وجود کے دو اقسام ہیں: ایک خاکی وجود اور ایک معنوی وجود۔ اگر انسان کے وجود پر وجود کے ان دو اقسام کو منطبق کیا جائے تو اس میں ایک اس کی خاکی وجود ہے جو گوشت اور پوست کا بنا ہوتا ہے، جسے ہم دیکھ سکتے ہیں۔
اور ایک وجود وہ ہے جو کسی مادی شکل میں تو ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اسی وجود ہی کے لیے خاکی وجود کا جواز بنتا ہے۔ اس دوسرے قسم کے وجود کو معنوی وجود کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ وجود جس کی بنا پر انسان ہنستا ہے، ہنساتا ہے، دوسروں کے لیے راحت کا باعث بنتا ہے، ظلم کے لیے مزاحمت اور انصاف کے لیے حمایت کا باعث بنتا ہے۔ اسی وجود کو معنوی وجود کہا جاتا ہے۔ انسان کے پاس جب یہ معنوی وجود باقی نہیں رہتا تو محض اس کے خاکی وجود کو لاش کہا جاتا ہے۔ اس ضمن میں اگر مادی وجود یہ دعویٰ کرے کہ نہیں، مجھے لاش نہ کہا جائے، تو اس صورت میں اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جو رعایت کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے "زندہ لاش” کہا جائے۔
اسی مثال کو اب ریاست پر منطبق کریں۔ ہم نے کتابوں میں یہ پڑھا ہے اور اپنے بڑوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ ریاست وہ کمبل ہے جو شدید سردی میں انسان اوڑھ کر سردی سے محفوظ رہتا ہے۔ ریاست وہ پھل ہے جسے کھا کر انسان بھوک کا شکار نہیں ہوتا۔ ریاست ایسا دریا ہے جس کے پاس بیٹھ کر انسان پیاس سے نہیں مرتا۔ریاست ایسا مکان ہے جس میں داخل ہو کر انسان تک ظالوں کے ہاتھ نہیں پہنچتے۔ ریاست ایک ایسا محفوظ کھیت ہے جس کے اندر فصل بو کر انسان کو کسی درندے یا چرندے کا خدشہ نہیں رہتا کہ وہ میری فصل کی شادابی پر اثر انداز ہو سکے گا۔ ریاست ایسا گھر ہے جس میں باپ اپنے بچوں کو داخل کر کے یہ سوچ کر سکون سے مر سکتا ہے کہ میرے بعد میرے بچے ہوس سے مغلوب کسی درندے کے نشانے پر نہیں رہیں گے۔ریاست سسرال کا ایسا گھر ہوتا ہے کہ بندہ مسافر بن کر اس میں سکون سے اپنے بچوں کو حفاظت میں رکھ کر آسودگی کے ساتھ مسافرت پر جا سکتا ہے۔ یہی ریاست کا معنوی وجود ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور بڑوں سے سنا ہے۔
ہمارے ہاں ایک طریقہ رائج ہے جو لوگ انسان کے معنوی وجود کی زندگی کا پتہ لگانے کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ انسان معنوی لحاظ سے زندہ ہے یا مر چکا ہے، لوگ اس کے منہ کے سامنے آئینہ بطور آزمائشی آلہ رکھتے ہیں۔ اس صورت میں اگر آئینے پر بھاپ آئے تو انسان کے زندہ ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے، اور اس کے برعکس اگر آئینے پر انسان کے منہ سے کوئی بھاپ نہ آئے تو ایسے انسان کی موت کا حکم لگایا جاتا ہے اور اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے پاس ریاست کے معنوی زندگی معلوم کرنے کے لیے بھی ایک آلہ موجود ہے، جس کے ذریعے ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ریاست معنوی لحاظ سے زندہ ہے یا اپنی معنوی زندگی کھو بیٹھی ہے۔ وہ آلہ ریاست کے اداروں کی مقصدیت ہے۔ دیکھا جائے کہ اداروں کا ایک ایڈمنسٹریٹو باڈی ہے (جیسے کرسی، میز، الماری، کاغذ، کرسی پر بیٹھا شخص وغیرہ) اور ایک ان کی معنوی اجسام ہوتے ہیں۔ جیسے کرسی، کاغذ، دفتر اور کرسی پر بیٹھا کمشنر، ڈی پی او، ایس ایچ او، فوڈ انسپکٹر، جرنیل، کرنل، ڈاکٹر، پرنسپل، اے ڈی او، سیکرٹری، وزیر، صدر، ایم این اے، ایم پی اے — اگر وہ کام کر رہے ہوں جس مقصد کے لیے یہ ساری ایڈمنسٹریشن کا نظام بنایا گیا ہو، تو حکم اس کے معنوی وجود کا لگایا جائے گا۔ اور اگر یہ محض برائے نام ایڈمنسٹریشن ہو، عملاً مقصد کے حصول میں ان کا کردار نہ ہو، تو ایسے اداروں کی معنوی موت اور خاکی وجود (جو کہ ایڈمنسٹریشن ہوتی ہے) پر "زندہ لاش” کا حکم لگایا جائے گا۔ اور اسی حکم کو بطور علامت ریاست کی معنوی زندگی مانا جائے گا یا اس کے برعکس اس معنوی موت کے بنیاد کو سمجھنے کے لیے درجہ ذیل وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے۔
کسی ریاست کا انتظامی ڈھانچہ اگر زندہ لاش کی شکل میں نظر آتا ہو مگر معنوی طور پر مر چکا ہو، تو اس کا بھی اپنا پس منظر ہے، جس کی نسبت صرف انسان ہی کی طرف کی جا سکتی ہے۔ انسان جب مادی طور پر زندہ رہے اور روحانی لحاظ سے مر جائے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ ایڈمنسٹریٹو باڈی تو ہے مگر مقصدیت فوت ہو چکی ہے۔ یعنی ہمارا جو مادی جسم ہے، یہ اس انسانیت کا ایڈمن بلاک ہے جو ہمارے کردار کی شکل میں نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں سارا زور اسی انتظامی ڈھانچے پر دیا جاتا ہے۔ جسم معمولی بھوکا ہو جائے، بیمار ہو جائے، گرمی یا سردی محسوس کرے تو ہم فوراً اس کی راحت کا بندوبست کرتے ہیں۔ کوئی کمشنر بننا چاہتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیسر صرف اس لیے کہ میں اپنے جسم کے انتظامی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کروں۔ ہم میں بہت کم لوگ ہوں گے جو ان مقاصد کو سامنے رکھ کر ڈاکٹر، انجینئر، کمشنر، کیپٹن بنتے ہوں جو ان پیشوں کے مقاصد ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم مادہ پرست ہیں، کیونکہ مادی جسم پر تو توجہ ہے مگر اس کی معنویت (جو کہ انسانیت ہے) اس طرف ہمارا خیال ہی نہیں جاتا۔ یہی سارا کچھ ہمیں نظامِ تعلیم میں سکھایا-بتایا جاتا ہے۔
اور انہی مادہ پرستی کے مرض میں مبتلا اداروں سے ریاست چلانے کے لیے افراد مہیا کیے جاتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ افراد تو معنوی لحاظ سے زندہ نہیں ہوتے۔ محض انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ریاست کے اداروں میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں بھی ان کی کوئی معنوی کارکردگی ہمیں نظر نہیں آتی۔ زیادہ سے زیادہ وہ ریکارڈ ہی مینٹین کر سکتے ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ جہاں مادہ پرستی کی وجہ سے ہمارا انفرادی و اجتماعی معنوی موت واقع ہو چکی ہے، وہاں یہ لوگ اسی مادہ پرستی کو بطور علاج ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات جس شے کو بطور علاج تجویز کرتے ہیں، وہ تو ہماری معنوی موت کی جڑ ہے۔ اگر اس بات سے کسی کو اتفاق نہ ہو تو ان گزارشات کو کھلے ذہن سے پڑھ کر ان پر غور کریں کہ ہماری انفرادی و اجتماعی معنوی موت کی ذمہ داری ہمارے مادہ پرستانہ رویے پر ہے یا نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ہماری معنوی زندگی انہی تعلیمات سے وابستہ ہے جن میں معنویت اور مادیت کے مابین معقول توازن ہے، جس سے ہمارے معنوی اور مادی دونوں ضروریات پورے ہوتے ہیں۔ جو ہمیں بتاتے ہیں کہ مادیت اور معنویت کوئی جدا جدا چیزیں نہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے مختلف رُخ ہیں۔ اسے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی زندگی کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں انہی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو ہمارے رب نے آسمانوں سے ہمارے آقا ﷺ کے سینۂ اطہر پر اتاری ہیں۔