گزشتہ چند روز سے پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کے پروفائلز پر ایک طویل پیغام چسپاں نظر آ رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک یا میٹا کل سے "نئے قوانین” نافذ کرنے جا رہے ہیں، جن کے تحت صارفین کی ذاتی معلومات اور تصاویر کو اجازت کے بغیر استعمال کیا جا سکے گا۔ اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے یہ اسٹیٹس اپنے پروفائل پر کاپی پیسٹ نہ کیا تو یہ کمپنی آپ کے مواد کے استعمال کی اجازت یافتہ سمجھی جائے گی۔
یہ پیغام، جو بظاہر قانونی زبان اور سنجیدہ لہجے میں لکھا گیا ہے، دراصل کئی سال پرانی ایک انفارمیشن ہوکس (جھوٹی یا گمراہ کن خبر) کا نیا روپ ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا بھر میں فیس بک یوزرز مختلف ادوار میں یہی متن یا اس سے ملتا جلتا پیغام پوسٹ کرتے رہے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔
فیس بک کی پالیسیز کے مطابق، جب آپ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں تو آپ ان کے ٹرمز آف سروس (Terms of Service) کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان شرائط میں واضح طور پر درج ہے کہ آپ اپنی پوسٹس اور مواد کے مالک رہتے ہیں، لیکن فیس بک کو اس مواد کو پلیٹ فارم پر دکھانے اور شیئر کرنے کا محدود لائسنس دیتے ہیں۔ یہ اجازت آپ اسٹیٹس لگا کر یا نہ لگا کر تبدیل نہیں کر سکتے — اس کا انحصار صرف اور صرف کمپنی کی پالیسیز اور آپ کے اکاؤنٹ سیٹنگز پر ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس قسم کے پیغامات صارفین میں غیر ضروری خوف اور ابہام پیدا کرتے ہیں۔ یہ پیغامات وائرل اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ لوگ اپنی پرائیویسی کے حوالے سے حساس ہوتے ہیں اور قانونی اصطلاحات دیکھ کر فوراً اعتبار کر لیتے ہیں۔ لیکن حقیقی قانونی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ صارفین پلیٹ فارم کے پرائیویسی سیٹنگز کو اچھی طرح سمجھیں، دو طرفہ تصدیق (Two-Factor Authentication) جیسے فیچرز استعمال کریں، اور ہر اس لنک یا پوسٹ پر شک کریں جو کسی غیر مصدقہ ذرائع سے آئی ہو۔
اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی "اہم خبر” یا "قانونی نوٹیفکیشن” دیکھتے ہی اسے آگے بڑھانے کے بجائے پہلے اس کی تحقیق کریں۔ فیس بک یا کسی اور عالمی پلیٹ فارم کی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہمیشہ سرکاری نوٹس یا ای میل کے ذریعے آتی ہے، نہ کہ کاپی پیسٹ میسجز کے ذریعے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام حقیقت اور افسانے میں فرق کر سکیں، اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔ بصورت دیگر، ہم وقت اور توانائی انہی جھوٹے الرٹس پر ضائع کرتے رہیں گے جو کسی عالمی سازش سے زیادہ، ہماری لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔