یہ ہو کیا رہا ہے۔ ۔ ؟

سونا میرے لیے کبھی آسان نہیں رہا۔ یا تو یہ میرے مزاج کا حصہ ہے یا خاندانی وراثت — نیند میرے پاس ویسے ہی دیر سے آتی ہے جیسے سرکاری فائل منظوری کے لیے۔
بقول عطاء اللہ عیسی خیلوی:
"شب فراق میں کی ہے میں نے نیند سے بات
اب تو کیوں نہیں آتی هے مجھ غریب کے پاس
تو ہنس کے بولی تو ہی بتا دے اے کمبخت
میں تیرے پاس رہوں یا تیرے نصیب کے پاس”

سونے کی خواہش دل میں رہ جاتی ہے، اور آنکھیں ایسی ہو جاتی ہیں جیسے کسی فلسفی کی ہوں—گہری، بوجھل۔
حسن زیدی صاحب نے بھی کیا ہی زبردست کہا تھا:
"آنکھیں آنسو بھری، بلکہ بوجھل گھنی
جیسے جھیلیں بھی ہوں، نرم سائے بھی ہوں
وہ تو کہیے، انہیں بھی ہنسی آ گئی
بچ گئے، ورنہ ہم ڈوبتے ڈوبتے…”
یہ شعر تو بس ویسے ہی یاد آ گیا۔
ہماری آنکھیں بالکل ایسی نہیں ہیں جن میں کوئی ڈوب سکے۔

گزشتہ رات ایک عجیب بات ہوئی، ایک کمال، ایک معجزہ رونما ہوا اور مجھے ساڑھے آٹھ نو بجے کے قریب ہی نیند آ گئی۔ اور ایسی شدید نیند جیسے کسی ساقی کی صحبت میں بیٹھا رہا ہوں۔ ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ ہی سو سکا تھا کہ موبائل فون نے ایسی چیخ ماری جیسے کوئی قرض خواہ دروازہ پیٹ رہا ہو۔ دیکھا تو امین صابر کا فون تھا۔
فون اٹھایا تو دوسری طرف سے اس کی مخصوص بھرائی ہوئی آواز آئی:
"سو رہے تھے کیا؟”
میں نے نیم مردہ لہجے میں کہا: "ہاں۔”
"چلو ٹھیک ہے، سو جاؤ۔” یہ کہہ کر موصوف نے فون بند کر دیا۔

میں چند لمحے موبائل کی اسکرین کو گھورتا رہا جیسے سب اسی کا قصور ہو۔ آنکھیں بند کیں اور نیند میں واپسی کی کوشش کی، پتہ نہیں سویا یا ابھی کوشش ہی کر رہا تھا کہ پھر موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔
اس بار بغیر دیکھے فون کان سے لگا لیا۔
"کیا کر رہے ہو؟”
"سو رہا تھا۔”
"اوہ اچھا… چلو ٹھیک ہے، سو جاؤ۔”
اور لائن پھر کاٹ دی گئی۔

میں کچھ دیر چھت کو گھورتا رہا۔ ڈاؤن سیلنگ میں مختلف ہیولے بنتے رہے اور پھر ایک بار میں سونے میں کامیاب ہو گیا۔
اس بار اندازہ نہ کر سکا کہ دو تین منٹ سویا یا زیادہ، نیچے والے پورشن سے بیگم صاحبہ کی کال آ گئی۔
چھوٹتے ہی حکم صادر فرمایا:
"صبح یاد سے سبزیاں اور مرغی لے آنا۔”
اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر فون بند۔
بیگم کی کال بھی جادو بھری ھوتی ھے
نہ سلام نہ حال احوال ۔۔۔
بس آواز وہ جادو سا جگاتی ھوئی آواز ۔ . . . . .

اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوں یا کسی شدید اکتاہٹ کا شکار۔
سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا، دو گھونٹ پیے، اور پھر پوری عاجزی، دلجمعی اور خشوع و خضوع کے ساتھ نیند کو منانے میں لگ گیا۔

پتہ نہیں کتنی دیر گزری تھی کہ موبائل پھر بج اٹھا — نہیں، اس بار تو لگا جیسے گھنٹی نہیں بجی بلکہ کسی نے گالی دے دی ہو۔
فون اٹھایا تو دوسری طرف وہی الیکٹریشن تھا جسے میں دن میں درجنوں بار فون کر چکا تھا اور موصوف نے ہر بار میرا نمبر نظرانداز فرمایا تھا۔
"مجھے معلوم ہے آپ رات دیر تک جاگتے ہیں، اسی لیے فون کر دیا… صبح نو بجے آ جاؤں؟”
میں نے شدید غصے کے باوجود بہت نرمی سے کہا: "ہاں، آ جانا۔”
اگلے دن صبح سے شام تک یہی سوچتا رہا کہ
آخر میں نے فون سائلنٹ کیوں نہ کیا؟

زندگی کی کچھ حقیقتیں بہت بے رحم ہوتی ہیں۔

جب سونا چاہو تو نیند نہیں آتی، اور جب نیند آ جائے تو کوئی سونے نہیں دیتا۔
جب کہیں نکلنے لگو تو مہمان آ دھمکتے ہیں۔
کپڑے استری کرنے لگو تو بجلی چلی جاتی ہے۔
جس دن گاڑی دھلوا کے لاتا ہوں اس دن بارش ہو جاتی ہے۔
جب صبح سویرے کہیں پہنچنا ہو تو نیند سے آنکھیں نہیں کھلتیں۔
اور جس دن دیر تک سونے کا ارادہ ہو، منہ اندھیرے آنکھ کھل جاتی ہے۔
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے فانی بدایونی نے میرے ھی بارے میں کہا تھا:

فانی، ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

آدھی رات کو سگریٹ کا پیکٹ کھولو تو اس میں ایک ہی سگریٹ پڑا ہوتا ہے۔
"تری تلاش میں نکلوں تجھے نہ پاؤں میں”
چائے بنانے لگو تو دودھ پھٹ جاتا ہے یا ختم ہو چکا ہوتا ہے اور اگر سب کچھ پورا ہو تو چائے ابل کر کیتلی سے باہر۔ ۔ ۔
وقار حمید خان کچھ کہے تو مذاق ھم کہیں تو ناراضگی۔
آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟
"کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا”

آپ ھی کچھ بتائیے ۔ ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے