میں کچھ لکھتا ہوں تو ہمارے بہت عزیز غضنفر بھائی، حمزہ فاروق اور راجہ عمران فوری لنگوٹ کس کر میدان میں آ جاتے ہیں۔۔ غضنفر بھائی کا تعلق ہمارے اٹک سے ہے مگر اب یہ بھی ہماری طرح اسلام آباد کے ہو کر رہ گئے ہیں۔۔ جب بھی میں کوئی پوسٹ لگاوں یا کوئی کالم لکھوں جس میں فرقہ عمرانیہ کے روحانی پیشوا بلکہ رحونیت والے پیشوا کا ذکر ہو تو یہ کہتے ہیں وہ بے چارہ تو جیل میں قید ہے آپ کو کیا کہہ رہا ہے، آپ مہنگائی پہ بات کیوں نہیں کرتے؟۔ حالانکہ اس سے وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے کہ وہ بے چارہ خاموشی سے کونے میں بیٹھا دہی کھا رہا ہے تمہارا کیا لے رہا ہے؟۔
میں ہمیشہ غضنفر بھائی سے یہی کہتا ہوں کہ وہ جو کونے میں بیٹھا دہی کھا رہا ہے وہ درحقیقت دہی نہیں کھا رہا بلکہ دیسی مرغ اور مٹن کھا رہا ہے۔۔ اور یہ سب کیا دھرا اسی کا ہے۔۔ یہاں جو مہنگائی ہے وہ بھی اسی مہاتما کی مہربانی ہے، ملک میں بے یقینی ہے وہ بھی ان کی ہی عنایت ہے۔۔۔ یہ جو ڈالر اچھلتا پھر رہا ہے وہ بھی ان کا کرم ہے۔۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو یہ بھی ان کی نوازش ہے۔۔
ہمارے درمیان بہت بحث ہوتی ہے، میں انہیں بتاتا ہوں کہ ڈالر سو روپے سے کچھ ہی اوپر تھا، اس وقت قیدی نمبر 420کو یہ تکلیف تھی کہ اسحاق ڈار نے ڈالر کو زبردستی روک رکھا ہے۔۔ وہ ڈالر جہاں رکا تھا اس سے پاکستان کا فائدہ تھا کیونکہ پاکستان کا امپورٹ بل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ سو روپے کا تھا تو پٹرول امپورٹ ہونے کے بعد یہاں سستا محسوس ہوتا تھا۔
کچھ زیادہ مصیبت ہوتی تھی تو ہمارا سٹیٹ بینک اسے سنبھال لیتا تھا، انہوں نے کمال مہربانی کی کہ سٹیٹ بینک کو آزاد اور خود مختار بنا دیا، سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر آئی ایم ایف کے ملازم کو لگایا گیا، ڈپٹی گورنر بھی وہیں سے تشریف لائے تھے۔۔ ڈالر کو ایسا آزاد کیا کہ وہ مادر پدر آزاد ہو گیا۔
یہاں جب ان سے مہنگائی کی بات کرتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ میں یہاں انڈے، ٹماٹر اور پیاز کا ریٹ بتانے کے لیے نہیں آیا ہوں۔۔ اس وقت جب پٹرول کی قیمت بڑھتی تھی تو وہ ملک کو مصیبت سے بچانے کا راستہ تھا۔۔ ان کے حمایتی کہتے تھے کہ پٹرول پانچ ہزار روپے فی لیٹر بھی ہو گیا تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اب ان حمایتیوں کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔۔ بے شک یہ عام آدمی پر بھاری ہے مگر موجودہ حکومت ان ہی شرائط پہ آگے بڑھ رہی ہے جو اسد عمر، عبد الحفیظ شیخ اور شوکت ترین آئی ایم ایف سے طے کر کے گئے تھے۔
اب تک کوئی ایک بات ایسی نہیں جس پر ان موصوف نے یوٹرن نہ لیا ہو۔۔ کہتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ ہوتا ہے تو سمجھو کہ حکمرانوں کی جیب میں اربوں روپے چلے گئے ہیں۔ کہتے تھے یہ حکمران پروٹوکول لیتے ہیں، بیس بیس گاڑیاں اسکواڈ میں چلتی ہیں جس پر اس قوم کے کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں جب خود وزیر اعظم بنے تو معلوم ہوا کہ یہ پروٹوکول نہیں بلکہ سیکورٹی ہوتی ہے اس لیے قافلے میں 20کے بجائے 30گاڑیاں لے جانا شروع کر دیں۔ کہتے تھے کہ حکمران اتنی مہنگی گاڑیوں میں پھرتے ہیں جبکہ ہالینڈ کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر آتا ہے، جب خود وزیر اعظم بنے تو 55روپے کلومیٹر خرچ کا ہیلی کاپٹر ایجاد کر لیا اور بنی گالا سے وزیر اعظم ہاوس کا سفر ہیلی کاپٹر پہ ہوتا تھا۔
یہ کہتے تھے قرض نہیں لوں گا، کسی سے مانگنے کی نوبت آئی تو خودکشی کو ترجیح دوں گا۔۔ مگر پھر آئی ایم ایف سے معاہدے ہونے اور کسی دوست ملک سے ملنے والے قرضے پیکج بن گئے، ان پیکجز کی منظوری پر وہ عوام کو مبارکباد دینا نہیں بھولتے تھے۔ وہ پینتیس پنکچر کا نعرہ لگا کر الیکشن کو مشکوک بناتے تھے اور پھر بعد میں کہتے تھے کہ وہ ایک سیاسی نعرہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں وزیر اعظم بنا تو بااختیار بنوں گا، وہ لوگ کمزور ہوتے ہیں جو بعد میں کہیں کہ میرے پاس اختیار نہیں تھا۔ اور جب گئے تو کہا کہ باجوہ سپر کنگ تھا سب اختیار اس کے پاس تھے۔ وہ کہتے تھے کہ فوج کے خلاف بات کرنا ملک دشمنی ہے اور ملک کو کمزور کرنے کے برابر ہے جب نکلے تو پھر فوج کے ادارے سے دشمنی ڈال لی اور پھر مذاکرات بھی اسی سے کرنے کے خواہشمند ہیں۔
وہ جب وزیر اعظم بنے تو انہیں خیال آیا کہ سبسڈی دینا قومی خزانے کو نقصان دیتا ہے مگر جب حکومت جاتی نظر آئی تو پٹرول اور بجلی کے نرخ پر سبسڈی دے کر گئے اور بتا کر گئے کہ چند ہفتوں میں ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔
وہ پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد سے ہٹائے گئے مگر اس کا الزام امریکا پر لگایا، کہا امریکا کون ہوتا ہے جو ہمیں حکم دے؟ ہم کوئی غلام ہیں؟۔ ایبسولوٹلی ناٹ کا نعرہ بھی دیا۔۔ ان کے ساتھی مگر کہتے رہے کہ ٹرمپ آئے گا تو فوری جیل کے دروازے کھلوائے گا۔۔ وہ بھی نہیں ہوا تو ان کے کرن، ارجن امریکا پہنچ گئے۔۔ وہ کہتے ہیں امریکا سے ہی امید ہے۔ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔
علیمہ خان آ کر اپنے بھائی کی جانب سے بات کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے کرن ارجن آئیں گے۔۔ پھر خبر آتی ہے کہ نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا قاسم اور سلیمان پاکستانی شہری ہیں۔۔ پھر کہتی ہیں کہ انہوں نے پاکستانی ویزہ کے لیے درخواست دے رکھی ہے، انہیں بتایا گیا کہ جب وہ پاکستانی شہری ہیں تو انہیں ویزہ کی ضرورت نہیں تو نئی بات سامنے آئی کہ ایک کا نائیکوپ کارڈ گم ہو گیا ہے دوسرے کا مل نہیں رہا۔۔ مجھے تو نہ ملنے اور گم ہونے میں فرق نہیں سمجھ آیا۔۔۔ غالباً وہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی دو چیزیں بہت اچھی ہیں ایک یادداشت اور دوسری انہیں یاد نہیں۔۔ بہرحال اگر آپ کو ایک کے نائیکوپ کارڈ گم جانے اور دوسرے کے نہ ملنے میں کوئی فرق سمجھ آئے تو بتائیے گا۔۔ مجھے تو سمجھ نہیں آیا۔۔