پاکستان ٹوٹنے سے پہلے – بورے والا سے کومیلا — نشانِ حیدر: میجر طفیل شہید کو خراجِ عقیدت

یہ تحریر میرے لیے محض ایک مضمون نہیں، بلکہ ایک ذاتی اور قومی قرض کی ادائیگی ہے۔ میں نے بچپن میں اپنی ماں اور نانی جان سے میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کی کہانیاں سنی تھیں۔ میری ماں انہیں کومیلا میں ملی تھیں، جہاں میرے نانا اس وقت تعینات تھے۔

ان کی مسکراہٹ میں وقار اور آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی، جیسے فرض کی روشنی۔ اس بارے میں میں نے اپنے سویلین ماحول میں بارہا تعریفی کلمات سنے۔

ریلوے اسٹیشن کومیلا کی یاد اور میرے ماموں

یہ اسٹیشن اُس وقت مشرقی پاکستان میں فوجی آمد و رفت کے لیے ایک اہم مقام تھا، اور CMH جو مینہ متی کینٹ کو میلا میں تھا اس تک کا فاصلہ تقریباً 10 کلومیٹر بنتا ہے، میرے ماموں پروفیسر جاوید محسن ملک جنہوں نے اپنی تصنیف خیال رکھنا میں شہید میجر پر ایک مضمون بھی لکھا ہے اکثر سنایا کرتے کہ اگست 1958ء کے اس دن جب میجر طفیل کو محاذ سے زخمی حالت میں اسٹیشن سے ہسپتال منتقل کیا گیا تو خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

اُس وقت نہ موبائل تھا، نہ واٹس ایپ، نہ سوشل میڈیا، مگر محبت اور وفا کا پیغام گلی گلی خود بخود پہنچ جاتا تھا۔
بنگالی، غیر بنگالی سب اسٹیشن پر دوڑ آئے۔ آنکھوں میں آنسو، ہاتھوں میں دعائیں۔

یہ فاصلہ اُس دن زخمی ہیرو کے لیے طویل اور بھاری تھا، مگر ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔

پریوں کی کہانی سے زیادہ بہادروں کی کہانیاں مجھے مسحور کرتی تھیں۔ میں تخیّل کی آنکھ سے دیکھتی اس وقت اس اسٹیشن کا منظر — ایک زندہ یاد۔۔۔۔

منظر: شام کا وقت، بارش کی ہلکی بوندیں، اسٹیشن پر ہجوم

ریلوے ورکر (سانس پھولتے ہوئے): "میجر صاحب آ گئے…”
بزرگ (ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے): "اللہ تمہارا حافظ ہو، بیٹا…”
ایک نوجوان بنگالی سپاہی: "میجر صاحب، پورا محاذ آپ پہ فخر کرتا ہے!”
ہجوم سے ایک بنگالی عورت کی آواز ابھری:
"اللہ، اُناکے بچائیا راکھون”
(اللہ انہیں سلامت رکھے)

اسٹریچر پر لیٹے میجر طفیل ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سب کو سلام کرتے ہیں۔

لکشمی پور سیکٹر کی جنگ

اگست 1958ء میں لکشمی پور سیکٹر میں بھارتی فوج مسلسل پاکستانی حدود میں دراندازی کر رہی تھی۔ میجر طفیل محمد، جو اس وقت ایسٹ پاکستان رائفلز میں کمپنی کمانڈر تھے، نے اپنے جوانوں کے ساتھ رات کی تاریکی میں دشمن کے مضبوط مورچوں پر حملہ کیا۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں وہ سب سے آگے تھے۔ ایک گولی ان کے پیٹ میں لگی، لیکن انہوں نے ساتھیوں کو حکم دیا:
"حملہ جاری رکھو!”

ان کی قیادت میں دشمن کے کئی انڈین فوجی گرفتار ہوئے، اور یہ کارروائی پاکستان کی فوجی تاریخ میں سنہری باب بن گئی۔

آپریشن تھیٹر اور آخری سگریٹ

میرے ماموں کی روایت کے مطابق (اور یہ محض کہانی نہیں بلکہ ایک فیملی یادداشت ہے)، جب انہیں CMH کومیلا لایا گیا اور آپریشن تھیٹر میں پہنچایا جا رہا تھا، تو انہوں نے ڈاکٹر سے انگریزی میں کہا:
"ڈاکٹر صاحب، ایک سگریٹ پلا دیں… یہ میری آخری ہے۔”

(میرا تخیّل)
سرجن نے چونک کر کہا ہو گا:
"لیکن آپ کی حالت…”
میجر طفیل نے مسکرا کر جواب دیا ہو گا:
"حالت کو نہیں، فرض کو سوچا ہے۔ فرض پورا کر لیا… اب یہ سگریٹ میرا حق ہے۔”

وہ اپنی آخری سانس تک پُرعزم اور مسکراتے رہے۔

آخری الفاظ

آپریشن کے دوران ان کے ہونٹوں پر آخری جملے تھے:
"اللہ کا شکر ہے، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔”

یہ الفاظ نہ صرف وہاں موجود لوگوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک نصیحت ہیں۔

اعزاز و پہچان

ان کی عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کا دوسرا نشانِ حیدر دیا گیا۔ پی ٹی وی کی "نشانِ حیدر” سیریز میں ان پر بنائی گئی قسط آج بھی دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دیتی ہے۔

میجر طفیل محمد شہید کی عمر شہادت کے وقت 42 سال تھی۔ وہ 22 جولائی 1914ء کو بورے والا (اس وقت ضلع مونگھل سوترا، موجودہ ضلع وہاڑی، پنجاب) میں پیدا ہوئے، اور 7 اگست 1958ء کو لکشمی پور سیکٹر (سابق مشرقی پاکستان) میں جامِ شہادت نوش کیا۔

مشرقی پاکستانیوں کی محبت اور بعد کا خلا

یہ سچ ہے کہ مشرقی پاکستان میں لڑنے والے کئی ہیروز وقت کے ساتھ فراموش کر دیے گئے۔ جغرافیہ بدلا، سرحدیں بدل گئیں، لیکن قربانی کا رنگ نہیں بدلا۔ اُس دن کومیلا کے اسٹیشن پر موجود بنگالی اور غیر بنگالی سب رو رہے تھے، اس وقت وہ سب پاکستانی تھے۔ سب کی زبان پر یہی دعا تھی:
"اللہ، اُناکے بچائیا راکھون”
(اللہ انہیں سلامت رکھے)

مگر اللہ نے ان کے لیے جنت کا انتخاب کر رکھا تھا۔

میڈیا اور ترجیحات

افسوس ہے کہ کئی دہائیوں بعد بھی بڑے ٹی وی چینلز پر ان کا ذکر صرف ٹِکر یا کرالر کی صورت میں آتا ہے۔ وہی چینلز فیشن ڈیزائنرز اور فٹنس ٹرینرز کو گھنٹوں اپنے مارننگ شوز میں بلاتے ہیں، مگر دفاعِ وطن کے لیے جان دینے والوں کو پانچ منٹ دینے کی ہمت نہیں کرتے۔ سوال یہی ہے کہ: کیا ہم اپنی کہانی کے خود مالک ہیں یا کوئی اور طے کرتا ہے کہ ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے اور کیا نہیں؟

ایک دعا، ایک عہد

کاش کہ ہمارے بچے میجر طفیل شہید کو اسی محبت اور فخر سے یاد کریں جس محبت سے وہ کسی کرکٹر یا اداکار کو کرتے ہیں۔ کاش ہر اسکول، ہر ادارے اور ہر گھر میں ان کا ذکر ہو۔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
"আল্লাহ, উনাকে জান্নাতের উচা স্থান দিন۔ آمین۔”

یہ تحریر صرف خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ایک عہد بھی ہے — کہ ہم انہیں نہیں بھولیں گے، چاہے وہ بورے والا کے ہوں یا کومیلا کے محاذ کے، چاہے مٹی بدلے یا سرحد۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے