سن 1982 میں میں فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نمبر 1 میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے اسکول کے بالکل ساتھ واقع سی ڈی اسپتال میں جنرل ضیا الحق، شاہ محمود قریشی کے والد سجاد حسین قریشی کی عیادت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ ہم سب طلبہ جنرل صاحب کو دیکھنے اسپتال کے گیٹ پر پہنچ گئے۔ جیسے ہی جنرل صاحب کی گاڑی اسپتال سے باہر نکلی، ہم سب طلبہ کے ہاتھ ہلانے اور شور مچانے پر انہوں نے گاڑی رکوائی اور باہر نکل آئے۔ انہوں نے مجھ سمیت جو طلبہ سب سے آگے تھے، ان سے ہاتھ ملایا اور مختصر گپ شپ کی۔
اس وقت سیاسی سمجھ بوجھ تو ظاہر ہے ہمیں نہیں تھی، لیکن دو باتیں ضرور تھیں:
پہلی یہ کہ گھر میں والدین کے منہ سے جنرل صاحب کا ذکر ہمیشہ مثبت انداز میں سنتے تھے،اور دوسری یہ کہ مجھے ان کی مونچھیں، مسکراہٹ، ان کی شخصیت اور انداز خطابت بے حد پسند تھا۔ وہ مجھے قرونِ اولیٰ کے کسی حکمران جیسے لگتے تھے۔
آج جب ہمیں اقتدار اور سیاست کے کھیل کی کچھ سمجھ ہے (کیونکہ مکمل طور پر تو یہ کھیل ہمیں کبھی سمجھنے ہی نہیں دیا گیا)، تب بھی وہ مجھے قرونِ اولیٰ کے حکمرانوں جیسے لگتے ہیں۔ پھر حادثے میں ان کی شہادت کا سن کر ہمیں دل سے دکھ ہوا اور ہم نے ان کے جنازے میں بھرپور شرکت کی۔
جنرل صاحب کو بھلے کچھ لوگ ناپسند کریں، بھلے ان کی سیاست سے اختلاف رکھیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا زمانہ عوام کے لیے ایک منفرد، پُرامن اور آسانیوں بھرا دور تھا۔ اس زمانے میں معاشرے میں بے حیائی یوں نہیں پھیلی ہوئی جیسی آج ہے۔ میڈیا شتر بے مہار نہ تھا۔ پاکستان میں بھارتی میڈیا پر مکمل پابندی تھی۔ ٹی وی پر صرف ایک ہی چینل ہوتا تھا اور خواتین نیوز کاسٹرز ہمیشہ سر پر دوپٹہ رکھ کر آتیں۔ نشریات شام چار بجے شروع ہوتیں اور رات گیارہ بجے ختم ہو جاتیں۔ آغاز اور اختتام ہمیشہ تلاوتِ قرآن پاک، حمد اور نعت سے ہوتا تھا۔
چوری اور زنا کے لیے سخت سزائیں مقرر تھیں اور ملک میں امن و امان قائم تھا۔ بازار میں اشیائے ضرورت کے ریٹ مقرر تھے—ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے میں اتنا لذیذ برگر کہ کھاتے رہ جاؤ۔ تندور سے روٹی آٹھ آنے میں ملتی اور دس روپے میں ایک مزدور آسانی سے دو وقت کا پیٹ بھر کھانا کھا سکتا تھا۔ دکانوں پر سوئی سے لے کر ہاتھی تک ہر چیز کے نرخ درج ہوتے اور کوئی دکاندار جرات نہ کرتا کہ ایک دھیلا بھی زیادہ لے۔
اس دور میں تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے۔ کاش آج بھی ایسا ہو سکے۔ سرکاری اسکول کی فیس صرف دس روپے اور پرائیویٹ اسکول کی فیس تیس روپے ماہانہ تھی۔ اسکول کا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اس میں اسلام یا پاکستان مخالف کوئی مواد شامل نہیں ہونے دیا جاتا تھا۔ کالج میں ایک ماہ کی فوجی تربیت لازمی تھی اور اس میں حصہ لینے والوں کو بیس اضافی نمبر دیے جاتے تھے۔
پاکستانی مصنوعات کو مکمل تحفظ حاصل تھا۔ ملک کی اپنی پولکا آئس کریم، آر سی کولا، بناکا ٹوتھ پیسٹ، فوجی کارن فلیکس، ناصر صدیق گلاس، رہبر واٹر کولر عام نظر آتے تھے۔ دیہی علاقوں میں مسجدیں فجر اور ظہر کے درمیان اسکول کے طور پر استعمال ہوتیں۔ شام کو تعلیمِ بالغاں کے لیے "نئی روشنی اسکول” کھلتے۔ (مجھے بھی اس وقت نئی روشنی اسکول میں پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے۔ سن 85، جب جونیجو وزیر اعظم تھے) انہی کے دور میں شرعی عدالت قائم ہوئی جس نے ایک مقدمے میں سود کو حرام اور قابلِ سزا جرم قرار دیا۔
پھر 1988 میں جنرل ضیا الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے اور بینظیر بھٹو کا سیاہ دور شروع ہوا۔ سب سے پہلے بینظیر نے ضیا الحق کی تمام اسکیمیں ختم کیں، جن میں مسجد اسکول اور نئی روشنی اسکول شامل تھے۔ انہوں نے حدود آرڈیننس کو ختم تو نہیں کیا، لیکن اس کے خلاف آواز بلند کی اور اس کی منسوخی کی کوششیں شروع ہوئیں جو بعد میں 2006 میں اصلاحات کی شکل میں سامنے آئیں۔ تعلیم مہنگی ہوتی گئی اور وہ سب کچھ شروع ہوگیا کہ اللہ کی پناہ۔
بعد ازاں نواز شریف کے دوسرے تاریک دور میں حکومت نے شرعی عدالت کو ختم نہیں کیا، البتہ کئی مالیاتی اور قانونی معاملات میں سود کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں لے جایا گیا، جہاں یہ آج تک اسٹے پر ہے۔ جیسے پہلے کچھ حکومتیں اور وزارتیں اسٹے پر چلتی رہیں، اسی طرح سود کا نظام بھی آج تک کھلے عام جاری ہے—گویا اللہ ذوالجلال اور اس کے نبیؐ سے کھلی جنگ۔
جنرل ضیا الحق ایک ملٹری ڈکٹیٹر تھے، مگر ساری دنیا کا کفر ان سے کانپتا تھا۔ ان کے دور اقتدار کی جو چیز مجھے آج بھی سب سے زیادہ پسند ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی اور ملک کے سب سیاسی شیطانی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ واہ کیا ہی اچھا وقت تھا اس ملک کے لیے۔