یہ جو کہا جاتا ہے کہ "اَعمالُکُم عُمالُکُم” یعنی جیسے تم ہوگے ویسے تمہارے بڑے ہوں گے، اس میں دو باتیں قابلِ غور ہیں۔ پہلی یہ کہ جیسے تم ہوگے ویسے تمہارے بڑے ہوں گے، اس سے مراد یہ نہیں کہ جیسے تمہارے چمڑے ہوں ویسے تمہارے حکمرانوں کے چمڑے ہوں گے، بلکہ اس سے مراد رویے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عوام کے رویے مثبت اور بااصول ہوں تو ان پر بننے والے حکمران بھی مثبت اور بااصول ہوں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر تم بظاہر تو انسان ہو مگر حقیقت میں انسانوں والے رویے نہ رکھتے ہو تو ایسی صورت میں تمہارے حکمران بھی بظاہر تو حکمران ہوں گے مگر حقیقت میں حکمران نہیں ہوں گے، یعنی وہ حکمرانی والے رویوں سے خالی ہوں گے، جو کہ عدل اور انصاف ہیں۔
اب آتے ہیں اپنے حالات کی طرف۔ ہمارے ہاں فارم 45 اور فارم 47 کی بات کی جاتی ہے، جو کہ بالکل درست ہے کہ اس بنیاد پر جو ہمارے حکمران بنے ہیں، انہیں اصولی طور پر حکمران بننے کا حق حاصل نہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو اصولی طور پر سیاست سے بالکل الگ رہنا چاہیے، یہ بھی بالکل درست بات ہے۔
مگر کیا ہم نے کبھی خود یہ سوچا ہے کہ حکمرانوں کے انتخاب میں ہم خود کتنے بااصول واقع ہوئے ہیں؟
کیا ہم نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ جسے میں حکمران بنانے جا رہا ہوں، وہ کس کردار کا شخص ہے؟
کیا وہ اس لائق ہے کہ میں قوم کی امانتیں اس کے سپرد کروں؟
کیا اس کے کردار، علم، فہم، اخلاص، معاملہ فہمی، دانشمندی اور ماضی کو میں نے پرکھا ہے، جو اس کی اہلیت کی گواہی دیتا ہو؟
کیا برادری، پارٹی، قوم یا کسی ایک شخص کی بنیاد پر کسی کو قوم کی امانتیں سپرد کرنا کوئی بااصول رویہ ہے؟
کیا کسی نااہل کو محض اس بنیاد پر قوم کی امانتیں حوالے کرنا کہ اسے فلاں پارٹی یا فلاں صاحب نے ٹکٹ دیا ہے، بااصول عمل ہے؟
ظاہر ہے کہ ہم مجموعی طور پر اس حوالے سے بالکل بھی بااصول واقع نہیں ہوئے۔ اس لیے فارم 45 اور 47 کی بات کرنے سے پہلے ہمیں اپنے رویوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم ہو اور اسٹیبلشمنٹ اپنے رویوں پر نظرثانی کرے تو ہمیں بھی اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ اس سے میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو جائز سمجھتا ہوں، بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے بےدخل کرنے کے لیے ہمیں بھی اصولی سیاست کی طرف آنا ہوگا۔
آخر میں ایک ضمنی بات عرض ہے کہ بعض حضرات جب "اَعمالُکُم عُمالُکُم” والی بات سنتے ہیں تو اس سے عجیب قسم کا مطلب نکالتے ہیں، اور اس عجیب و نامعقول مطلب کو بنیاد بنا کر مذہب کے خلاف مقدمہ قائم کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ اسلام "اَعمالُکُم عُمالُکُم” کہہ کر گویا حکمرانوں کے ظلم پر خاموش رہنے کا درس دیتا ہے، اور اس کے لیے مسلمانوں کی تاریخ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ فلاں صاحب یا قوم کے باشندوں نے ملوکیت کی حمایت کی تھی، اور یہ سب اسلام کی اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔
حالانکہ نہ تو ملوکیت اسلام کا نمائندہ تصور ہے اور نہ ہی "اَعمالُکُم عُمالُکُم” کی یہ تشریح درست ہے، جو اسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ گویا اسلام ظلم پر خاموش رہنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام کا درس اس ضمن میں یہ ہے کہ مصنوعی رویوں اور توقعات سے باہر آ کر عملی زندگی کے حقائق کے مطابق خود کو بدلو۔ عملی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کی بہتری کے لیے تمہیں اپنی انفرادی زندگی میں بھی بہتر ہونا پڑے گا۔
یہ سوچ حقیقت کے خلاف ہے کہ تم انفرادی زندگی میں تو اپنی مرضی چلاؤ، کسی اصول کی پابندی نہ کرو، جو دل چاہے کرتے رہو، اور پھر توقع رکھو کہ اجتماعی زندگی بااصول ہوگی اور حکمران اپنی خواہشات کے بجائے اصولی رویے اپنائیں گے۔
اسلام کا ماننا یہ ہے کہ اجتماع افراد سے بنتا ہے، اس لیے اگر اجتماعی نظام کو درست کرنا چاہتے ہو تو انفرادی زندگی پر بھی نظرثانی کرنی ہوگی۔ اگر تم انفرادی طور پر درست نہیں ہوتے لیکن اجتماعی نظام کو درست دیکھنا چاہتے ہو تو یہ محض تمہاری خواہش تو ہوسکتی ہے مگر حقیقت نہیں۔
زندگی کے حقائق کو خواہشات سے مسخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تم اپنے عمل سے بہار لاؤ گے تو زندگی بہار بنے گی، اور اگر تمہارا رویہ خزاں کا ہوگا تو زندگی میں بہار دیکھنے کی تمنا محض خام خیالی ہوگی۔
اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں یوں بیان فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡؕ
(سورہ الرعد، آیت 11)
ترجمہ: "حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل لیتی۔”