آج پشاور کی گلیوں میں ہلکی سی دھوپ بکھری تھی، جیسے کسی مصور نے کینوس پر سنہری رنگ کی ہلکی ہلکی لکیریں کھینچ دی ہوں۔ اسی صبح شہاب بھائی اور محترمہ روینہ ہارون کی عنایت سے ہمیں ایک نایاب موقع نصیب ہوا کہ شہر کے قلب میں واقع تاریخی کالی باری مندر کا وزٹ کریں۔ میرے ہمراہ شہاب بھائی کا پرانا، مگر بچھڑا ہوا دوست بلال افریدی بھی تھا، جسے میں خاص طور پر اس ملاقات کے لیے لے آیا تھا، تاکہ پرانی یاری کی گرد دھل سکے۔
مندر کے دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے ہم وقت کی دہلیز پار کر کے ماضی کی گلیوں میں آ نکلے ہوں۔ ستونوں پر کندہ کہانیاں، دیواروں کی خاموشی، اور فضا میں بسی صدیوں پرانی خوشبو—یہ سب کچھ دل کو ایک عجیب سا قرار دے رہا تھا۔ ایک ہندو میزبان نے نہایت دلنشین انداز میں مندر کی تاریخ اور ہر نقش و نگار کی کہانی سنائی۔
ہنسی کی بات یہ کہ شہاب بھائی نے رات ہی تاکید کی تھی کہ ایک بجے سے پہلے پہنچنا لازمی ہے، مگر ہم بیس منٹ تاخیر سے پہنچے، اور جب پہنچے تو معلوم ہوا کہ سرگرمی تو خیر دو بجے ہی شروع ہوگی۔ یوں قصور ہم پر بھی، اور ان پر بھی نہ ہم گنہگار، نہ وہ گنہگار، یا ہم دونوں ہی!
سرگرمی کا آغاز ہوا تو روینہ ہارون نے ہندو مذہب اور دیگر مذاہب کے درمیان پائے جانے والے فاصلے پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ بات نکلی تو پھر اس کے ذیل میں ہم سب کو پانچ گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہر گروپ کو ایک موضوع دیا گیا.
ہمارے اور دیگر مذاہب کے درمیان فاصلے اور نفرت کے اسباب کیا ہیں، اور انہیں کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟”
میرے گروپ میں ماریہ، فاطمہ، ھما اشفاق اور ایک ہندو بھائی شامل تھے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ماریہ اپنی خوش خطی کے باعث نوٹ لکھیں گی اور ہم سب مل کر تجاویز دیں گے۔ تجاویز میں کمی بیشی رہی، مگر گفتگو کا رنگ خوشگوار رہا۔ سب کی رائے تقریباً ایک ہی سمت جا رہی تھی: معاشرتی دباؤ، قانون کی کمزوری، اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں ہی اس فاصلے کی جڑ ہیں۔
حل کے طور پر بات اس نتیجے پر پہنچی کہ مکالمہ، باہمی ملاقاتیں، اور ایک دوسرے کے مذہب کو جاننے اور سمجھنے کی سنجیدہ کوشش ہی وہ پل ہیں جو فاصلے مٹا سکتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے، "محبت کی زبان سب دلوں میں بولی جاتی ہے”. ادب، اخلاق اور امن ہی ہمارے مشترکہ ورثے ہیں۔
سرگرمی کے اختتام پر شہاب بھائی کی جانب سے کیک اور ریفریشمنٹ کا اہتمام تھا۔ روینہ ہارون نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہال میں یہ سب ممنوع ہے، باہر صحن میں چلیں۔”
سو ہم نے صحن میں کیک کاٹا، لذت بھی لی اور ہنسی مذاق بھی کیا۔
بعد ازاں ہم سیدھے بلنہ ہٹ ہوٹل پہنچے، جہاں محفل کا رنگ اور گہرا ہوا۔ پرانی یادیں، نئی باتیں، اور علم و ادب پر طویل مکالمہ۔ میری ملاقات فاطمہ بہن سے ہوئی جو ایک ماہر نفسیات اور شاندار لکھاری ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر احساس ہوا کہ لفظوں کو تراشنا بھی ایک فن ہے جس میں محنت اور کتب بینی کا تڑکا ضروری ہے۔
آخر میں، اس بامعنی دن کا سہرا شہاب بھائی اور روینہ ہارون کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسا موقع فراہم کیا جس نے دل و دماغ پر دیرپا نقش چھوڑا۔ دعا ہے کہ آئندہ بھی ایسے پل نصیب ہوں، جہاں ہم مختلف مذاہب کے ساتھ بیٹھ کر سمجھ سکیں کہ آخرکار انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے