پاکستان کی سیاست کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں مقبولیت اور اقتدار ہمیشہ ایک دوسرے کے ہم معنی نہیں ہوتے۔ ہمارے سیاسی منظرنامے میں دو شخصیات ایسی ہیں جو اپنی اپنی طرز میں ناقابلِ نظرانداز ہیں: عمران خان اور آصف علی زرداری۔ ایک کے پاس عوامی جوش و خروش ہے، دوسرے کے پاس سیاسی حکمت و چالاکی۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا جائے تو کیا وہ صدر آصف زرداری جیسے منجھے ہوئے سیاسی گرو کو پیچھے چھوڑ کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو سکتے ہیں؟
عمران خان کی سب سے بڑی طاقت عوامی بیانیہ ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں کرپشن کے خلاف، انصاف کی فراہمی، اور خود مختار خارجہ پالیسی جیسے نعرے لگا کر ایک ایسا ووٹ بینک بنایا جو جذباتی بھی ہے اور وفادار بھی۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی سوشل میڈیا اور عام لوگوں کی زبان پر ان کا نام ہے۔ لیکن عمران خان کی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی ٹیم اور اتحادیوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بھی سیاسی تنہائی اور مقتدر حلقوں سے تعلقات میں بگاڑ کا نتیجہ تھا۔
دوسری طرف آصف زرداری کی سیاست کتابی اصولوں سے زیادہ شطرنج کے کھیل جیسی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کس وقت کس مہرے کو آگے بڑھانا ہے اور کب پیچھے ہٹانا ہے۔ 2008 سے لے کر آج تک، وہ ہر مشکل وقت میں خود کو اور اپنی پارٹی کو بچانے میں کامیاب رہے۔ ان کے پاس پارلیمانی سیاست، اتحادی سازی، اور پس پردہ سودے بازی کی مہارت ہے۔ زرداری صاحب شاید عوامی جلسوں میں عمران خان جیسا جوش پیدا نہ کر سکیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں ان کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔
اگر عمران خان آج رہا ہو جائیں تو فوری طور پر ملک میں ایک سیاسی ہلچل پیدا ہو گی۔ پی ٹی آئی کے کارکن اور ووٹرز میں نیا جوش آئے گا، ملک بھر میں بڑے جلسے اور لانگ مارچ جیسے اقدامات ممکن ہیں۔ لیکن صرف عوامی مقبولیت سے الیکشن جیتنا آسان ہے، مگر اقتدار میں آنا مشکل، کیونکہ یہاں سیاسی جوڑ توڑ، اتحادی حکومتیں، اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف آصف زرداری ممکنہ طور پر مضبوط اتحادی بلاک بنا کر عمران خان کو پارلیمانی اکثریت سے روکنے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ وہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔
عمران خان کی رہائی یقیناً پاکستانی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے، لیکن آصف زرداری کو پیچھے چھوڑنے کے لیے انہیں جذباتی سیاست کے ساتھ ساتھ عملی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ اقتدار کا کھیل صرف نعروں اور مقبولیت سے نہیں جیتا جاتا، بلکہ اتحادی بنانے، مخالف کو موقع پر مات دینے، اور طاقت کے مراکز کے ساتھ توازن قائم رکھنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اگر عمران خان اس پہلو پر توجہ دیں تو ممکن ہے کہ سیاست کا پلڑا واقعی ان کے حق میں جھک جائے، ورنہ آصف زرداری اپنی سیاسی شطرنج سے بازی پلٹ سکتے ہیں۔