سفر منزل پہ بھی جاری رہے گا (تیسرا حصہ)

ایک عجب سی ہلچل تھی۔ دوستوں کا ہجوم، گویا موسمِ بہار کی پہلی بارش کے بعد زمین پر اُگ آیا ہو۔سبزے کے مانند، ایک ایک کر کے نمودار ہو رہا تھا۔ کچھ وقت کے پابند تھے، تو کچھ وعدۂ فردا کے اسیر۔ کوئی ٹوپی درست کر رہا تھا، تو کوئی بیگ کی زِپ۔ قہقہوں کا بازار گرم تھا اور آنکھوں میں تجسس کی چمک۔ جو دوست پیچھے رہ گئے تھے، ان کا انتظار بھی تھا اور اندر ہی اندر ایک اضطراب بھی کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ بالآخر جب احباب کی معقول تعداد، یعنی قریباً تیس کے لگ بھگ، دوست میرن جانی کی ابتدائی پوائنٹ پر اکٹھے ہو گئے ، تو آفاق بھائی نے دست دعا بلند کیا ۔

"یا اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان بنا،” ان قدرتی مناظر کے ذریعے ہمارے دلوں کو روشن فرما، اور ہمیں تیری صنعتِ قدرت کا سچا معترف کر دے۔”

دعا میں ایک روحانیت تھی، اور لمحہ بھر کو سب کی نظریں بلند آسمان کی طرف اور دل جھکے ہوئے محسوس ہوئے۔ اس روحانی کیفیت کے بعد، ہم نے اپنے سفر کی تصویری ابتدا کی۔ سب نے کیمرے سنبھال لیے، کوئی سنگل سیلفی میں مشغول، تو کوئی گروپ فوٹو میں مصروف۔ گویا پہاڑ پر قدم رکھنے سے پہلے ہم نے سفر کے نقش سوشل میڈیا پر ثبت کر لیے۔

چلنے لگے تو ابتدائی راستہ کچھ یوں تھا جیسے قدرت خود ہمیں بانہوں میں لے کر اوپر لے جا رہی ہو۔ دائیں بائیں سرسبز، گھنے جنگلات، اور درمیان میں سیڑھیاں جو ہر قدم پر حوصلہ افزا معلوم ہوتی تھیں۔ لیکن یہ سب مناظر بس چند لمحوں کے مہمان نکلے۔ دس منٹ کی چڑھائی کے بعد سیڑھیاں یوں غائب ہو گئیں جیسے صوبائی بجٹ میں وفاقی بجٹ کا دیا گیا ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس غائب ہو گیا ہے۔ ایک پتھریلا، ٹیڑھا میڑھا، ڈھلوان راستہ تھا جو نہ صرف جسم بلکہ دل و دماغ کی برداشت بھی آزما رہا تھا۔

یہاں گپ شپ ہی وہ واحد سہارا تھی جس سے تھکن کی شدت کم محسوس ہو رہی تھی۔ "یار، تجھے یاد ہے وہ کالج والا سین؟” "ہاہا، ہاں وہ جب تُو پرنسپل کے سامنے گانا گا بیٹھا تھا!”
قہقہوں نے قدموں کو سبک رفتار کر دیا، اور ہم ٹوٹے پھوٹے راستے پر بھی خوش مزاجی کے ساتھ چلے جا رہے تھے۔ لیکن ماحول! اوہ وہ فطرت کی رعنائیوں سے بنا ماحول… جیسے ہر پتے پر روشنی کا بوسہ، ہر شاخ پر ہوا کا راگ، اور ہر منظر میں ایک خواب کی سی چمک۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ میری زندگی میں شاید ہی کبھی ایسا نظارہ میری آنکھوں نے کیا ہو۔

راستے میں ہمیں کچھ لوگ ملے جو ٹاپ سے نیچے آ رہے تھے۔ ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا، "بھائی، ابھی کتنا فاصلہ باقی ہے؟”
جواب آیا، "دو گھنٹے لگیں گے اگر آرام سے چلو۔”

یہ سنتے ہی آفاق بھائی کا چہرہ یوں بجھ گیا جیسے موبائل کی بیٹری آخری سانسیں لے رہی ہو۔ فرمانے لگے، "یار، اگر دو گھنٹے اوپر جانے میں لگیں گے تو واپسی اندھیرے میں ہوگی… مشکل ہے۔”
لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ خود سب سے آگے تھے! وہی شخص جو ہمت ہار چکا تھا، رہنمائی کا بیڑا اٹھائے آگے بڑھ رہا تھا۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا، "آفاق بھائی، اگر نہیں جانا تو آپ رک جائیں، ہم تو جائیں گے!” مگر ان کے چہرے پر ایک عجیب سی فاتحانہ مسکراہٹ تھی، جیسے دیکھنا چاہتے ہوں کہ کون اُن کے ساتھ چلتا ہے اور کون سچ میں ہمت والا ہے۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم اُس مقام پر پہنچے جسے ہم نے ازراہِ محبت "میرن جانی کی مڈ پوائنٹ” قرار دیا۔ وہیں کچھ دیر کے لیے سستا لیا، کھانا کھایا، پانی پیا، اور طبعیت میں تازگی کی ایک خفیف لہر دوڑ گئی۔ دوستوں نے یہاں بھی تصویریں لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا — کوئی ٹوپی سنوار کر، تو کوئی پہاڑ کی چوٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔ میں نے بھی اپنے فون (اور جی ہاں، میرے عزیز iPhone) سے چند نایاب لمحے قید کر لیے۔

اتنے میں ایک گھوڑے والا آ نکلا۔ اُس نے مجھے دیکھتے ہی جیسے اپنی سیلز پچ شروع کر دی، "بھائی جی، آپ سے نہیں ہوگا یہ، راستہ لمبا ہے۔”
میں نے دل میں کہا، واہ رے اندازِ تخاطب!
پوچھا: "کتنے لوگے اوپر لے جانے کے؟”
جواب: "تین ہزار روپے۔”

تین ہزار سن کر میری سانس رک گئی۔ ارے بھائی، اتنے میں تو مری سے لاہور تک میں مل جاتی ہے۔ میں نے انکار کر دیا، لیکن کچھ دوست تصویر کے شوق میں اُس پر بیٹھ گئے۔ پوچھا، "تصویر ہی کے کتنے لوگے؟”
فرمایا، "پانچ سو!”

میں نے کہا، "ارے بھائی، ہم گھوڑے پر بیٹھ کر تصویر لیں یا گھوڑا ہم پر بیٹھ جائے، قیمت تو ایک سی ہے!”
پھر بھی، کچھ دوستوں نے اسے راضی کیا یا کچھ بخشش دے دی، یہ معلوم نہ ہو سکا۔ لیکن گھوڑا، تصویر، اور پانچ سو کا سودا خوب چلا۔

میں بھی تصویر کے لیے گھوڑے پر بیٹھ گیا۔ لیکن سچ بتاؤں، جوں ہی گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا، دل میں ہچکولے شروع ہو گئے۔ کہیں گر نہ جاؤں، کہیں تصویر کے بجائے اسپتال کا بل نہ آ جائے۔ تصویر کھنچوا کر فوراً نیچے اترا — وہی عافیت کا احساس جو بندہ لمبی تقریر سے بچ نکلنے پر محسوس کرتا ہے۔

اسی مقام پر ایک دوست نے ایم پی تھری آن کیا، اور شروع ہو گیا پشتون رقص — اتن۔ دوستوں نے دائرہ بنایا، روایتی دُھن پر رقص کیا، اور میں… میں بس منظر دیکھتا رہا۔پہاڑی راستے نے آنا” فانا” حجرے کا روپ دھار لیا۔چند بار کوشش کی کہ قدم قدم سے ملا سکوں، مگر ناکام رہا۔ شاید کوئی سکھانے والا ہوتا تو کچھ بن جاتا، مگر اس دن بس تماشائی بنے رہنا ہی نصیب تھا۔

یہ سب ہو رہا تھا اور ادھر آفاق بھائی، اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ، پھر سے ہمت ہار بیٹھے۔ بولے، "یار، اب آگے نہیں جا سکتے!”
لیکن کچھ اور دوست تھے، جو عزم اور یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے، "ہم تو ٹاپ پر

گویا
ہم خاک بسر گرد سفر ڈھونڈ رہے ہیں
اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ڈھونڈ رہے ہیں
دل سے مشورہ کیا۔تو دل نے والہانہ انداز میں کہا
"ضرور جائیں گے۔”
جاری۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے