اسلام آباد (31 جولائی 2025) ؛ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور شدہ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025 پر مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی مشیر اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اس قانون کو "امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984” کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے صدرِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بل پر دستخط نہ کریں۔
ڈاکٹر پراچہ کا کہنا تھا کہ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے نام پر قادیانیوں کو سہولت دینے کی ایک منظم کوشش ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بل کی شق 35 اس قانون کو دیگر تمام قوانین پر فوقیت دیتی ہے، جس سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو براہ راست متاثر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بل کی دفعہ 2، جزو ایف، جی اور بالخصوص ایچ میں اقلیت کی تعریف کے لیے آئین کے آرٹیکل 260 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف موجود ہے۔ ان کے مطابق اس تعریف کی رو سے قادیانی اور لاہوری گروہ کو آئینی اقلیت قرار دے کر انہیں آرٹیکل 19، 20 اور 25 کے تحت مذہبی، اظہار رائے اور مساوی شہری حقوق دیے جا سکتے ہیں، جبکہ قادیانی خود کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔
ڈاکٹر پراچہ نے دعویٰ کیا کہ اس بل کے ذریعے “اسلامیانِ پاکستان کے بنیادی عقائد پر حملہ” کیا گیا ہے اور قادیانیوں کو مذہبی اقلیت کے طور پر تسلیم کر کے آئینی اور قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے، جو کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص، آئینی تقاضوں اور عوامی جذبات کے منافی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے اس امر پر بھی تنقید کی کہ کمیشن کو عدالتی اختیارات (شق 21)، مکمل مالی خودمختاری، اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ براہِ راست روابط کی اجازت دی گئی ہے، جس سے اس کے فیصلوں پر بین الاقوامی دباؤ کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ ماضی میں بننے والے قومی کمیشنز، جیسے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، خواتین و اطفال، بھی ملکی مفاد کے بجائے بیرونی ایجنڈوں کے زیر اثر رہے ہیں، اور نئے اقلیتی کمیشن کا ڈھانچہ بھی اسی طرز پر استوار کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے صدر مملکت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قانون کی منظوری نہ دیں، جبکہ عوام اور دینی طبقات سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قانون کو مکمل طور پر مسترد کریں۔