عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”منصب طلب مت کرو، اس لیے کہ اگر مانگے سے وہ تمہیں ملا تو تم اسی کے سپرد کر دیے جاؤ گے، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے مل گیا تو تمہاری اس میں مدد ہو گی۔“
[سنن نسائی، کتاب آداب القضاة، حدیث: 5386]
حکومت اور امارت ایک ذمہ داری ہے جس کی پوری ادائیگی بھی کرنا ہوگی۔ کمی یا کوتاہی کی صورت میں سزا بھی بھگتنا ہوگی، اور کمی یا کوتاہی ہونا لازمی امر ہے۔ اس لیے خواہ مخواہ اس مصیبت کو گلے نہ ڈالا جائے۔ البتہ، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ذمہ داری آن پڑے اور لوگ زبردستی گلے میں ڈال دیں تو اللہ کا نام لے کر اسے سنبھال لیا جائے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی توفیق بھی شامل حال ہوگی اور لوگ بھی تعاون کریں گے۔
سنن الترمذی میں ہے کہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تک تمہارے حکمران بہترین لوگوں میں سے ہوں گے، اور تمہارے مالدار سخی اور بخشش کرنے والے ہوں گے، اور تمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں گے، تو تمہارے واسطے زمین پر رہنا قبر میں جانے سے بہتر ہوگا۔ اور جب تمہارے حکمران تمہارے بدترین لوگ ہوں، مالدار بخیل ہوں، اور تمہاری سربراہی و حکمرانی عورتوں کے سپرد کردی جائے، تو تمہارے لیے زمین پر رہنے سے قبر میں چلے جانا بہتر ہوگا۔”
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ جمل کے زمانے میں اللہ نے مجھے ایک فرمان کی وجہ سے نفع پہنچایا، جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ وہ یہ کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو سلطنت کی حکمرانی دے دی ہے، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے حکمرانی کسی عورت کے سپرد کی ہو۔”
میری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ پہلے اس ملک میں ایک خاتون دو بار وزیراعظم رہی اور اب پنجاب کی وزیراعلیٰ ایک خاتون ہیں۔
ہمارے علماء، ہمارے اسلامی سکالرز، اسلام کے ایکسپرٹ، شیخ الاحادیث، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو واضح ترین احادیث کے باوجود کیسے ان خواتین کو بطور رہنما قبول کر کے ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے رہے؟
اس کا کیا جواز پیش کریں گے اور وہ اپنی صفائی میں کیا کہیں گے؟
سب سے پہلے وہ حدیث یاد رکھیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اللہ نے سخت ناپسند کیا ہے کہ اگر آپ حکمرانی اپنی کوشش سے مانگ کر لیں، تو اس کے نتیجہ میں آپ کو وہ عہدہ سپرد کر دیا جائے گا اور اللہ کی مدد آپ کے ساتھ شامل نہیں ہوگی۔
موجودہ خاتون، جو پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں، دونوں احادیث کی خلاف زندہ مثال ھیں۔ مانگ کر نھیں چھین کر اقتدار میں آئیں ۔ اور پھر بطور خاتون جب اللہ اور رسول ھی انھیں قبول نھیں کررھے تو نتیجہ کیا ھوگا؟
جب سے انہوں نے سیاست میں قدم رکھا، ہم بالکل غیر جانبداری اور حق سچ کی بنیاد پر اگر ان کا تبصرہ کریں، تو وہ دن سے نہ صرف ان کی اپنی سیاسی پارٹی زوال کی جانب چل پڑی، بلکہ ان کے والد کی اچھی یا بری سیاسی ساکھ بھی مجروح ہوئی اور مسلسل گھاٹے میں رہی۔
سوشل میڈیا پر ان خاتون کے حوالے سے لوگوں کے کمنٹس اتنے منفی اور فحش ھوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔
کوئی صرف اقتدار کے مزے لینے کے لیے اتنی بےعزتی کیسے برداشت کر سکتا ہے
پنجاب کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد، ان خاتون سے جو کام سرزد ہو رہے ہیں، جن حرکتوں کی وہ مرتکب ہو رہی ہیں، وہ مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔
حالیہ ان کا دورہ جاپان بھی سوشل میڈیا پر خبر اور تبصرے کی زد میں ہے۔ مبینہ طور پر انہوں نے جاپان سے پہلے سربراہ مملکت کے پروٹوکول کی ڈیمانڈ کی، لیکن جاپان اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے، اس لیے انہوں نے انکار کر دیا۔
پھر جس ھال میں انہیں وہاں قوم سے خطاب کرنا تھا، اس میں شرکت کرنے والے لوگوں کا باقاعدہ ڈیٹا چیک کیا گیا کہ کہیں پہلے تحریک انصاف سے منسلک تو نہیں رھا۔ موبائل لانے پر پابندی تھی،
سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کوئی شخص اس ھال میں میڈم کی تقریر سننے کے لیے بغیر تسموں والے جوتے پہن کر نہیں آئے گا۔
یا خدا، اتنا خوف، اتنا ڈر، اعتماد کی اتنی کمی؟
یہ تب ہی ہوتا ہے جب آپ کو خود بھی یہ ادراک ہو کہ نہ ہم اس عہدے کے اہل ہیں، نہ ہمیں کوئی پسند کرتا ہے، ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ ڈنڈے کے زور پر کر رہے ہیں اور دھونس دھڑکے کے ساتھ کر رہے ہیں۔
کیا فائدہ ایسی زندگی کا؟ کیا فائدہ ایسی دولت کا؟ اور کیا فائدہ ایسے اقتدار کا؟
نہ اقتدار کے ایوانوں میں عزت، نہ سوشل میڈیا پر پذیرائی، نہ بین الاقوامی سطح پر کوئی آبرو۔
ہمارے علماء جو احادیث کی صریح اور عملی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں، کیا انہیں اس حدیث کا نہیں پتہ کہ جنت کی آگ ان لوگوں سے بھڑکائی جائے گی؟ وہ علماء ہی ہوں گے۔
اور کون سے ہوں گے؟ یہ تو اللہ کو ہی معلوم ہے۔
چار دن کی زندگی ہے۔ اگلا لمحہ کب قبر میں آ جائے؟
محترمہ بھی توبہ کر لیں اور باز آئیں تو بہتر ہے۔
علمائے کرام بھی ممبر رسول کی ابرو رکھ لیں، ممبر رسول کی حیا رکھیں تو بہتر ہے۔
ہم سب کو توبہ اور استغفار کی ضرورت ہے۔
قرضے ایسے نہیں اتریں گے، دنیا میں عزت ایسے نہیں بنے گی، ملک میں سکون ایسے نہیں آئے گا۔
قرآن اور احادیث کی خلاف ورزیوں سے باز آئیں۔
پچھلی امتوں کی طرح اللہ کے سامنے نافرمانی اور اکڑنے سے توبہ کرنی ہوگی۔