر روایتی آلات جیسے عود اور طبلہ وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔

ادب اور شاعری:

سعودی عرب میں شاعری کی ایک دیرینہ روایت موجود ہے، شاعر معاشرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روایتی شاعری بہادری، عزت اور محبت جیسے موضوعات پر مرکوز رہتی ہے۔ سعودی عرب کے ادب نے بھی ترقی کی ہے، حالیہ برسوں میں معاصر سعودی مصنفین کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔

یاد رکھیں سعودی عرب کی ثقافت یکساں نہیں ہے بلکہ مختلف رنگ و آہنگ لی ہوئی ہے۔ ملک کے اندر رائج رسم و رواج میں علاقائی تغیرات جا بجا دکھائے دیتے ہیں مزید برآں حالیہ سماجی اور اقتصادی اصلاحات نے سعودی عرب کے معاشرے میں کچھ تبدیلیاں بھی لائی ہیں خاص طور پر شہری علاقوں میں، کیونکہ یہ ملک اب عالمی توجہ اور اہمیت پانے کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور سماجی کشادگی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی معاشرہ اپنی اسلامی روایات اور ثقافتی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ سعودی عرب کے معاشرے کے چند اہم پہلو یہ ہیں:

سماجی ڈھانچہ:

سعودی سماجی ڈھانچے میں خاندان کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ یہاں خاندانی اکائی انتہائی قابل قدر ہے اور توسیع شدہ خاندان اکثر و بیشتر اکٹھے یا پھر قریب قریب رہتے ہیں۔ بزرگوں کا احترام اور مضبوط خاندانی تعلقات کو برقرار رکھنا اہم ثقافتی اقدار سمجھے جاتے ہیں۔

صنفی کردار:

سعودی معاشرے نے روایتی طور پر عوامی مقامات پر مردوں اور عورتوں کے درمیان صنفی کردار اور علیحدگی کو برقرار رکھا ہے تاہم حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کی کوششوں کے ساتھ کچھ تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جیسے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع میں بتدریج توسیع۔

سماجی آداب:

سعودی عرب میں سماجی تعاملات اسلامی رسم و رواج اور ثقافتی اصولوں کے تحت چلتے ہیں۔ بزرگوں کا احترام، مہمان نوازی اور شائستگی انتہائی قابل قدر ہیں۔ سلام کرنا رسمی ہے، لوگوں کے لیے خوش آمدید کا تبادلہ کرنا، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا اور ملتے یا رخصت ہوتے وقت دعائیہ کلمات ادا کرنا عام ہے۔ متواضع رویہ اور ساتر لباس خاص طور پر خواتین کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

قبائلی شناخت:

قبائلی وابستگیوں کو سعودی معاشرے میں خاص طور پر دیہاتی آبادیوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ قبائلی ورثہ اور شناخت کسی شخص کی سماجی حیثیت میں شامل ایک اہم عنصر ہے اور یہی چیز باہمی تعلقات اور کاروباری معاملات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سماجی درجہ بندی:

سعودی معاشرے کا ڈھانچہ حفظ مراتب کے اصول پر قائم ہے، جس میں افراد کی حیثیت خاندانی پس منظر، قبائلی وابستگیوں اور مذہبی علوم جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے لیے اختیار اور احترام پر زور دیا جاتا ہے۔

برادری اور یکجہتی:

سعودی عرب کے معاشرے میں برادری اور یکجہتی کے تصور کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ اکثر اجتماعی سرگرمیوں جیسے تہواروں، شادیوں اور مذہبی اجتماعات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ "واسطہ” کا تصور، جس سے مراد ذاتی رابطوں کو کام میں لانے کے لیے استعمال کرنا ہے، مروج ہے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں مثلاً کاروبار اور ملازمت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سعودی معاشرہ مسلسل ترقی کر رہا ہے اور حالیہ برسوں میں ملک کو جدید بنانے کے مقصد سے مختلف سماجی اور اقتصادی اصلاحات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد سماجی کشادگی کو فروغ دینا، معیشت کو متنوع بنانا مزید برآں نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا ہیں۔

ہر ثقافت اور معاشرت کچھ خاص مادی اور معنوی چیزوں سے نسبت رکھتی ہیں اس حوالے سے سعودی عرب کے معاشرے میں اونٹ، کھجور اور چائے کو خاص اہمیت حاصل ہے اور یہ چیزیں ملک کی ثقافت اور تاریخی ورثے میں گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں ان کی اہمیت پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں:

اونٹ:

اونٹ طویل عرصے سے سعودی عرب کی ثقافت اور تاریخ کا لازمی حصہ رہا ہے۔ اونٹ تاریخی طور پر سخت صحرائی ماحول میں نقل و حمل، تجارت اور خوراک کے لیے ضروری ہے۔ اونٹ طویل فاصلے کے سفر کے ساتھ ساتھ صحرا میں ساز و سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہ نہ صرف دودھ، گوشت اور کھالوں کے لیے ایک بڑا ذریعہ رہا ہے بلکہ عزت اور دولت کی علامت بھی ہے۔ اگرچہ جدید نقل و حمل کے ذرائع نے اونٹوں پر انحصار کم کر دیا ہیں لیکن وہ اب بھی علامتی اہمیت رکھتے ہیں اور روایتی تہواروں اور تقریبات میں اونٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔

کھجوریں:

سعودی عرب میں کھجور ایک اہم غذا ہے اور اس خطے میں صدیوں سے کاشت کی جا رہی ہے۔ کھجور کا درخت جزیرہ نما عرب کی خشک آب و ہوا کے مطابق ہے اور پھل کی شکل میں غذائیت کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ سعودی گھرانوں میں کھجوریں روزانہ کھائی جاتی ہیں اور اکثر مہمانوں کو مہمان نوازی کے طور پر پیش بھی کی جاتی ہیں۔ یہ مذہبی اور ثقافتی تقریبات کا بھی ایک لازمی حصہ ہے جیسا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں، جہاں انہیں روایتی طور پر روزہ افطار کرنے کے لیے کھایا جاتا ہے۔

چائے:

چائے، خاص طور پر عربی چائے جیسے عربی میں”شائے” کہا جاتا ہے سعودی عرب میں ایک مقبول مشروب ہے اور سماجی تقریبات اور مہمان نوازی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ عربی چائے عام طور پر کالی چائے کی پتیوں کو الائچی اور بعض اوقات دیگر مصالحہ جات کے ساتھ پیس کر بنائی جاتی ہے۔ اسے اکثر چینی کے ساتھ میٹھا کیا جاتا ہے اور شیشے کے پیالوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ چائے عام طور پر مہمانوں کو خوش آمدید کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہے مثلاً خاندانی اجتماعات، کاروباری ملاقاتیں اور مختلف تفریحی مواقع پر۔ یہ عام روایتی سعودی کھانوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔

ہمیں اگر عالمی توجہ مطلوب ہے تو ضروری ہے کہ مقامی رنگوں اور قدروں کو نمایاں ہونے کا راستہ دیں۔ سعودی عرب نے تیزی سے اپنے ہاں جدت اور قدامت کے خوبصورت امتزاج پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ امتزاج عالمی توجہ اور مقامی ترقی میں اہم کردار نبھائے گا۔ سعودی معاشرے میں اونٹ، کھجور اور چائے کی اہمیت خطے کے ماحول، ورثے اور روایتی طرز زندگی کے ساتھ گہرے تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی عملی اہمیت میں کمی و بیشی ہو سکتی ہے لیکن ان کی ثقافتی علامتوں کے طور پر ہمیشہ قدر کی جاتی ہے جو مہمان نوازی، گرم جوشی اور منفرد ثقافتی شناخت کی نمائندگی کرتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے