غگ: جبر کی ایک قبائلی رسم

کاش میں یہ سب نہ سنتی… بھابھی جان کے ساتھ قبائلی علاقوں میں خواتین کے حقوق پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک انہوں نے اپنی کزن مرجانہ کی داستان سنائی جو سنتے ہی میرے رونگٹے کھڑے کر گئی۔

اس کہانی کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مرجانہ حسن و جمال کی پیکر تھی لمبے گھنے بال، کشادہ پیشانی، اور چہرے کی وہ فطری دمک جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی۔ وہ اپنے گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی، مگر عقل و فراست میں سب سے آگے۔ ہنر میں ماہر، گفتگو میں شیریں، اور دل میں دردمندی لیے وہ سب کے لیے قابلِ رشک تھی۔ گلی گلی میں بزرگ چاہتے تھے کہ مرجانہ ان کے گھر کی بہو بنے، کیونکہ اس کا ہاتھ خدمت کے لیے ہمیشہ کھلا تھا۔

لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب بہن بھائیوں کی شادیاں ہو چکیں تو اچانک ایک صبح ان کے والد کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ خاندان کے لیے بہت بڑے صدمے سے کم نہ تھا۔ اس کے بعد زمین کے تنازعات نے سر اٹھایا، اور بھائی کے خلاف عزیزوں نے مخالفت شروع کر دی۔ جب مخالفین جرگے کے فیصلے سے مایا ہوئے تو انہوں نے وحشیانہ راستہ اختیار کیا۔ رستم خان نامی ایک شخص نے جرگے کے درمیان ہی فائرنگ کر کے اعلان کر دیا کہ: مرجانہ اب ہماری ملکیت ہے۔ اگر کسی نے بھی اس کے رشتے کی بات کی تو ہر گھر سے سات سات جنازے اٹھیں گے!

اور یوں، مرجانہ کے نام کے ساتھ "غگ” کا لیبل چسپاں ہو گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ خاندان آگ بگولہ ہوگیا۔

مردوں نے رستم کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ کئی جرگے ہوئے، مذاکرات ہوئے، لیکن دونوں طرف کے لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ وقت گزرتا گیا، مرجانہ کے بھائیوں کے بچے بڑے ہوئے، شادیاں ہوئیں مگر اس بے چاری کی جوانی تاریکیوں میں گم ہو گئی۔

پورے سماج میں نہیں بلکہ اس کے اپنے ہی گھر میں اس کی حیثیت غلام جیسی تھی۔ صبح سے شام تک بھابھیوں کی خوشامد، بچوں کی دیکھ بھال، گھر کے کام یہی اس کی زندگی تھی۔ کبھی کسی نے اس کی طرف دیکھا، تو صرف حکم دینے کے لیے۔ گالم گلوچ، طعنے، ذہنی اذیت یہ سب اس کی روزمرہ روٹین بن گئے۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اس کو دماغی بیماریوں نے گھیر لیا، مگر علاج کا کوئی بندوبست نہ ہوا۔ کئی بار اس نے موت کو گلے لگانے کی کوشش کی، مگر موت بھی شاید اس پر رحم کھا کر دور ہٹ گئی۔ آخرکار، تڑپتی ہوئی، وہ 47 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ رستم خان؟ وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ شاندار زندگی جی رہا تھا۔ نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی باز پرس کرنے والا۔ قبائلی رسوم کے نام پر ایک معصوم زندگی تباہ و برباد ہو گئی، مگر قصورواروں کو کبھی سزا نہ ملی۔

یہ صرف مرجانہ کی کہانی نہیں، بلکہ "غگ” نامی ایک وحشیانہ رسم کی داستان ہے جو پشتون قبائلی معاشرے میں صدیوں سے عورتوں کو زندہ قبر میں دھکیل رہی ہے۔ غگ ایک ایسی جابرانہ روایت ہے جس میں عورت کو اس کی مرضی کے بغیر کسی غیر مرد کے ساتھ شادی پر مجبور کیا جاتا ہے، بالخصوص تنازعات کے حل کے لیے اسے بطور معاوضہ پیش کیا جاتا ہے۔ پشتون معاشرے میں یہ رسم ایک دہشت ناک طریقہ کار اختیار کرتی ہے، جہاں کوئی مرد کسی بھی لڑکی کے نام کا اعلان کر کے اس پر اپنا نامہٴ تصرف جما دیتا ہے، گویا وہ اس کی ملکیت بن چکی ہے، بعد ازاں لڑکیوں کو اکثر دو ہی راستے دیے جاتے ہیں یا تو وہ غگ کرنے والے شخص سے زبردستی کی شادی قبول کر لیں یا پھر موت کو گلے لگا لیں۔

غگ کا مطلب نعرا ہے، اس رسم کا طریقہ کار انتہائی سنگین ہے۔ غگ کرنے والا شخص کھلم کھلا یا خفیہ طور پر معاشرے میں یہ بات پھیلا دیتا ہے کہ فلاں لڑکی اس کے نام سے منسوب ہو چکی ہے۔ بعض اوقات تو وہ گولیاں چلا کر یا تشدد کی دھمکیاں دے کر اپنے دعوے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں لڑکی یا اس کے خاندان کی رضامندی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ معاشرتی رسوائی کے خوف سے خاندان مجبوراً خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اس فرسودہ رسم کی وجہ سے لڑکی کی انفرادیت، خواہشات، اور حقوق کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں قبائلی انتقام کی ثقافت میں پیوست ہیں، جہاں لڑکیوں کو گروی رکھ کر خاندانی عزت بحال کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں رائج ہے، لیکن سندھ اور جنوبی پنجاب کے بعض قبائلی معاشروں میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔

اسی طرح، اس رسم کی تاریخی جڑیں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہیں، جہاں قبائلی اقدار کو مذہب اور قانون پر فوقیت حاصل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رسم دیگر علاقوں میں بھی پھیل گئی، اس کا تعلق کسی مذہبی روایت سے نہیں، یہ خالصتاً قبائلی جبر کا نتیجہ ہے۔ غگ کا سب سے بڑا سماجی اثر خواتین کی زندگیوں کو تباہ کرنا ہے۔ مرجانہ جیسے لاکھوں معصوم وجود نفسیاتی طور پر ٹوٹ چکے ہیں۔ نتیجتاً لڑکی کی زندگی تاریکی میں ڈوب جاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا شخص اس سے شادی کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ یہ رسم انہیں احساسِ کمتری، ڈپریشن، اور خودکشی کے خیالات تک پہنچا دیتی ہے۔ معاشی طور پر بھی یہ عورتوں کو تعلیم اور روزگار سے محروم کر دیتی ہے، کیونکہ انہیں جبراً گھر تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ سماجی ناانصافی کی انتہا یہ ہے کہ عورت کی مرضی کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی جاتی، بلکہ اسے صرف ایک "معاہدے کا حصہ” سمجھا جاتا ہے۔

قانونی سطح پر 2013 میں "غگ ایکٹ” بنایا گیا، جس کے تحت اس رسم کو غیرقانونی قرار دے کر سزائیں مقرر کی گئیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے اس غیر انسانی رسم کے خلاف ایک تاریخی قانون منظور کیا، جس کے تحت غگ کرنے والے کو تین سے سات سال تک قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے، یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ قانون صرف اور صرف کاغذوں تک ہی محدود رہا۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اکثر کیسز رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے، کیونکہ خاندان معاشرتی دباؤ یا جان کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ پولیس اور عدالتیں بھی قبائلی دباؤ کے تحت مقدمات کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔ بعض اوقات تو لڑکی کو ہی قصوروار ٹھہرا کر اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح اس رسم کے خلاف آواز اٹھانے یا خواتین کو عدالت تک پہنچنے میں خاندانی دباؤ، معاشی مجبوریاں، اور سماجی بدنامی جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔

اس رسم کے نتیجے میں لڑکی کو اپنے جابر سے مجبورا شادی کرنی پڑتی ہے اور انہیں عمر بھر تشدد اور ذلت برداشت کرنی پڑتی ہے، یا پھر انہیں گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے۔ کئی معاملات میں تو لڑکیوں نے شادی سے انکار کرنے پر اپنی جان تک گنوا دی ہے۔ ان حالات میں عورت نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ نفسیاتی اذیت کا بھی شکار ہوتی ہے، جس سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔

سماجی تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قبائلی رہنماؤں کا جانبدارانہ اور غیر منصفانہ رویہ ہے۔ اسلام جبری شادیوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی میں عورت کی رضامندی لازمی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی، اور کنواری لڑکی کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر جائز نہیں۔

علماء کرام نے بھی جبری شادیوں پر کڑی مذمت کی ہے، لیکن قبائلی معاشروں میں مذہب کے بجائے روایات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ بخدا جس مذہب نے عورت کے حقوق دیئے ، اسی کے نام پر اس کے حقوق سلب کر لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اس جاہلانہ رسم کو اپنی "ثقافت” کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا اور تعلیمی ادارے اس حوالے سے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔ سب سے بڑھ کر ایک اذیت ناک بات یہ ہے کہ مردانہ بالادستی کا یہ تسلط عورت کی مرضی کو کچل دیتا ہے۔

اس رسم کے خاتمے کے لیے ہم آہنگ کو ششوں کی اشد ضرورت ہیں۔ سماجی سطح پر علماء اور قبائلی رہنماؤں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس عمل کی مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر مذمت کریں۔ قانونی اصلاحات کرتے ہوئے غگ کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جانی چاہئیں۔ میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی بیداری مہم چلائی جائے، خاص طور پر مقامی زبانوں میں شعور پھیلانے کے لیے ریڈیو، ٹی وی، اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔ بعض علاقوں میں خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے خصوصی جینڈر ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جو ایک انتہائی بہترین مثبت قدم ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ہنر مندی کے پروگرامز شروع کیے جائیں۔ میڈیا اور ادب کو بھی اس معاملے پر حساس بنانا ہوگا مجھے یقین ہے کہ ڈرامے، دستاویزی فلمیں، اور کہانیاں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہیں۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن غگ کوئی معمولی رسم نہیں، بلکہ عورت کے وجود اور شخصیت کو کچل دینے والی ایک ظالمانہ روایت ہے۔ یہ نہ صرف عورت کی آزادی کو سلب کرتی ہیں بلکہ اسے ایک مجبور اور بے بس مخلوق بنا دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو بااختیار بنانے، تعلیم، شعور دینے اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے سے ہی ایسی وحشیانہ روایات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ غگ جیسی رسومات نہ صرف عورت کی عزتِ نفس کو پامال کرتی ہیں بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہیں۔ انہیں ختم کرنے کے لیے قانونی، تعلیمی، اور سماجی سطح پر جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ عورت کو صرف ایک "معاوضہ” نہیں، بلکہ ایک خودمختار انسان سمجھنا ہوگا۔ جب تک معاشرہ عورت کی مرضی اور انفرادیت کو تسلیم نہیں کرے گا، اس وقت تک ایسی وحشیانہ رسموں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا صرف خواتین کے حقوق کی جنگ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے