تاریخ جن بنیادی عوامل کے تحت سفر کرتی ہے ان میں سے ممالک کا بننا اور ٹوٹنا بھی ایک مستقل تاریخی عمل ہے۔ وقت کا بہاؤ اور جبر بعض ممالک کے بننے اور بعض ممالک کے ٹوٹنے کے لیے جواز فراہم کر رہا ہے۔ بہت ساری چیزیں مل کر باہمی تعامل سے دنیا کے نقشے میں ایک نئی لکیر کھینچ لیتی ہیں، یوں تاریخ کو کروٹ بدلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک ملک بن جاتا ہے دوسرا ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک ہی واقعہ ایک فریق کے لیے کامیابی جبکہ دوسرے کے لیے ناکامی بن کر سامنے آجاتا ہے۔
ایک ملک بننے میں جو بنیادی اسباب کام کررہے ہیں ان میں سے ایک الگ شناخت، یکساں عقیدہ و نظریہ، مشترک آقدار و مفادات، متفقہ منزل، ایک جیسے جذبات، مماثل آرزوئیں، ایک تہذیب و ثقافت، مشترکہ دائرہ ہائے پسند و ناپسند، خیر و شر کے حوالے سے وحدت پر مبنی نقطہ نظر، بقاء و ارتقاء کو لاحق خطرات کے تدارک کا جذبہ، یہ اور اس طرح کی دوسری بے شمار چیزیں پہلے ذہنوں میں اٹھتی ہیں، پھر دلوں میں گھر کرتی ہیں، پھر زبانوں پہ آجاتی ہیں اور آخر میں جا کر تحریکیں شروع ہو جاتی ہیں، یہی چیزیں کسی بھی انسانی اکائی کو ایک الگ زمینی ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے ہر دم مائل بہ حرکت رکھتی ہے۔
بالکل یہی صورتحال قیام پاکستان کے وقت بھی پیش آیا۔ آٹھ سو سال تک ایک ہی سرزمین پر اکٹھے رہنے والی دو مختلف ملتیں ایک نہ بن سکی۔ دونوں اپنے الگ الگ طرز حیات کے ساتھ جی رہی تھیں۔ دونوں کے عقائد و نظریات، تہذیب و تمدن، غذا و غذائیت، رسم و رواج، زبان و ادب، مقصد و مدعا، رنگ و ڈھنگ غرض ہر معاملے میں دونوں کے درمیان ناقابل عبور فاصلے حائل تھے۔ دونوں کی جذبات میں ایک دوسرے کے لیے کوئی قبولیت تو درکنار الٹا نفرت بھری ہوئی تھی۔
دونوں بعض بنیادی حوالوں سے ایک دوسرے کیلیے اجنبی تھے وہ کمسٹری ہی موجود نہیں تھی جو دونوں کو ایک دوسرے کیلیے قابل قبول بنا دیں انہیں اسباب نے دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام چمکا دیا۔
قیام پاکستان کا واقعہ حالیہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور نہایت متاثر کن واقعہ ہے۔ یہ ایک ملت کے سینکڑوں برسوں پر محیط آرزوں، تشخص، جذبوں، کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ تھا اس واقعے میں وہ امکان موجود ہے کہ جس سے کروڑوں لوگوں کی زندگی و طرز زندگی، آقدار و اخلاق، علم و وجدان، تہذیب و ثقافت اور کردار و اعمال دنیا کے سامنے ایک بلند شان و شوکت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ جلوہ گر ہو اور انسانیت کی مجموعی فلاح و بہبود میں اس ملت کا ایک آزادانہ اور واضح کردار متعین ہو۔
تحریک پاکستان کی بنیادوں میں اسلامی شناخت، ملی جذبہ، الگ تہذیب و ثقافت، مسلمانوں کا خون جگر، اور چند مخلص قائدین کی محنت، اخلاص، جذبہ اور بصیرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی جو اجتماعی حالت تھی وہ قطعاً اس قابل نہیں تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے ایک بڑی اسلامی ریاست وجود میں آجائی گی۔ اس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی وہ نہایت پتلی اور نازک تھی، مسلمان اس وقت تعلیم میں پیچھے، معاش میں نیچھے، سماج میں ہلکے، مختلف فرقوں میں بٹے اور سیاسی طور پر دس پندرہ جھنڈوں تلے تقسیم ہو گئے تھے۔ اتحاد، اشتراک، طاقت اور نظم و ضبط سے کافی دور تھے۔ ایک دلچسپ امر یہ بھی بن گیا تھا کہ ہندوں سارے ایک قیادت پر متفق ہوگئے تھے جبکہ مسلمانوں نے بیس عالم بلند کئے۔ غرض مسلمان مشکل حالت میں تھے لیکن کچھ عالمی حالات(جنگ عظیم دوم) کچھ مقامی رویے(ہندوں کا مجموعی نفرت انگیز سلوک) اور کچھ مسلمانوں کے درینہ جذبات اور الگ تشخص کے ساتھ آللہ تعالی نے اپنا خصوصی فضل و کرم شامل کر کے مسلمانانِ بر صغیر کا ایک دیرینہ خواب تعبیر سے ہمکنار کیا۔
اب میں تین بنیادی نکات جو اصل میں میرے احساسات بھی ہیں آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔
آزادی پانے کے بعد جہاں تک مسلمانوں کی مجموعی حالت میں فرق کا حوالہ ہے اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ مسلمانوں کی حالت میں ہزار درجے بہتری آگئی ہے۔ آزادی، خود مختاری، وقار اور تحفظ کے جس درجے میں آج ہم رہ رہے ہیں متحدہ ہندوستان میں اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا آج 78 برس گزر جانے کے باوجود اگر ہندوستان میں موجود مسلمان شدید کسمپرسی اور عدم تحفظ کا شکار ہم روز دیکھ رہے ہیں تو ہمیں اپنے حالت پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر بجا لانا چاہیے۔ آزادی قوموں کی بقاء اور ارتقاء کیلیے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔
آج ہمارے سامنے جن ممالک کی آزادی عالمی طاقتوں کے ہاتھوں جس طرح یرغمال بنی ہے اور جس کے نتیجے میں جو تباہی اور بربادی روز دنیا دیکھ رہی ہے وہ ہر صاحب عقل کے سامنے عیاں ہے۔
جن لوگوں کو آزادی کی قدر و قیمت میں کوئی اشتباہ ہے وہ ضرور دنیا کے مقبوضہ ممالک کا نظارہ کریں اسے اپنی آزادی کی قدر آجائی گی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی اور فلاحی تصور میں بہتری کا جو معیار، امکان اور خاکہ پایا جاتا ہے، اس سے ہماری حالت ہزار درجے کمتر ہے، آج ہم ہندو کے دست برد سے تو محفوظ ہیں لیکن ہم باہم ایک دوسرے کیلیے حد درجہ خطرناک بن گئے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھوں اذیت اٹھانا روز کا معمول بن چکا ہے۔ آج ایک آزاد ملک میں رہنے کے باوجود ہم اگر امن، انصاف، استحکام، تحفظ، تعلیم، روزگار، توانائی، خوشحالی اور اگے بڑھنے کے مناسب امکانات سے محروم ہیں تو ہمیں یہ حقیقت دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں "مسئلہ” موجود ہے۔ جیسے حل کرنے کے لیے "عقل و عمل” سے من حیث القوم کام لینا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ ہم گزشتہ 78 برسوں سے بطور ایک ملت تو رہتے چلے آرہے ہیں لیکن ملی وحدت آج بھی توانا نہیں۔ ہمارے ذہنوں پر قومیتوں کا سایہ پڑ چکا ہے۔ ہم ایک ہونے کے باوجود ایک نہیں بن سکیں۔
پاکستانی ہونے سے ذیادہ فخر دوسرے بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں بے بنیاد قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں اور لوگوں نے ان غلط فہمیوں کو بخوشی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو ازسر نو سمجھنے سمجھانے کی کوششیں کرنی چائیے بخدا ہماری مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ہزاروں لاکھوں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ بات میں کسی خوش فہمی کی بنیاد پر نہیں اپنے بیس سالہ تجربے، مشاہدے اور استفادے کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔ ہم میں بے شمار بنیادی اقدار، تصورات، جذبات، اخلاقیات اور رد و قبول کے پیمانے بالکل یکساں طور پر موجود ہیں۔ ہمیں دور سے بیٹھ کر ایک دوسرے کے بارے میں لطیفے بنانے اور اندازے لگانے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب آکر سمجھنے سمجھانے کا مشق کرنا چاہیے۔ یقین کریں ہم ایک دوسرے کو بہتر پائیں گے۔
تیسری بات یہ کہ تحریک پاکستان کے وقت جو سب سے بڑی شکایت ہمیں ہندوں سے لاحق تھی وہ تھی نا انصافی۔ ہم بجا طور یہ سمجھ رہے تھے کہ ہندوں کا طرز عمل ہمارے ساتھ انصاف اور احترام پر مبنی نہیں۔ ناانصافی ہماری سب سے بڑی شکایت تھی اور انصاف ہی سب سے اہم منزل۔ آج آٹھ عشرے گزر جانے کے باوجود ہمارا معاشرہ انصاف کی نعمت سے محروم ہے۔
ہم اپنے رویوں، حقوق، فرائض، مراعات اور معاوضوں میں انصاف نہ لاسکیں۔ ہم غربت، جہالت، بیماریوں اور نفرت پر قابو نہ پاسکیں۔ ہم نظم و ضبط، صبر و تحمل اور شرافت و دیانت اپنے ہاں پیدا نہ کر سکیں۔ ہم محرومیوں پر شکایت کو بغاوت سمجھنے لگے ہیں، ملک بھر میں کروڑوں لوگ انصاف، تحفظ اور حقوق و مواقع سے محروم ہیں آخر ایسا کیوں ہے؟
یاد رکھنا چاہیے انصاف معاشروں کا رزق ہوتا ہے۔ معاشرے انصاف پا کر زندہ اور پائندہ رہتے ہیں۔ انصاف کے بغیر معاشرے اور ممالک تحلیل ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنا وجود اور جواز برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہ انصاف ہی ہے جو معاشرے میں باہمی اعتماد، اتحاد، خلوص، ہم آہنگی اور یکجہتی کو بحال رکھتا ہے۔ ہمیں من حیث القوم ہر چیز چھوڑ کر صرف اور صرف انصاف کو سینے سے لگانا ہوگا۔ یقین کریں ایسا کرنے سے ہم میں آگے بڑھنے کے لیے بے انتہا طاقت، اعتماد اور ہمت آجائی گی۔ ہمیں بھی طاقتور اور مضبوط اقوام کے صف میں جگہ مل جائی گی۔ ہمیں بس انصاف کو اپنا سب سے بڑا ہدف بنانا چاہیے اس کے علاوہ بہتری کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔