خطے کی صورتحال انتہائی سرعت سے تبدیلی کی طرف جا رہی ہے۔ کل کے دوستوں سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور نئے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یقینی طور پر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہی کامیاب خارجہ پالیسی کی ضمانت ہے۔ اور اس وقت ہرگز دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان خارجہ پالیسی کے محاذ پر انتہائی احتیاط اور کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ترکی خود پہل کر رہا ہے، چین پہلے ہی پاکستان کے ساتھ واضح دوستی کا ثبوت دے چکا ہے، ایران خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کی طرف اپنا جھکاؤ بڑھاتا نظر آرہا ہے اور امریکہ ایک اوپن سیکرٹ کی طرح نا صرف پاکستان سے تعلقات بڑھا رہا ہے بلکہ بھارت پر مزید ٹیرف کی پابندیاں حالات کی واضح نشاندہی کے لیے کافی ہیں۔
جنوبی ایشیا میں سفارتی صف بندیاں ایک بار پھر تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ اور یہ پاکستان بھارت کی فضائی مڈبھیڑ کے بعد سے زیادہ واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں آنے والی تبدیلیوں نے نہ صرف پرانے اتحادوں کو کمزور کیا ہے بلکہ کئی نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔ اور یہ تمام نئے امکانات مستقبل کی پیش بندی کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی صف بندیاں اور خاص طور پر جنوبی ایشیاء کی صورتحال کس نہج پر جا رہی ہے۔ ان تمام بدلتے حالات میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی ایک نئے توازن کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اور اس کا کریڈٹ یقینی طور پر خارجہ پالیسی کے فیصلہ سازوں کو جاتا ہے کہ جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی دانش مندی کا دامن نہیں چھوڑا۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی، بھارت پر ٹیرف بڑھانے اور پاکستان پر کم ٹیرف، ایران کا پاکستان کی طرف جھکاؤ، ایرانی صدر کا دو روزہ دورہء پاکستان اور چین کے ساتھ جاری اسٹریٹجک شراکت داری نے پاکستان کے لیے خطے میں نئی پوزیشننگ کا دروازہ کھولا ہے۔
اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت یعنی بھارت کو امریکہ ناکوں چنے چبوا رہا ہے اور پہلی بیس بڑی معاشی طاقتوں میں نا ہونے والے پاکستان کو خصوصی سٹیٹس دیا جا رہا ہے۔ اور برملا اس کا اظہار پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک وقتی ابال نہیں ہے اس کے پیچھے یقینی طور پر ایسے عوامل کارفرما ہیں جن کا ادراک یقینی طور پر امریکہ کو ہو چکا ہے۔ ایک بات یاد رکھیے کہ عالمی طاقتیں کبھی بھی مختصرالمدتی پالیسیز کی طرف نہیں جاتیں۔ خطے میں ایک طویل عرصہ امریکہ اور بھارت کی شراکت داری رہی ہے۔ امریکی اور یورپی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کرتی رہی ہیں۔ لیکن طاقت کے عملی مظاہرے میں پاکستان نے بھارت کو نا صرف چاروں شانے چت کر دیا بلکہ عالمی برادری میں اپنی دھاک بھی بٹھا دی۔ یہی وجہ رہی کہ پاکستان کی اس فضائی مڈبھیڑ میں برتری کا اعتراف کرنے کے ساتھ امریکہ نے پاکستان کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر ماننا شروع کر دیا۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات گزشتہ چند سالوں میں کئی بار تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں، لیکن 2025 کے وسط میں جو فیصلہ سامنے آیا وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ امریکی صدر نے بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا اور ایسا روس سے تیل کی خریداری کی وجہ سے کیا گیا۔ اور امریکی ذمہ داران بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری کر کے روس یوکرین جنگ میں روس کی مدد کر رہا ہے۔ اور یوکرین جنگ میں اگر واضح ساتھ یعنی "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں” کے مصداق انکل سام پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت اس تجارتی جنگ کے دوران پوٹن سے معاملات بھی خراب نہیں کرنا چاہتے۔
روس سے تیل کی خریداری مقامی کرنسی میں کرنا بھی ایک اور بڑی وجہ رہی کہ ڈالر کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے عالمی پابندیوں سے بچ نکلنے کی راہ ہموار کی گئی۔ اس طرز عمل کو ٹرمپ انتظامیہ دوہرا معیار قرار دیتی نظر آئی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک نے براہ راست روس یوکرین جنگ میں روس کا ساتھ دیا۔ جب کہ دوسری جانب پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اس وقت تک غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے اور کھل کر کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کی۔ ایسا کر کے عملی طور پر پاکستان اس جنگ سے باہر رہا ہے۔
پاکستان نے عالمی سطح پر جو سفارتی مؤقف اپنایا وہ غیر جانبداری پر مبنی تھا، لیکن سفارتی طور پر امریکہ کے لیے نرم رویہ ظاہر کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں کئی اہم تھنک ٹینکس اور میڈیا اداروں نے پاکستان کو خطے میں اپنے ساتھی اور شراکت دور کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی اس متوازن پالیسی کی ہی بدولت پاکستان سفارتی محاذ پر فرنٹ فٹ پر آ گیا۔ اور اس کا اظہار ٹرمپ حالیہ بنایات میں کر چکے ہیں جس میں وہ پاکستان کو نا صرف ایک ذمہ دار ریاست قرار دے چکے ہیں بلکہ پاک بھارت تنازعے میں پاکستان کو واضح برتری ہونے کے اشارے بھی دے چکے ہیں۔ ٹرمپ خطے میں بھی پاکستان کے کردار کے قائل نظر آ رہے ہیں اور اس کے برعکس بھارت کے خلاف ہونے والے اقدامات اس لیے بھی مودی سرکار کی شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں کہ ان اقدامات پر اپوزیشن جماعتیں بھی مودی سرکار کے لتے لے رہی ہیں۔ بھارت میں اس وقت راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں اور مودی سرکار کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ حالیہ احتجاج میں راہول گاندھی کی گرفتاری حالات کی نزاکت کا پتا دے رہی ہے۔
خطے میں ایک اور اہم فریق ایران ہے، جو حالیہ مہینوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے بحال کرتا دکھائی دیے رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ایک خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ چاہ بہار بندرگاہ کی سرمایہ کاری لگتا ایسا ہی ہے کہ ایران کی حالیہ جنگ کے بعد سے ڈوبتی جا رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مہینوں میں شدید کشیدگی رہی۔ ایران کے اندر ایرانی عکسری قیادت کے نشانہ بننے میں جس طرح بھارت کا نام گردش میں رہا ہے اس نے ایران کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شائد اسی لیے ایرانی حکومت میں حالات کچھ بہتر ہوتے ہی فوری طور پر پاکستان کے دورے کو ترجیح دی۔ بظاہر ایران نے ایران اسرائیل جنگ میں بھارت پر کوئی الزام تراشی نہیں کی۔ لیکن حالات و قرائن گواہ ہیں کہ ایران میں یہ خیال تقویت پا چکا ہے کہ اس تنازعے میں بھارتی خاموشی نے ایران کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے ایران کےحولے سے ایک واضح موقف اپنایا اور ہر فورم پر ایران کی سفارتی و اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کا اعتراف ایرانی پارلیمنٹ میں بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے اہم نقطہ یہ ہے کہ بھارت ہمیشہ سے چاہ بہار کو گوادر کے مدمقابل کھڑا کرنے کی کوشش میں رہا ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے بھی ایران چاہ بہار اور گوادر کو مشترکہ لائحہ عمل کے تحت لانے کے واضح اشارے دے چکا ہے۔
خطے میں سب سے اہم فریق چین ہے اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ سی پیک راہداری اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے تحت خصوصی اقتصادی زونز، ریلویے منصوبے، اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی تعمیر شامل ہے۔ پاک بھارت محاذ آرائی میں بھی چین ایک واضح موقف کے ساتھ پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا اور ہر فورم پر پاکستان کے موقف کی تائید کی۔چین نے پاکستان کو دفاعی میدان میں بھی اہم مدد فراہم کی ہے۔ حالیہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان نے چین سے جدید J-10C طیارے حاصل کیے۔
یہ تمام واضح اشاریے سمت واضح کر رہے ہیں کہ کیسے پاکستان ایک واضح، غیر مبہم اور شاندار خارجہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے کہ جس کا اثر خطے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی نمایا ہو رہا ہے۔ اس کامیاب خارجہ پالیسی کے تحت پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی جہت میں ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری ایک مثبت سمت سفر کر رہی ہے اور چین کے ساتھ تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارت کا امریکہ سے بڑھتا فاصلہ، اسرائیل کے ساتھ اس کا اتحاد، اور روس کے ساتھ اس کا معاشی انحصار، اسے ایک غیر متوازن مقام پر لا چکا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت انتہائی اہم ہے۔ اگر موجودہ خارجہ پالیسی کو مزید حکمت، برداشت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان نہ صرف خطے میں ایک مستحکم قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی ایک قابل احترام مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مستقل مزاجی اور قومی مفاد کو اولین ترجیح بنائیں، اور جذبات یا وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنی سمت کا تعین کریں۔