یہ کہانی یوں ہے جیسے پاکستان کے ہر اس نوجوان کا خواب جو غربت کی چادر میں لپٹا ہوا ہو مگر دل میں حوصلوں کا آسمان رکھتا ہو۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو ایک ایسے ہی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جہاں وسائل کم مگر عزت، ایمان اور غیرت بے مثال تھی۔ ان کے والد ایک نہایت غریب مگر تقویٰ والے، اللہ کے قریب اور انسانیت کے سچے دوست بزرگ تھے۔
انہوں نے اپنی حلال کمائی سے اپنے بچوں کی پرورش ایک چھوٹے سے گھر میں کی، مگر کبھی کردار اور اصولوں کی کمائی میں کمی نہ آنے دی۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر پلنے والے اس نوجوان نے اپنی محنت، قربانی، اور ثابت قدمی سے آسمان کی بلندیوں کو چھوا، اور یوں پاکستان ایئر فورس کے سب سے بڑے عہدے تک پہنچا۔
یہ وہی شخص ہے جس نے نہ صرف اپنے آپ کو سنوارا بلکہ اپنے ادارے کو بھی ایسی قیادت دی کہ پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ آج جب ان کو ملک کا ایک بڑا اعزاز عطا کیا گیا تو ان کی آنکھوں میں نمی تھی، آنسو تھے جو برسوں کی جدوجہد، قربانی، اور اپنے ملک سے بے پناہ محبت کے گواہ تھے۔ افواجِ پاکستان کے یہ ہیروز عموماً اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہیں، مگر اس لمحے وہ جذبات کے سامنے ہار گئے، کیونکہ یہ اعزاز صرف ایک فوجی افسر کو نہیں، بلکہ اس کے ماں، باپ کی قربانیوں، اور اس کی اپنی محنت کے سفر کو دیا جا رہا تھا۔
ایسے وقت میں انسان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کاش! آج میرے والدین زندہ ہوتے تو وہ مجھے اس اعزاز کے ساتھ دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیتے۔ یقیناً وہ نیک لوگوں میں سے تھے، اللّٰہ تعالیٰ ان کو اور جس جس مسلمان کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ جب بھی اولاد خیر کے کام کرتی ہے تو والدین کی روح کو ضرور تسکین پہنچتی ہو گی۔
ائیر چیف کی یہ کامیابی ہم سب کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ غربت کبھی کسی کام میں رکاوٹ نہیں، اصل طاقت ایمان، محنت اور سچائی کی ہے۔ ظہیر احمد بابر سدھو کی زندگی ہر نوجوان کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں اور دل میں وطن کی محبت ہو تو آسمان بھی آپ کے قدموں میں ہو سکتا ہے۔ یہ اعزاز پاکستان کے ہر اس خواب دیکھنے والے کے لیے ایک اعزاز ہے جو غربت کے اندھیروں میں پل کر روشنی کی طرف سفر کرتا ہے۔