یومِ شہداء بابڑہ ہر سال بارہ اگست کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ یومِ المناک ہے جب سن انیس سو اڑتالیس میں صوبۂ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے مقام بابڑہ کی فضا انسانی لہو سے رنگین ہوئی۔
اس روز درجنوں نہیں، سینکڑوں نہتے نفوس کو گولیوں کی بوچھاڑ میں شہید کر دیا گیا اور پاکستان کی نوخیز تاریخ میں ایک ایسا خونچکاں باب رقم ہوا جس کی سطور آج بھی آنکھوں کو نم اور دلوں کو بوجھل کر دیتی ہیں۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگار تحریک اور صوبائی حکومت کے مابین اختلافات کی چنگاری شعلوں میں بدل گئی۔ باچا خان اور ان کے رفقا صوبائی خودمختاری اور پختون عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے کوشاں تھے۔ مگر اقتدار کے ایوانوں نے ان آوازوں کو بغاوت سمجھا اور جلسہ جلوس پر قدغن لگا کر متعدد راہنماؤں کو پابندِ سلاسل کر دیا۔
بارہ اگست انیس سو اڑتالیس کو خدائی خدمتگار تحریک کے ہزاروں فدائیانِ حق بابڑہ میں ایک پرامن اجتماع کے لیے جمع ہوئے، جن کا مقصد محبوس ساتھیوں کی رہائی اور آئینی آزادی کا مطالبہ تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور کو دلیل کا جواب نہ ملے تو وہ بندوق کا سہارا لیتا ہے۔ انتظامیہ نے اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلانے کا حکم صادر کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا بارود اور کراہوں سے بھر گئی۔ بعض روایات کے مطابق شہداء کی تعداد چھ سو سے بھی متجاوز تھی اور زخمیوں کا شمار اعداد کی قید سے باہر۔
یہ سانحہ پاکستان کی ابتدائی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا داغ ہے جو وقت کی گرد بھی مٹا نہ سکی۔ اس نے نہ صرف صوبے میں بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیا بلکہ جمہوری اقدار اور آزادیِ رائے پر بھی کاری ضرب لگائی۔
یومِ شہداء بابڑہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا جوہر ہے، اور جب ریاست طاقت کو عدل پر فوقیت دے تو معاشرتی اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ شہیدانِ بابڑہ کی قربانیاں محض یادگار نہیں بلکہ امانت ہیں، جو ہمیں باور کراتی ہیں کہ مستقبل کی راہوں پر ایسے سانحات کی گنجائش نہ رکھی جائے۔