آج کا مسلمان ایک فکری تضاد اور عملی انحراف کی تصویر بن چکا ہے۔ وہ زبان سے اللہ، رسول ﷺ اور اسلام کا اقرار تو کرتا ہے، خود کو فخر سے مسلمان کہتا ہے، مگر جب اس کی عملی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے جیسے اس کا خدا سے کوئی رشتہ نہیں۔ دہریت صرف یہ نہیں کہ کوئی خدا کے وجود کا انکار کرے، بلکہ دہریت کی ایک اور خطرناک شکل یہ ہے کہ انسان خدا کو ماننے کا دعویٰ کرے لیکن اس کی زندگی میں خدا کی مرضی، خوف اور جوابدہی کا کوئی تصور نہ ہو۔ آج کے بہت سے مسلمان اسی قسم کی عملی دہریت کا شکار ہیں۔ وہ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، کبھی کبھار حج و عمرہ بھی کرتے ہیں، مگر ان کی سوچ، ان کا کردار اور ان کے فیصلے ایسے ہوتے ہیں جیسے انہیں خدا کے حضور پیش نہیں ہونا۔ ان کی عبادات رسمی ہو چکی ہیں، ان کا دل خدا کے تصور سے خالی اور ان کا عمل دنیا کے تابع ہو چکا ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں۔ ایک تاجر جو اپنی دکان پر "ماشاء اللہ” اور "یا اللہ” کی تختیاں لگاتا ہے، مگر گاہک کو دھوکہ دیتا ہے، ناپ تول میں کمی کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، وہ زبان سے تو اللہ کو یاد کرتا ہے مگر دل سے نہیں مانتا۔ ایک نوجوان جو سوشل میڈیا پر اسلامی پوسٹیں بھی شیئر کرتا ہے، مگر ساتھ ہی ایسی تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کرتا ہے جو بے حیائی اور خودنمائی کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہ درحقیقت اس گمان میں ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا — گویا خدا کا مشاہدہ اس کے ذہن سے محو ہو چکا ہے۔ ایسے ہی وہ لوگ جو نماز پڑھنے کے باوجود دوسروں کی غیبت کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے یا دیتے ہیں، ان کے اعمال اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا، صرف زبانوں پر ہے۔
قرآن مجید ہمیں خبردار کرتا ہے کہ "اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر شرک کے ساتھ” (یوسف: 106)۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔ یہ شرک کی ایک شکل ہے جسے ہم معمولی سمجھتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے دور کا مشہور واقعہ ہمیں اس ایمان کی حقیقی جھلک دکھاتا ہے جب ایک بیٹی نے دودھ میں پانی ملانے سے انکار کرتے ہوئے کہا: "اگر عمرؓ نہیں دیکھ رہے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے۔” یہ ہے وہ ایمان جو انسان کے عمل، سوچ، اور فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مگر آج ہم اپنی زندگی میں اس شعور سے محروم ہو چکے ہیں۔
آج کا مسلمان مذہب کو صرف رسموں اور تہواروں تک محدود کر چکا ہے۔ نماز ایک عادت بن چکی ہے، روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام ہے، اور حج ایک فخر کی علامت بن گیا ہے۔ اللہ کے ساتھ زندہ تعلق ختم ہو چکا ہے۔ ہم اپنے دلوں سے خدا کو نکال چکے ہیں اور صرف اس کا نام لے کر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خدا کا خوف مٹ چکا ہے، اور اس کی جگہ دنیا کا ڈر، نفس کی پیروی اور مادہ پرستی نے لے لی ہے۔ ہم وہ امت بن چکے ہیں جو خدا کو ماننے کے باوجود ویسا ہی عمل کر رہی ہے جیسا کوئی منکر کرتا ہے۔ ہم اپنے گھروں، بازاروں، دفتروں اور عدالتوں میں اسلام کے رنگ کو ڈھونڈنے نکلیں، تو وہاں صرف نعرے ملیں گے، عمل ناپید ہوگا۔
اس بگڑے ہوئے حال کا علاج صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنے ایمان کو رسموں سے نکال کر حقیقت میں تبدیل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خدا کے ساتھ تعلق کو زندہ کریں، صرف عبادات پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کے ذریعے دل و دماغ میں خدا کا احساس پیدا کریں۔ ہمیں ہر عمل سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا میں واقعی خدا کو جواب دہ ہوں؟ ہمیں قرآن کو پھر سے اپنے دل کی کتاب بنانا ہوگا، اور سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف تقریروں میں نہیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں شامل کرنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر، ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی، اپنے دلوں کو ٹٹولنا ہوگا کہ کہیں ہمارا ایمان صرف زبان تک تو محدود نہیں ہو چکا؟ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں تو شامل نہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ "یہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔”
اگر ہم اس دھوکے سے نہ نکلے، تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارا معاشرہ نام کے مسلمانوں کا معاشرہ رہ جائے گا، مگر حقیقت میں اس میں خدا کا تصور مٹ چکا ہوگا۔ ایسی قومیں صرف زوال کا شکار ہوتی ہیں، کیونکہ جن کے دل میں خدا نہ ہو، ان کے اعمال میں برکت نہیں رہتی۔ ہمیں آج پھر اس خدا کی طرف لوٹنا ہوگا، جو دلوں کا حال جانتا ہے، جو صرف دعوے نہیں دیکھتا، بلکہ نیت، عمل اور سچائی کو پرکھتا ہے۔ آج کے مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود سے یہ سوال کرے: "کیا میری زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ گزرتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے؟” اگر جواب نفی میں ہے، تو اصلاح کی ضرورت ہم سب کو ہے — اور یہی وقت ہے واپس لوٹنے کا۔