حالیہ سیلاب : الم ناک انسانی تباھی و بربادی

ادبی اور فلاحی تنظیم "نوے ژوند” اسلام آباد نے خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں تباہی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر متاثرین کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں سوات، بونیر، باجوڑ اور بٹگرام جیسے شدید متاثرہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر امداد فراہم کرنا شامل ہے۔

حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے نتیجے میں سنگین انسانی اور مالی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ روز مختلف واقعات میں 337 افراد ہلاک اور 178 زخمی ہوئے۔ متاثرین میں 263 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سیلاب اور بارشوں کے باعث 159 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 97 جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ 62 مکمل طور پر مسمار ہوگئے۔

بونیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 208 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور متعدد افراد لاپتہ ہیں جبکہ 3,817 افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں، جن میں باجوڑ اور بٹگرام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ بجلی کی فراہمی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر سوات، بونیر اور مالم جبہ میں 41 فیڈرز بند ہونے کے باعث بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

تنظیم کے چیئرمین نسیم مندوخیل نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اگر چہ چند اہم امور کے سبب کوئٹہ میں موجود ہوں لیکن اس کے باوجود ہم سب دل و دماغ سے اپنے دکھی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ قریب ہوتے تو اپنے رفقا کے ہمراہ متاثرین کے دکھ بانٹنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے میدان عمل میں ہوتے۔ ان شاءاللہ عنقریب میں اپنے رفقاء سمیت مصیبت زدہ ہم وطنوں کے ساتھ موجود ہوں گا۔

نوے ژوند تنظیم نے زور دے کر کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے اور وہاں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرے۔ متاثرین کو خوراک، پناہ گاہ، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں تاخیر ناقابل معافی ہوگی۔

محترم نسیم مندوخیل نے تنظیم کے رفقاء سے سے اپیل کی کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ افراد ہر ممکن یقینی بنائیں اور اس فرض کو نبھانے میں کسر اٹھا نہ رکھیں، بلکہ عملی طور پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غم زدہ خاندانوں دکھ میں شریک ہونا اور متاثرین کی تکلیفوں کو سمجھنا ہی اصل انسانیت ہے۔ کیمرے سے منظر کشی کرنے کے بجائے اگر ہر شخص اپنا کردار ادا کرے تو مصیبت کے اس دور میں بہت فرق پڑ سکتا ہے۔

تنظیم کا یہ بھی ماننا ہے کہ صرف سرکاری سطح پر اقدامات کافی نہیں ہیں، بلکہ عوامی سطح پر بھی رضاکارانہ کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ انہوں نے سماجی تنظیموں، مخیر حضرات اور عام شہریوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق متاثرین کی مدد کریں، چاہے وہ مالی تعاون ہو یا عملی شرکت۔

نوے ژوند کے اراکین نے اس المیے کو پورے ملک کے لیے ایک اجتماعی چیلنج قرار دیتے ہوئے یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں ہر شہری کو اپنی انفرادی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے کمر کس لینی چاہیے۔

تنظیم نے اپنے پلیٹ فارم سے آنے والے دنوں میں امدادی سرگرمیوں کو منظم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود متاثرین تک ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کریں گے، خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں جہاں امداد کی رسائی مشکل ہو رہی ہے۔

نوے ژوند نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور عوام کے مشترکہ اقدامات سے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف ملے گا۔ تنظیم کا یہ پیغام محبت اور ہمدردی پر مبنی ہے، جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم ایک ہے اور ایک ہی رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے