ہم جو دیکھنا چاہتے ہیں، وہی دیکھتے ہیں” یہ خیال فلسفے میں ایک گہرے موضوع کی عکاسی کرتا ہے، اور اس بات کو کئی سو سالوں سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ افلاطون کے "غار کی مثال” میں یہی تصور پیش کیا گیا ہے، جہاں قیدی ایک تاریک غار میں جکڑے ہوئے ہیں اور سامنے صرف ایک دیوار ہے۔ ان کے پیچھے ایک آگ جل رہی ہے اور اس کے قریب کچھ پتھارے ہیں جو اس دیوار پر سائے بناتے ہیں۔ ان قیدیوں کو کبھی باہر کی دنیا کا پتا نہیں چلتا، اس لیے وہ ان سائے کو ہی حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ یہ حقیقت کو دیکھنے کی ناکامی نہ صرف علم کی حدود کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ یہ انسان کے اپنی خواہشات اور تصورات کے ذریعے حقیقت کو چننے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
ہم سب اپنی زندگیوں میں کچھ نہ کچھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔ ہم اکثر حقیقت کو قبول کرنے کی بجائے وہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں سکون دے، جو ہماری خواہشات سے ہم آہنگ ہو۔ یہی حقیقت ہے کہ زندگی میں تکلیف کا وجود ہے، مگر ہم اس حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم خوشی کی تلاش میں گم ہو جاتے ہیں اور دنیا کی اصل حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں، کہ ہر انسان کسی نہ کسی طرح تکلیف اور آزمائش میں گرفتار ہے۔ انسان اپنی زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے ڈرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اکثر خواہشات کی دھند میں رہ کر حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے، اور یہ عمل خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
نیٹشے نے اپنے فلسفے میں کہا تھا، "زندہ رہنا تکلیف میں مبتلا ہونا ہے، اور بقا کا مطلب تکلیف میں کچھ معنی تلاش کرنا ہے”۔ انسانوں کی زندگی کی حقیقت یہی ہے کہ ہمیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اس کے باوجود ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ فرینز کافکا کا "دی میٹامورفوسس” اس کا بہترین نمونہ ہے، جس میں پروٹگونسٹ گریگور سامسا ایک دن ایک عجب کیڑے میں بدل جاتا ہے اور پوری دنیا سے الگ ہو جاتا ہے۔ گریگور کا تجربہ ایک ایسا کمرہ ہے جہاں وہ اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ کبھی بھی اس حقیقت کو نہیں جان پاتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ یہی کافکا کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت ہے — انسان کا اس دُنیا میں موجود کسی معقول حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہونا۔ اور یہی ہمارے لیے ایک کٹھن حقیقت ہے کہ ہم جتنی کوشش کریں، تکلیف ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
نیٹشے نے زندگی کے اس تکلیف دہ پہلو کو قبول کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس تکلیف سے بچ نہیں سکتے، اس کے بجائے ہمیں اس کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرنا چاہیے۔ نیٹشے کا "اوبر مین” یا "برتر انسان” وہ ہے جو تمام حدود کو عبور کر کے حقیقت کا سامنا کرتا ہے اور اپنے اندر سے زندگی کے معنی تخلیق کرتا ہے۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے دکھوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ عمل ایک طرح کی دھوکہ دہی بن جاتا ہے۔ لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حقیقی ہے، بلکہ وہ اپنے ذہن کی بنائی ہوئی حقیقتوں میں جیتے ہیں۔ یہی رویہ ہمیں اس بات کی طرف لے جاتا ہے کہ ہم اپنے مذہبی عقائد کو بھی اپنے ہی سلیقے سے دیکھتے ہیں۔ ہر فرد اپنے مذہب کو صحیح سمجھتا ہے اور باقی دنیا کو غلط قرار دیتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں، وہی سچ سمجھتے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے لیے ایک مخصوص سچائی کی حد مقرر کر رکھی ہوتی ہے، اور یہ نہیں سوچتے کہ دوسرے عقائد میں بھی سچائی ہو سکتی ہے۔
افلاطون کی غار کی مثال بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسانوں کا جھکاؤ ہمیشہ اپنی محدود حقیقتوں کی طرف ہوتا ہے، اور وہ کبھی اس سے آگے نہیں دیکھ پاتے۔ اسی طرح لوگ اپنے عقائد پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور باقی عقائد کو غلط سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ اپنی زندگیوں میں اتنے جکڑے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے دوسری دنیاوں یا دوسرے عقائد کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہم اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ باقی دنیا کے لوگ بھی اپنے مذہبی عقائد میں اتنے ہی پختہ ہوتے ہیں جتنا ہم اپنے عقائد پر۔
کافکا کی "دی ٹرائل” میں جوزف کے کردار کی مثال دینی چاہیے، جو ایک عذاب میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اپنی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ کبھی بھی اس سے باہر نہیں نکل پاتا۔ اس کا یہ تجربہ بھی ہماری مذہبی حالت کا عکاس ہے، جہاں ہم اپنی مذہبی عقائد سے جکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور دیگر عقائد کو ایک غلط حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کی "غار کی مثال” ہی ہے، جہاں انسان اپنے عقائد کو سچ سمجھتا ہے اور کسی دوسری حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ زندگی کی حقیقت میں تکلیف ہے اور ہمارے عقائد بھی محض ہماری نظر سے بنے ہوئے سائے ہیں، تو ہم حقیقت کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی محدود حقیقتوں سے باہر نکل کر زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نیٹشے کا فلسفہ یہی کہتا ہے کہ ہمیں تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہی تکلیف ہمیں اپنی زندگی کے معنی دینے کی طاقت دے گی۔ اگر ہم ان سائے کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف بڑھیں، تو ہمیں سچائی کا پتا چل سکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔