پولیس اور معاشرہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس معاشرے کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جبکہ معاشرہ پولیس کو عزت اور احترام سے سرفراز کر رہا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ معاشرے جہاں پولیس اور عوام باہمی اعتماد اور احترام کے گہرے رشتوں میں اچھی طرح منسلک ہو۔
ترقی یافتہ ممالک میں طویل وقت گزارنے والے بعض حضرات سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا ہے سب کے سب اس خیال میں متفق ہیں کہ وہاں پہ سماجی تحفظ میں پولیس کا ایک بنیادی اور تعمیری کردار ہوتا ہے جبکہ معاشرہ بھی نتیجتاً بھرپور احترام سے پولیس کے ساتھ پیش آرہا ہے اور نتیجتاً پولیس اور معاشرے میں ایک مثالی تعلق قائم ہے۔ وہاں پہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بے حد مانوس اور محترم ہیں نہ کہ اجنبی اور متنفر۔
اگر چہ پولیس کا نظام، تربیت، رویہ اور سلوک ملت پاکستان کے مجموعی مزاج، اقدار اور ضرورتوں سے ہم آہنگ قطعاً نہیں، یہی وجہ ہے کہ جرائم کے روک تھام اور ایک پرامن، محفوظ اور خوشگوار معاشرے کی تشکیل میں بے شمار مشکلات حائل ہیں۔ عام لوگ شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ جرائم روز افزوں ہیں، پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت کار موثر ہیں نہ ہی عوامی اعتماد کا مظہر۔
عام تاثر یہ ہے کہ پولیس کا عمومی رویہ غیر پیشہ ورانہ، غیر ذمہ دارانہ، غیر اخلاقی اور غیر سنجیدہ ہے اور یہ تاثر ٹوٹلی بے جا بھی نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر پولیس ڈیپارٹمنٹ قابلِ رشک بالکل نہیں لیکن پھر بھی پولیس سروس کو دین اور سماجی اقدار کی بدولت قابل ذکر تعداد میں ایسے افسران اور جوان میسر آئے ہیں کہ جن کا کردار اور اخلاق حقیقتاً قابلِ رشک ہیں۔ ایسے ہی افسران میں سے ایک میرے ماموں جان سید عبد الکلام (آغا جی) بھی شامل ہیں۔ جو 15 مارچ 2012ء کو علی الصبح پشاور میں دوران ڈیوٹی ایک خود کش حملے میں جام شہادت نوش کر کے خالق حقیقی سے جا ملے۔ بوقت شہادت آغا جی بطورِ ایس پی پشاور رولر خدمات انجام دے رہے تھے۔
شہید سید عبد الکلام 1954ء کو ضلع دیر کے علاقے میدان کے گاؤں کمبڑ میں ترمذی سادات کے معزز خاندان میں سید کمال جان کے ہاں پیدا ہوئے۔ سید کمال جان علاقے کے ایک معتبر اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے ان کے دامن کو گویا اللہ تعالیٰ نے عزت، ذہانت، ہمت اور اولاد سے اچھی طرح بھر دیا تھا۔ سید عبد الکلام سات بھائیوں میں سے دوسرے نمبر پر تھے ماشاءاللہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سماجی توقیر سے خوب سرفراز۔
مدت حیات چونکہ مقرر ہے اور ساتھ ہی ساتھ کسی مصلحت کے پیش نظر انسان کو اس سے لاعلم رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے انسان ہر چیز جان سکتا ہے لیکن موت و حیات کے فیصلے اس کے علم و عقل سے کلیتاً باہر ہیں۔ دنیا میں زندگی اور مدت زندگی ایسے راز ہیں جس کو آج تک کوئی انسان نہیں پا سکا۔ آج سات بھائیوں میں سے صرف ایک بقیدِ حیات ہے باقی سارے وفات پاچکے ہیں۔
سید عبد الکلام نے 1976ء کو تعلیم کی تکمیل پر پولیس سروس جوائن کیا اور 2012ء تک کئی اعزازات (جن میں سب سے بڑا اعزاز شہادت کا تھا) اپنے نام کر کے رب کائنات کے حضور پیش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے شہید آغا جی کو ایمان و یقین، عزم و ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت و معاملہ فہمی سے خوب نوازا تھا لہذا جہاں بھی فرائض انجام دیتے تو وہاں نہ صرف جرائم کے روک تھام میں، امن و امان بحال رکھنے میں بلکہ عوام کا دل جیتنے میں بھی پوری طرح کامیاب ہوتے۔ انہوں نے اپنے سروس کا طویل عرصہ سوات میں گزارا ہے جبکہ چترال، چارسدہ اور پشاور میں بھی خدمات انجام دئیے ہیں اس کے علاؤہ متعدد مرتبہ بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بن کر جنگ زدہ ممالک میں بھی قیام امن کے خاطر، گراں قدر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ایک انسان کی زندگی میں سب سے جوہری خوبی حوصلہ ہے۔ حوصلہ ہی وہ چیز ہے جس کے بل بوتے انسان زندگی کے امتحان میں کامیاب ہوتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے طفیل حضرت انسان دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دینے کا قابل ہوتا ہے۔ میں نے شہید آغا جی میں حوصلہ غیر معمولی مقدار اور معیار میں پایا تھا۔ حالات خواہ کیسے ہی پریشان کن کیوں نہ ہوں آغا جی کا حوصلہ ہر دم مضبوط رہتا اور انہیں اپنے جذبات اور احساسات پر کمال کی حد تک قابو حاصل تھا وہ ہر وقت پر جوش، پر امید اور پر عزم نظر آتا تھا۔ وہ سراپا ایک سپاہی تھا، وہ ہمہ وقت کام پر ہوتے، ان کا پیشہ ان کے لیے محض ڈیوٹی نہیں بلکہ ایک مشن بن گیا تھا جس سے وہ سرموں انحراف نہ کرتے۔ کیا دسترخوان، کیا جائے نماز، کیا تقریبات، کیا مجلسیں غرض ہر آن فرائض کی انجام دہی میں مگن رہتے۔ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں سماج دشمن عناصر، دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے خلاف بے شمار معرکے سر کئے ہیں اور ہر معرکے میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سرخرو ہو کر لوٹے ہیں۔ اپنے فرائض منصبی کو انہوں نے جس ایمانداری، خیر خواہی، ولولہ انگیزی، مہارت کاری اور خلوص قلب کے ساتھ انجام دئیے ہیں اس کی مثال وطن عزیز میں کمیاب ہے۔
شہید آغا جی علم کی محبت سے سرشار انسان تھا۔ وہ علم کو خیر اور ترقی کے لیے لازم یقین کرتے تھے۔ کتابیں، مباحثیں، غور و فکر، سمجھنے سمجھانے کا عمل اور عمومی شعور کی بلندی کو بے حد مرغوب رکھتے۔ وہ میرے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آتے جبکہ میرے دل میں بھی ان کے لیے بے حد احترام موجود تھا۔ میرے ساتھ وہ گھنٹوں علمی اور تاریخی موضوعات پر انتھک گفتگو کرتے تھے جس کے دوران ہمارے درمیان گوں اختلافی موضوعات بھی سر اٹھاتے لیکن مباحث بہر صورت ہموار انداز سے آگے بڑھتے ہوئے کسی نتیجے پر ضرور پہنچتے۔ ان کے بعض خیالات کا اگر چہ ہم کبھی قائل نہیں ہوئے لیکن ان کے وسیع مطالعے، جاندار تجزیے، غور طلب مباحث اور سنجیدہ نکات کے ضرور قائل ہوتے۔
آغا جی دوران سروس "کالام خان” کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ خاندان کے علاؤہ ہر جگہ اسی نام سے جانے جاتے تھے۔ کالام شہید مذہبی سیاست کے قائل نہیں تھے اور علماء کی سیاسی کردار کو بالکل درست نہیں سمجھتے تھے۔ وہ مذہب کو صرف ذاتی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ خیال کرتے تھے ان کے خیال میں مذہب کے سیاسی کردار کے سبب اہل مذہب کی توجہ اصلاح پر مرکوز نہیں رہتی جو کہ اصل میں دین کا بنیادی مقصود ہے جب کہ ہم الٹ طور پر یہ سمجھ رہے تھے کہ اصلاح کے لیے سب سے طاقتور ذریعہ ہی تو سیاست اور اقتدار ہے۔ اقتدار کے بغیر اصلاح کا مقصد حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ اقتدار نہایت اہم دائرہ عمل کا نام ہے۔ اسلام میں اس کی اہمیت کا اعتراف بتمام و کمال موجود ہے ہم اس خیال میں یکسو تھے کہ اقتدار کے غلط استعمال سے اگر بگاڑ پیدا ہو رہا ہے تو درست استعمال سے خیر، ترقی اور بہتری بھی آنا یقینی امر ہے۔ انصاف کا قیام اور ظلم کی روک تھام تو اقتدار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
آغا جی انسانوں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے تھے جو سب سے زیادہ علم دوست، فطرت دوست، انسان دوست اور اقدار پسند تھا۔ شہید ان معدودے چند افسران میں سے ایک تھے جو علم کو بے حد عزیز رکھتے تھے ان کے ساتھ بڑی تعداد میں کتب موجود تھیں جن سے نہ صرف خود استفادہ کرتے رہتے بلکہ لوگوں کو بھی بکثرت تحفے میں پیش کرتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تفسیر "تفہیم القرآن” کو بے حد مرغوب رکھتے تھے اور کئی لوگوں کو انہوں نے تفہیم القرآن بطورِ تحفہ پیش کیا تھا۔ خود مجھے مولانا محترم کی متعدد کتب عطا کئے تھے۔ ان کے ہاں کتابیں صرف سجاوٹ کے طور پر نہیں رکھی جاتی بلکہ باقاعدہ مطالعہ بھی کرتے رہتے ان کے محفلوں میں باقاعدگی سے علمی موضوعات زیر بحث آتے اور ایک رجحان ساز انداز میں بحث مباحثہ آگے بڑھاتے تھے۔ مجھے حیرت ہے کہ کس طرح مولانا مودودی رحمہ اللہ کے لیٹریچر پڑھنے کے بعد بھی ایک بندہ مذہب کے غیر سیاسی تصور پر راضی ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ہر بندے کی سوچ کا الگ الگ انداز ہوتا ہے جو کہ ممکنہ طور پر دوسروں کے لیے ناقابلِ فہم ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ان معاملات میں سے ایک ہے جو خدا اور انسان کے درمیان رازدارانہ طور پر پائے جاتے ہیں۔
شہید آغا جی سماجی طور پر بے حد سرگرم اور مخلص انسان تھے۔ میرے والد محترم اور شہید آغا جی دونوں ہم زلف، ہم مزاج اور درینہ دوست تھے۔ دونوں کے درمیان محبت اور احترام کا مضبوط تعلق قائم تھا۔ میرے والد محترم ان کو بے حد عزیز رکھتے تھے جبکہ شہید آغا جی بھی والد صاحب سے بے انتہا احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔ مرغیاں پالنے کا شوق بھی دونوں میں مشترک تھا۔ آغا جی میرے والد صاحب کو وقت بوقت اعلیٰ نسل کی مرغیاں تحفے کے طور پر پیش کرتے جیسے میرے والد محترم خوشی اور شکریے کے ساتھ قبول کرتے۔ آغا جی والد محترم کو تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ قریب تھے۔ ان کی شجاعت، نیک نامی اور ایمان داری ضرب المثل بن چکی تھی ان کا نام لے کر لوگ پولیس چوکیوں سے گزرتے وقت رعایتیں پاتے تھے۔ ہر کسی کو احترام سے نوازنا اور مقدور بھر سب کے کام آنا آغا جی کی زندگی میں وہ زبردست نیکی ہے جو بروز قیامت سب سے وزن دار ثابت ہوگی ان شاءاللہ۔
آغا جی کو فطرت سے بھی بے انتہا لگاؤ تھا۔ وہ قدرتی ماحول کے نہ صرف قدردان تھے بلکہ ہر آن اس کو بہتر اور محفوظ بنانے کے تگ و دو میں بھی رہتے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے نوع بہ نوع گھاس اور پودے لاکر اپنے گھر میں لگائے تھے۔ جہاں بھی وہ رہتے وہ جگہ خود بہ خود "جنت” سی بنتی چلی جاتی یعنی صاف ستھرا، سرسبز و شاداب، پر سکون اور اطمینان بخش۔ وہ اپنے اوقات کا ایک معقول حصہ ماحول کی نگہداشت میں صرف کرتا اور نتیجتاً خوشی اور راحت محسوس کرتا۔ ان کو پودوں، درختوں، زمین اور ماحول سے نہ صرف والہانہ محبت تھی بلکہ ان سے متعلق اچھا خاصہ علم بھی رکھتا تھا۔ ماحول سے ہم آغوشی اور پودوں کی تراش خراش ان کی زندگی میں واحد اور باقاعدہ تفریح تھی جس میں کوئی تعطل نہیں آتا تھا۔
میں اس خیال کا قائل ہوں کہ اختیار اور اخلاق کی باہمی آمیزش سے انسانی سماج کے لیے سب سے بڑی خیر اور بہتری جنم لیتی ہے جبکہ اختیار اور اخلاق کی باہم دوری سے انسانوں پر ہمیشہ مصیبتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اختیار اور اخلاق کو باہم قریب لے آئیں۔ تعلیم و تربیت، انتظام و انصرام اور باہمی سلوک میں ارادی سطح پر یہ مقصد پیش نظر رہنا چاہیے۔ مجھے امید ہے اختیار اور اخلاق کی آویزش سے جو نقصانات معاشرے کو پہنچتے ہیں اختیار اور اخلاق کی آمیزش سے ہی نقصان کا وہ دروازہ یقینی طور پر بند ہوگا۔ کالام شہید کی زندگی میں ہمیں اختیار اور اخلاق کا حسین امتزاج نظر آتا ہے اور اس امتزاج نے ان کی زندگی اور کردار دونوں کو خوبصورت اور دل آویز بنایا تھا۔
کالام شہید کے بچے ماشاءاللہ اعلی تعلیم یافتہ، مہذب، خوش اخلاق، حساس اور نیک خو ہیں۔ شہید کو اپنی گوں نا گوں مصروفیات نے کبھی بھی اپنے بچوں کے بہترین طور پر تعلیم و تربیت کے فریضے سے لاتعلق نہیں کیا۔ وہ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں جہاں جہاں بھی چلے جاتے اپنے بچوں کی تعلیم کو بنیادی ترجیحات میں رکھتے اور اس معاملے میں کسی "رعایت” کو قطعاً گوارا نہ کرتے حالانکہ ان کا ایک بیٹا ہمیشہ تعلیم کے معاملے میں کچھ نہ کچھ "رعایت” کا متمنی رہتا۔ بچوں کے ساتھ سلوک میں وہ جس طریقے کا روا دار تھا وہ "سختی میں نرمی اور نرمی میں سختی” والا طریقہ تھا اور اس کے نتائج گواہ ہیں کہ یہ نہایت کارامد طریقہ تھا جو انہوں نے کمال حکمت کے ساتھ اپنایا تھا۔
ہمیں یہ اعتراف بہر صورت کرنا پڑے گا کہ نائن الیون کے بعد والے بین الاقوامی حالات سے جنم لینے والے نتائج میں پاکستان کے اندر قیام امن کے خاطر پولیس کے آفیسرز اور جوانوں نے بے شمار قربانیاں دے کر معمول کی زندگی کو بحال کر دیا ہے ان قربانیوں کے نتیجے میں آج ہم وطن امن اور سکون کی فضا میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر چہ ملک کے بعض حصوں بالخصوص کے پی کے اور بلوچستان میں بدامنی اور کشیدگی کا سنگین مسئلہ عشروں سے درپیش ہے لیکن یہ مسئلہ خطے کے مجموعی حالات کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے محض پولیس کی خراب کارکردگی سے نہیں۔
ہماری دعا ہے کہ ملک میں مثالی امن، سکون اور تحفظ کی فضا قائم رہے تاکہ اذہان اور وسائل کا رخ فلاح و بہبود کی جانب ہو نہ کہ سیکورٹی خدشات کے نذر ہو لیکن مثالی فضا کے لیے قوم اور اداروں میں مثالی تعلقات کار لازم ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ پولیس فورس ایمانداری، مہارت کاری اور کامل خیر خواہی سے اپنے فرائض منصبی انجام دے گی اور نتیجتاً قومی عزت و احترام سے سرفراز ہوگی لیکن ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ پولیس قومی اعتماد اور تعاون کے بغیر مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔ عوامی اعتماد اور تعاون پولیس کو بہر صورت درکار ہوں گے جو کہ فراخ دلی سے مہیا کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔