چُھپا ہُوا اِنسان

وَہ ایک عام سا آدَمی تھا۔ ایک کِسان، جو مہاراشٹرا کے شَہر ناگپُور کے مَضافات میں کھیتوں میں کام کرتا، بھینسیں چَراتا، کُنؤیں سے پانی نِکالتا اور بیوی بَچّوں کا پیٹ پالتا۔ نام تھا سَنجو بھاگَت۔

لَمبا چَوڑا، ہَنسْتا مُسکراتا، اپنے کام سے کام رَکھنے والا۔ مَگر اُس کے قَریبی لوگ کہتے تھے، کبھی کبھی اُس کی ہَنسی میں کوئی بوجھ سا مَحسُوس ہوتا، جَیسے کسی غَیر مَرئی چیز کا سایا اُس پر چھایا ہو۔

زِندگی ایک مَعْمُول کے سانچے میں رواں تھی، مَگر وقت کے ساتھ ایک چیز بَدلنے لَگی ۔ اُس کا پیٹ۔

شُرُوع میں سَمْجھا گیا، شایَد کھانے پینے کا مَعمَلہ ہے، کوئی گیس، کوئی نِظامِ ہَضم کا مسئلہ۔ پِھر سوچا شایَد ٹیومَر ہے۔ سَنجو کو خود بھی لگتا جَیسے پیٹ میں کوئی چیز آہِستہ آہِستہ جگہ بَنا رہی ہو۔ کبھی کبھی وہ سوتے سوتے ہَڑبَڑا کر اُٹھ جاتا۔ کہتا، "ایسا لگتا ہے جَیسے میرے پیٹ میں کچھ ہِلتا ہے… جَیسے کوئی کَروٹ لیتا ہے… جَیسے سانس لیتا ہے!”
گاؤں کے حَکِیم نے ہَنسْتے ہُوئے کہا، "تُمہیں خواب آ رہے ہیں… یا کوئی جِن چِمٹ گیا ہے؟”

مَگر وقت کے ساتھ اُس کا پیٹ بَڑھتا رہا — ایک حامِلَہ عَورَت جیسا — مَگر وہ مرد تھا!

کَپڑے تَنگ ہونے لگے، کَمَر دَرد بَڑھنے لگا، چلنا مُشکِل، سانس لینا دُوبھر۔

پِھر ایک دِن وہ لَمحہ آیا، جَب وہ بِستر سے اُٹھ ہی نہیں سَکا۔ سانس جَیسے کسی نے مُٹّھی میں بَند کر دی ہو۔ زَبان خُشْک، آنکھوں میں خَوف، پَسینے میں شَرابُور جِسم۔

بیوی نے چِلا کر پڑوسیوں کو بُلایا۔ سَنجو کو فَوراً اسپتال پُہنچایا گیا۔

ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ "کیا یہ شَخص مرد ہے؟ یا۔۔۔؟”
اَلٹراساؤنڈ، ایکس رے، سی ٹی اِسکین۔ سب کچھ دھُندلا۔ پیٹ میں ایک بَڑا سایا، مَگر ٹیومَر جیسا ساکِت نہیں، جَیسے کوئی وُجُود ہو… جَیسے کوئی مُتحَرِّک پَرچھائی، جَیسے کوئی زِندہ چیز۔

فَیصلہ ہُؤا: فَوری آپَرِیشَن ہوگا۔

آپَرِیشَن تھیٹر کی روشنی میں جَب ڈاکٹر کے ہاتھ نے پہلا چیرا لگایا، تو ایک عجِیب، گَہری، کائی نُما بَدبُو باہَر نِکلی۔ نَرس نے مُنہ پر ہاتھ رَکھ لِیا۔ سَرجَن نے ہُونٹ بھینچ لِیے۔
جَیسے سب پر سَکتہ طاری ہو گیا ہو۔
کیا تھا اُس کے پیٹ میں؟

اِندر سے جو چیز نِکلی، وہ کوئی رَسُولی یا ٹیومَر نہ تھا۔ وہ ایک اِنسان تھا لِیکِن نیم جاں، بے رُوح — بازُو، ٹانگیں، ناخُن، بال، ہَڈِّیاں — ایک جُڑواں بھائی، جو رَحِمِ مادَر میں سَنجو کے اَندر ہی رہ گیا تھا۔ وقت کے ساتھ اُس نے اُس کا خُون پِیا، جِسم سے غذا لی، اَندر ہی اَندر پروان چَڑھتا رہا۔ ایک خاموش جان لیوا مَکِین۔
مَگر زِندہ نہیں تھا — اَدھُورا، نیم جاں اور بے رُوح۔

یہ وہ لَمحہ تھا، جَب پورے اسپتال پر ایک سَناٹا چھا گیا۔ ڈاکٹرز کئی لَمحے ہَتھیار رَکھ کر خاموش کھَڑے رہے۔ مَریض کا پیٹ کھُلا تھا، اور اُس میں سے ایک نامُکمَّل اِنسان بَرآمد ہو چُکا تھا۔

دُنیا اُسے "فِیٹس اِن فِیٹو” کہتی ہے — دُنیا میں ایسے کیسز سَو سے بھی کم تَعداد میں رِپورٹ ہُوئے ہیں۔

یَعنی ایک اِنسان کے اَندر چُھپا ہُوا اِنسان — ایک اِنتہائی نایاب، خَوفناک، نَفْسِیاتی اور جِسمانی پیچِیدگی۔مَگر گاؤں کے لوگ کچھ اور ہی کہتے تھے۔

"یہ اُس کا سایا تھا۔ شایَد کسی جَنم کا قَرض تھا۔”
"یا شایَد ماں کی کُوکھ میں ایک نے دُوسرے کو کھا لِیا تھا۔”

"کیا پَتا، اَندر والا جُڑواں اُس کی جگہ لینا چاہتا ہو، اور باہَر والا جِیت گیا ہو!”

جَب ڈاکٹروں نے وہ "بھائی” باہَر نِکالا، تو سَنجو خاموش رہا۔
اُس نے پَلَٹ کر نہیں دیکھا، بَس ایک جُملہ کہا:
"مُجھے پَتا نہیں تھا کہ میں اپنی ماں کی کُوکھ نہیں، بلکہ اپنے بھائی کی قَبر ہوں۔”

یہ ایک دِل دہلا دینے والا قِصّہ ہے، لِیکِن ہم میں سے کِتنے اِس کیفیت میں زِندہ ہیں؟ جو جِسمانی یا ذہنی تَکلیف کو بَرسوں نَظرانداز کرتے ہیں؟

کِتنے لوگ سَماج کے طَعنوں، خُود کی لاپَرواہی، یا قِسمت کے بھَروسے پر زِندگی گُزار دیتے ہیں؟

سَنجو بھاگَت کو اگر وقت پر عِلاج مِل جاتا، تو شایَد اُس کا بَچپن، جَوانی، اور جِسم اِتنے سال تَک ایک بوجھ کے ساتھ نہ گُزرتے۔

زِندگی میں جو کچھ ہمیں اَندر سے کھا رہا ہو — چاہے وہ کوئی ناسُور ہو، کوئی خَوف ہو، کوئی ٹُوٹی یاد ہو، یا کوئی چُھپا ہُوا دُکھ ۔۔۔

اگر اُسے وقت پر نہ نِکالا جائے، تو وہ کبھی بھائی بَن کر، کبھی بَیماری بَن کر، اور کبھی تَنہائی بَن کر ہمیں اَندر ہی اَندر کھاتا رہتا ہے۔

سَنجو بھاگت ایک مَریض نہیں تھا، وہ ایک سَبَق تھا —
ایک خاموش چیخ، جو بتاتی ہے کہ ہر سَچ باہَر آنا چاہتا ہے۔۔۔

چاہے وہ کسی بھی شَکل میں آپ کے اَندر پوشِیدہ ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے