بین الاقوامی دفاعی صنعتی میلہ IDEF-2025

بین الاقوامی دفاعی صنعتی میلہ (IDEF-2025) استنبول، ترکیہ میں 22 جولائی 2025 سے شروع ہوا، اور 27 جولائی تک جاری رہا، یہ میلہ جدید عسکری ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون اور جیو اسٹریٹجک شراکت داری کا عالمی مرکز ثابت ہوا۔ اس میلے میں دنیا بھر سے سینئر عسکری حکام، دفاعی ماہرین، صنعتی ادارے اور سرکاری نمائندگان شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا، نشانِ امتیاز (ملٹری) نے کی، جن کی شرکت نے پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو بین الاقوامی منظرنامے پر اجاگر کیا۔

پاکستانی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عسکری عہدے دار، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے نہ صرف میلے میں شرکت کی بلکہ ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر دوست ممالک کے وزارت دفاع کے حکام اور عسکری سربراہان سے بامعنی ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ ملاقاتیں باہمی عسکری تعاون، انسداد دہشت گردی، دفاعی صنعت میں اشتراک اور خطے کی صورت حال پر مبنی تھیں۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ترکیہ کے وزیر دفاع جنرل (ریٹائرڈ) یاسر گولر، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل میٹن گوراک، آذربائیجان کے وزیر دفاع کرنل جنرل ذاکر حسنوف اور نائب وزیر دفاع گربانوف اگل سلیم اوگلو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی حکمتِ عملی، سیکیورٹی چیلنجز اور مشترکہ مشقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں کے دوران تمام فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک حالات میں عسکری اشتراک اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ چئیرمن جوائنٹ چیف آف سٹاف اور پاکستان کے عسکری و دفاعی حکام مرکز نگاہ بنے رہے۔

پاکستانی وفد کی پیشہ ورانہ وقار، تدبر اور عسکری فہم و فراست کو عالمی فورمز پر سراہا گیا۔ جے ایف-17 تھنڈر طیارے، جدید میزائل سسٹمز اور پاکستان کی مقامی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں نے شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے رکھی۔ متعدد نمائندوں نے GIDS اور PAC کامرہ کے اسٹالز پر خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستانی عسکری ساز و سامان کی فعالیت، درستگی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پر ماہرین نے مثبت تبصرے کیے۔ IDEF-2025 میں پاکستان نہ صرف ایک شریک بلکہ ایک متاثر کن قوت کے طور پر ابھرا، جس نے دنیا کو اپنی خود انحصاری، ٹیکنالوجیکل صلاحیت اور امن پسندی کا واضح پیغام دیا۔
پاکستانی دفاعی ادارے GIDS (گلوبل انڈسٹریل ڈیفنس سولیوشنز) نے بھی IDEF-2025 میں بھرپور شرکت کی، جہاں اس نے پاکستان کی مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سسٹمز کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔ GIDS کا اسٹال بھی ترکیہ کی اس عالمی نمائش میں نمایاں مرکزِ توجہ رہا، جہاں مختلف ممالک کے عسکری وفود نے اس کا دورہ کیا اور GIDS کے انجینئرز و نمائندگان سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ نمائش کے دوران GIDS کے CEO، اسد کمال نے متعدد اہم بین الاقوامی وفود کو پاکستان کے نیول اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیش کے نیول چیف ایڈمرل ایم ناظم الحسن بھی IDEF-2025 میں شریک ہوئے اور غیررسمی سطح پر پاکستانی دفاعی مصنوعات میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا، بالخصوص ان نیول سلوشنز میں جن پر GIDS کام کر رہا ہے۔ اگرچہ اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ان کی GIDS کے اسٹال پر باضابطہ ملاقات ہوئی، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا کے تناظر میں بنگلہ دیش جیسے قریبی ممالک کا پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لینا ہی پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

گلوبل انڈسٹریل ڈیفنس سولیوشنز GIDS کا کردار عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صنعت کو خود انحصاری، اختراعی تحقیق و ترقی اور برآمدی صلاحیت کے تناظر میں بہت اہم رہا۔ IDEF جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر شرکت نہ صرف پاکستان کے عسکری وقار کو بڑھاتی ہے بلکہ ممکنہ بین الاقوامی معاہدات اور شراکت داریوں کی راہ بھی ہموار کر رہی ہے۔

آسیلسان ترکیہ کی معروف دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، جو جدید الیکٹرانک، کمیونیکیشن، اور وارفیئر سسٹمز تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت میں اس کمپنی نے IDEF-2025 جیسے اس اہم موقع پر متعدد جدید نظام متعارف کرائے جن میں EJDERHA، KORAL 200، GÖKTAN، TURAN اور GÜRZ شامل ہیں۔ یہ سسٹمز مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

الیکٹرانک وارفیئر کی نئی جہتیں KORAL 200 اور EJDERHA جیسے جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کا مظاہرہ کیا گیا جو الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم میں مکمل کنٹرول کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یہ نظام جدید ترین Electronic Support اور Electronic Attack کی صلاحیتوں سے لیس ہیں۔

آئی ڈی ای ایف IDEF-2025 کے دوران ASELSAN اور ROKETSAN نے AESA seeker اور GÖKBORA ایئر ٹو ایئر میزائل کے ڈیٹا لنک کے لیے اشتراکی معاہدہ بھی کیا۔ اس معاہدے کا مقصد ترکیہ کی مقامی میزائل صلاحیتوں کو عالمی سطح پر مستحکم کرتا ہے۔

بحری دفاع کی نئی جہتوں CENK 350-N (4D AESA Radar)، DEEP EYEZ Autonomous Underwater Vehicle اور GÖKSUR Vertical Launch System جیسے جدید نیول سسٹمز نے نمائش کو چار چاند لگا دیے۔ یہ ترکیہ کی سمندری دفاعی صلاحیتوں میں غیرمعمولی اضافہ کی علامت ہیں۔

ترکیہ کی معروف دفاعی کمپنی BAYKAR نے کورین ایئر کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا، جو ایشیائی خطے میں عسکری تکنیکی تبادلے اور دفاعی تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔

آسیلسان ASELSAN نے KARTAL-3 نظام متعارف کرایا جو ڈرونز کی شناخت اور نیوٹرلائزیشن کے لیے جدید صلاحیتوں سے لیس ہے۔ یہ نظام ترکیہ کی فوجی قوت کو جدید میدانِ جنگ میں ایک نمایاں برتری دے گا۔ ترکیہ نے یوروفائٹر ٹائیفون طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عندیہ دیا ہے جو اس کی فضائی برتری کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔

اٹلی کی نائب ڈائریکٹر آف نیشنل آرمامنٹس ڈاکٹر ماریا لوئیسا رککارڈی نے بھی اپنے وفد کے ہمراہ شرکت کی۔ آسیلسان ASELSAN نے تقریباً کئی ملین ڈالرز کے معاہدے کیے جن میں الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، UAV کنٹرول سسٹمز اور مارٹر الائنمنٹ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ معاہدے 2026 سے 2029 کے دوران مکمل کیے جائیں گے۔

جدید میزائل ٹیکنالوجی میں ROKETSAN نے EREN نامی نظام پیش کیا جو زمین اور فضا دونوں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سسٹم میدان جنگ میں فوری کنٹرول اور فضائی برتری کا ضامن ہے۔ آئی ڈی ای ایف IDEF-2025 ایک ایسی عالمی نمائش ثابت ہوئی جس نے نہ صرف عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں ترکیہ، پاکستان اور کئی دیگر ممالک کی ایک دوسرے پہ برتری کو نمایاں کیا بلکہ دنیا بھر کے دفاعی ماہرین، پالیسی سازوں اور عسکری اداروں کو قریب لا کر عالمی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کیے۔ پاکستان کی اعلیٰ سطحی شرکت، بالخصوص جنرل ساحر شمشاد مرزا کی سرگرم انٹری، لب و لہجہ ، دو ٹوک اقر واضح گفت گو نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان بین الاقوامی دفاعی منظرنامے کا ایک سنجیدہ اور فعال شراکت دار ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی عسکری سفارتکاری کو ایک اور اہم سنگِ میل اس وقت ملا جب آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ بیجنگ میں انہوں نے چینی نائب صدر، وزیر خارجہ اور پیپلز لبریشن آرمی کی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی سلامتی، سی پیک، اور دفاعی تعاون جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ چینی قیادت نے پاکستانی افواج کو جنوبی ایشیا میں امن کا ضامن قرار دیا، جبکہ دفاعی اداروں کے درمیان انسداد دہشت گردی، تربیت، اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک پر اتفاق کیا گیا۔ PLA ہیڈکوارٹرز آمد پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، جو دونوں ممالک کے مابین دیرینہ عسکری اعتماد کی علامت ہے۔

پاکستان اور چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں استحکام، خودمختاری اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ اس دورے نے پاکستان کی دفاعی سفارتکاری کو نہ صرف تقویت دی بلکہ IDEF-2025 جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی موجودگی کو مزید معنویت بخشی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے