قومی آزادی ایک ایسا تصور ہے جو کہ جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی نظریات کی آمیزش سے وجود پاتا ہے۔ یہ قوم کی خودمختاری، خود مختارانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت اور اپنی تقدیر خود تشکیل دینے کا حق ہوتا ہے۔ ائیے 14 اگست 1947 میں عالمی نقشے پر ابھرنے والی پاکستانی قوم کے لیے، قومی آزادی کی درست تفہیم اور دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے کے حوالے سے، ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔
قومی آزادی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے تاریخی تناظر میں جھانکنا چاہیے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد نے مسلمانوں کی اکثریت کو برطانوی استعمار اور ہندوں کے تسلط سے آزاد کرانے کی کوشش کی۔ پاکستان کا قیام محض ایک علاقائی تقسیم نہیں تھا بلکہ یہ قومی خود مختاری اور ایک ایسے وطن کے قیام کی آرزو تھی جہاں مسلمان اپنے عقیدے، تہذیب اور اصولوں کے عین مطابق آزادی سے زندگی گزار سکیں۔
تاہم، قومی آزادی کوئی دنیا سے الگ تھلگ رہنا نہیں ہے بلکہ آزادی بنیادی طور پر اچھی طرزِ حکمرانی، اقتصادی ترقی، عالمی سطح پر تعمیری کردار، نظریاتی تشخص کو قائم رکھنے، برابری کی بنیاد پر مثبت روابط کو فروغ دینے اور عالمی چیلنجوں سے بہتر انداز میں نمٹنے کی قومی صلاحیت کو کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے، پاکستان کو خودمختاری اور خود انحصاری کے اپنے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے درپیش چیلنجوں کا بخوبی سامنا کرنا ہوگا۔
فی زمانہ قومی آزادی اور عالمی توقیر کا بنیادی تقاضا امن کا قیام اور سیاسی استحکام کی برقراری ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار چلا آرہا ہے، طویل عرصے کے بعد بھی مذکورہ مسائل پر قابو پانے میں ناکامی سوالیہ نشان ہے۔ آزادی کے باوجود، عمومی امن اور سیاسی استحکام سے محرومی بلا شبہ پوری قوم اور مقتدرہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور و خوض اور مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں جہاں کوئی فالٹ موجود ہے اس کو نکالا جا سکے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں ان دو مسائل کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کا امیج کافی سے زیادہ خراب ہے۔
موجودہ لمحہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پاکستان کی 78ویں یوم آزادی کے موقع پر قومی خودمختاری، اقتصادی ترقی، سفارتی کوششوں اور عالمی برادری میں اس کے مقام کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھنے کی کوشش بھی کہ ہم من حیث القوم کہاں کھڑے ہیں۔
اس وقت ملک میں قانون کی پاسداری اور انصاف کی فراہمی کی صورتحال قطعاً تسلی بخش نہیں اس وجہ ملک کے مختلف حصوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ کرپشن، بے ضابطگی اور امن و امان کی نازک صورتحال بے شمار مسائل کو جنم دیا ہے۔ ضرورت کے مطابق تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات دستیاب نہیں۔ نوجوان پریشانی کے عالم دھڑا دھڑ ملک سے باہر جا رہے ہیں جن میں تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد بھی شامل ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کی ملک کو ضرورت ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان میں مسلسل مسلح آپریشنز جاری ہیں لیکن ان کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو رہے اس کے علاؤہ مذکورہ صوبوں کے مسائل کا حل محرومی، پسماندگی اور مواقع کے فقدان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے صرف مسلح آپریشنز کو حل سمجھنا غلط ہے۔
تعلیم، روزگار، سماجی انصاف اور قانون کی پاسداری کے ذریعے لوگوں کو امن اور استحکام سے جوڑنا زیادہ موثر حکمت عملی ہے۔ اس طرح کشمیر کا درینہ مسئلہ حل نہ ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مسئلہ کشمیر ہی جنوبی ایشیا کے امن و استحکام بنیادی رکاوٹ ہے پاکستان اگر چہ مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم، عالمی برادری کی جانب سے اس معاملے پر کم توجہ ایک اہم چیلنج ہے، مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چین کی مدد سے پاکستان حیران کن صنعتی ترقی کر سکتا ہے لیکن بے شمار امکانات کے باوجود اب تک مطلوبہ صنعتی ترقی نہیں ہو رہی۔ موجودہ دور میں صنعتی ترقی کے بغیر عالمی اور علاقائی سطح پر آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں۔ اکیسویں صدی میں پہنچنے اور چین کے قریب ترین پڑوس میں رہنے کے باوجود ہمارے ہاں صنعتی ترقی ایک خواب ہے۔ قرضوں اور امداد پر معاشی اور اقتصادی ڈھانچہ قائم ہے۔ یہ حقائق ہمارے نظام اور مزاج دونوں میں سنگین مسائل کا پتہ دیتے ہیں۔ سیاسی کشمکش اور گروہی مفادات کے چکروں سے نکل کر ہمیں قومی فلاح و بہبود اور صنعتی ترقی کے مقاصد اپنی ترجیحات میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے اقتصادی ترقی ایک سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر کسی قوم کی عزت کے لیے اس کے پاس ایک مضبوط معیشت ہونی چاہیے جو اس کے شہریوں کو مناسب مواقع اور معیاری زندگی فراہم کر سکے۔ معاشی خود کفالت کی طرف پاکستان کا سفر بنیادی ڈھانچے، معیاری اور مطلوبہ تعلیم، صحت کی مناسب دیکھ بھال اور تکنیکی مہارتوں پر سرمایہ کاری کا تقاضا کر رہا ہے۔ کاروبار اور تجارت کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دے کر، پاکستان اپنا عالمی مقام بلند کر سکتا ہے نیز غیر ملکی سرمایہ کاری کو کما حقہ راغب کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کسی ملک کا امیج بنانے میں سفارت کاری اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کو سٹریٹجک شراکت داری میں شامل ہونا چاہیے جو باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دیں۔ اس میں علاقائی تنازعات، جیسا کہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور افغانستان میں طویل کشیدگی پرامن مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے حل کرنا شامل ہیں۔ تعمیری سفارتی کوششیں ایک ذمہ دار اور امن پسند قوم کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر کر سکتی ہیں مزید برآں عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بڑھا سکتی ہیں۔
دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے تمام درپیش داخلی چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً اس وقت ملک کو معاشی مسائل، سماجی عدم مساوات، سیاسی عدم استحکام اور انتہا پسندی ایسے مسائل کا سامنا ہے جو کہ پاکستان کے امیج کو مسلسل داغدار کر رہے ہیں اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ضرورت کے مطابق معیاری تعلیم، صحت کی مناسب دیکھ بھال اور سماجی بہبود کے پروگراموں میں سرمایہ کاری کرکے، حکومت معاشرے کے پسماندہ طبقات کو ترقی دے سکتی ہے اور قومی دھارے میں ان کی شمولیت کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اچھی طرزِ حکمرانی اور قانون کی پاسداری پر مضبوط زور سیاسی منظر نامے کو ہموار کر سکتی ہے نیز اس سے قومی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
ثقافتی سفارت کاری ایک اور راستہ ہے جسے پاکستان عالمی سطح پر عزت اور پہچان حاصل کرنے کے لیے اختیار کر سکتا ہے۔ ملک کی بھرپور تاریخ، متنوع ورثہ اور متحرک ثقافتی علامتیں دوسرے ممالک کے ساتھ پل بنانے کے لیے طاقتور اوزار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں۔ ثقافتی تبادلے، رنگ بہ رنگ تہواروں کا اہتمام اور بین الاقوامی اسفار میں حکومتی تعاون پاکستان کے تشخص کے بارے میں گہرائی سے سمجھنے، طرح طرح کی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مثبت تعلقات کو فروغ دینے میں حد درجہ مددگار وسائل ہیں۔
بین الاقوامی تعاون کے دائرے میں، عالمی اقدامات اور اہم کوششوں میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے مثلاً موسمیاتی تبدیلیوں، عالمی امن کے قیام، بیماریوں کی روک تھام اور غربت سے نمٹنے کی کوششوں میں حصہ ڈال کر، پاکستان عالمی استحکام اور انسانی بہبود کے لیے اپنے عزم (مسائل کے باوجود) پر کسی حد تک عمل پیرا ہے۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے فورمز میں فعال طور پر حصہ لینا پاکستان کو اپنے تحفظات کا اظہار کرنے، پالیسی سازی میں تعاون کرنے اور مشترکہ عالمی اہداف کے لیے اپنی لگن کا مظاہرہ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
دنیا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے، پاکستان کو اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے جس میں ایک حقیقت پسندانہ طریق کار کے مطابق رہ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کو نبھانا شامل ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دانشمندانہ سفارت کاری، سٹریٹجک فیصلہ سازی اور قومی ترجیحات کے مناسب پلیٹ فارمز پر کما حقہ اظہار کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں آج تک ہمیں مطلوبہ عالمی حمایت میسر نہیں آئی، اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر بھی کافی پختہ ہو چکا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے معاشی پروگرامات (دراصل قرض کے پروگرامات) کے اجراء میں معاشی خودمختاری کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے قومی آزادی کی صحیح تفہیم صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ موجودہ عالمی اور علاقائی سیاسی اور معاشی منظر نامے پر محیط عمل ہے۔ فی زمانہ یہ ہدف ہمہ جہت حق خود ارادیت، وسیع تر خودمختاری اور سماجی و معاشی ترقی کی مسلسل جستجو میں پنہا ہے۔ دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے جو اقتصادی ترقی، سفارتی کوششوں، داخلی چیلنجز، ثقافتی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بناتی ہے۔ ایک مضبوط معیشت کو فروغ دے کر، موثر سفارت کاری میں مشغول ہو کر، اندرونی مسائل کو حل کر کے، ثقافتی فراوانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی اقدامات میں مناسب حال حصہ لے کر، پاکستان عالمی سطح پر وہ عزت اور پہچان حاصل کر سکتا ہے جس کا وہ حقدار ہے۔
پاکستان نے اپنی تاریخ میں اگر چہ کئی مشکل ادوار بھی دیکھیں ہیں اور اب بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن اس ملک نے کئی قابل ذکر کامیابیاں بھی حاصل کیے ہیں آئیے چند ایک کو مختصر سے اشارے کرتے ہیں۔
01. پاکستان کی تخلیق
14 آگست 1947 کو مسلمانان برصغیر کے لیے پاکستان کا قیام خود ایک یادگار کارنامہ ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لیڈروں کی قیادت میں برسوں کی جدوجہد کے نتیجے میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا قیام عمل میں آیا۔ اس واقعے نے آزادی اور خود مختاری کے اصول کو دنیا سے تسلیم کرایا اور یہ خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔
02. پاکستان کی عسکری تاریخ اور عالمی کردار
پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف ملک کے دفاع میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی مختلف اوقات میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجیں فراہم کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، جس نے تک ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ اس سے پاکستان کی عالمی برادری میں ایک ذمہ دار امن پسند قوم کی حیثیت سے پہچان قائم ہوئی ہے۔
03. بین الاقوامی تعلقات اور ثقافتی سفارت کاری
پاکستان نے عالمی، علاقائی، سیاسی اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے اپنے مثبت امیج کو فروغ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس وقت سعودی عرب، چین، آمریکہ، وسطی ایشیائی ممالک، متحدہ عرب امارات، اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات اس کی بہترین مثال ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کی ایک جارحانہ کاروائی کے جواب میں پاکستان نے موثر جواب دیا۔ اس موقع پر دنیا نے واضح طور پر پاکستانی موقف کی تائید کی۔
04. انڈس واٹر ٹریٹی
انیس سو ساٹھ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ آبی معاہدے پر دستخط ایک اہم سفارتی کامیابی تھی اگر چہ کچھ عرصہ قبل ہندوستان معاہدے سے روگردانی کا یک طرفہ اعلان کیا ہے لیکن اس مسئلے پر پاکستان کا موقف اور پوزیشن دونوں مضبوط ہیں اور بھارت کے لیے اس روگردانی آسان نہیں۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے پانی پر تنازعے کا حل پیش کیا تھا، جس سے مزید ممکنہ تنازعات کو روکتے ہوئے مشترکہ آبی وسائل کی تقسیم کی سہولت فراہم کی تھی۔
05. منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم:
منگلا ڈیم (1967) اور تربیلا ڈیم (1976) کی تعمیر بنیادی ڈھانچے کی اہم کامیابیاں تھیں۔ یہ ڈیمز نہ صرف ہائیڈرو الیکٹرک پاور کی پیداوار دیتے ہیں بلکہ آبپاشی کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں مزید برآں یہ زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنے اور اقتصادی ترقی میں معاونت کر رہے ہیں۔
06 نیوکلیئر ٹیسٹ
1998 میں پاکستان کے کامیاب ایٹمی تجربات نے اس کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔ بین الاقوامی خدشات کے باوجود، ان تجربات نے ایک جوہری طاقت کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا، تحفظ کا احساس فراہم کیا اور عالمی سطح پر اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کیا۔
07 سی پیک کا آغاز
چین اور پاکستان کے اشتراک سے 2013 کو ایک بہت بڑے معاشی اور تجارتی منصوبے (پاک چین اقتصادی راہداری) سی پیک کا آغاز ہوگیا یہ بلا شبہ نہ صرف دو بہت ہی اچھے، سچے، میٹھے، گہرے اور کھرے دوستوں کے درمیان نہایت دور رس نتائج اور اثرات کا حامل ایک دیو ہیکل منصوبہ ہے بلکہ یہ حقیقی معنوں میں پورے خطے کے اندر گیم چینجر اقدام ہے۔
مشکلات کے باوجود، یہ کامیابیاں سفارت کاری اور انفراسٹرکچر سے لے کر دفاعی اور سماجی شعبوں تک دراز ہیں یہ پاکستان کی ترقی اور ایک شاندار مستقبل کو بڑھنے کی عکاسی کر رہی ہیں۔