ایلون مسک: ایک ایسا شخص جو خوابوں کو حقیقت بنا رہا ہے

ایلون مسک صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا انقلابی تصور بھی ہے جو انسانی تاریخ کے دھارے کو موڑنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ وہ نادر فرد ہے جس کی سوچ کی بلندیاں اور عزائم کی وسعتیں عام انسانی فہم سے ماورا ہیں۔ ایلون مسک نے نہ صرف دنیا کو بدلنے کا پختہ عزم کیا ہے بلکہ اس مقصد کے حصول میں ایسی کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں جو کہ کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر سوچ، ہر عمل اور ہر ہدف اس عظیم مقصد کی طرف گامزن ہے کہ انسانیت کو ایک نئے دور میں داخل کیا جائے۔ وہ نہ صرف زمین پر زندگی کو بدل رہے ہیں بلکہ انسانوں کو نئے سیاروں (مریخ پر رہائشی کالونی آباد کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں) میں بسانے کے لیے بھی بھرپور انداز میں سرگرم عمل ہیں۔

ایلون مسک نے اپنی زندگی میں جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ ٹیسلا کے ذریعے انہوں نے آٹوموٹو انڈسٹری کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا، سپیس ایکس کے ذریعے خلائی سیاحت کو حقیقت بنا دیا، نیورالنک کے ذریعے انسانی دماغ اور مشین کے درمیان ربط قائم کرنے کی کوشش کی، اور بورنگ کمپنی کے ذریعے شہری نقل و حمل کے نظام کو جدید ترین اور تیز ترین بنانے کی کوششیں کیں۔ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ صرف پیسہ کمانے کے لیے کام نہیں کرتے، بلکہ ان کا مقصد انسانیت کو آگے بڑھانا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے خود کہا: "اگر آپ مستقبل کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو وہ تمام نئی اور دلچسپ چیزیں کرنا ہوں گی جو زندگی کو بہتر بناتی ہیں”۔

حالیہ برسوں میں ایلون مسک نے سیاسی میدان میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم حامی بن کر ابھرے ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو کروڑوں ڈالر کی مالی امداد فراہم کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں انہوں نے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” (DOGE) کی قیادت کی ہے جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا ہے۔ تاہم، ان کے بعض خیالات جیسا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو "پانزی اسکیم” قرار دینا متنازعہ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کے ڈونلڈ ٹرمپ شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور یوں وہ نہ صرف اپنے سرکاری منصب سے مستعفی ہو گئے بلکہ ٹرمپ سے دیرینہ تعلق ختم ہو گیا۔ چند ہفتے قبل انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس فیصلے میں وہ شش و پنج میں مبتلا ہیں۔

ایلون مسک کی کہانی صرف کامیابیوں کی داستان نہیں، بلکہ مشکلات پر قابو پانے کی ایک عظیم مثال ہے۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے اس بچے کو اسکول میں ہراساں کیا جاتا تھا، ایک دفعہ تو اسے سیڑھیوں سے گرایا گیا اور اتنا مارا گیا کہ بے ہوش ہوگیا۔ لیکن ان مشکلات نے اسے مزید مضبوط بنایا۔ صرف بارہ سال کی عمر میں انہوں نے ایک ویڈیو گیم بنائی اور اسے پانچ سو ڈالر میں فروخت کیا۔ یہ ان کے غیر معمولی تخلیقی ذہن کا پہلا مظاہرہ تھا جو آگے چل کر ٹیسلا، سپیس ایکس اور دیگر دیوہیکل کمپنیوں کی شکل میں سامنے آیا۔

ایلون مسک کی سوچ کی وسعت اور عزم کی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ صرف زمین تک محدود نہیں۔ ان کا خواب مریخ پر انسانی آبادی بسانا ہے اور وہ اس سمت میں مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "وہ اپنی زیادہ تر دولت مریخ پر اڈے کی تعمیر پر خرچ کرنے کو تیار ہیں”۔ ان کی یہ سوچ انہیں دوسرے بڑے کاروباری افراد سے الگ کرتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ "اگر میری زندگی کے اختتام پر میرے بینک میں کروڑوں روپے جمع ہیں تو میں اسے اپنی ناکامی سمجھوں گا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس رقم کو بہتر انداز میں استعمال نہیں کیا”۔

اپنی بے انتہا کامیابیوں اور مقبولیت کے ایلون مسک کی شخصیت اور معاملات تنقید سے بالاتر نہیں۔ ان پر کام کرنے والوں کے ساتھ سخت سلوک کرنے، یونین بنانے پر پابندی لگانے، اور سیاسی طور پر انتہائی دائیں بازو کی حمایت کرنے کے الزامات متواتر لگتے رہے ہیں۔

ایلون مسک کی کہانی ابھی جاری ہے۔ وہ ہر روز نت نئے چیلنجوں کو قبول کرتے ہیں اور ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے وہ الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل ہو، خلائی سفر کا خواب ہو، یا انسانی دماغ اور مشین کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش ہو حقیقت یہ ہے کہ ایلون مسک ہر محاذ پر پوری دلجمعی سے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی سبق یہ ہے کہ "انسان اگر پختہ عزم کر لے تو دنیا میں کوئی خواب ناممکن نہیں”۔ ایلون مسک نہ صرف خود بڑے خواب دیکھتے ہیں بلکہ پوری انسانیت کو بڑے خواب دیکھنے پر آمادہ کر دیتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اس موڑ پر آ کھڑے ہیں جہاں سے انسانی تہذیب کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں: "کچھ بڑا کرنے سے گھبرائیں نہیں”۔ یہی ان کی زندگی کا بنیادی فلسفہ ہے جو انہیں دنیا کا سب سے متاثر کن وژنری شخصیت بنا دیتا ہے۔

ایلون مسک جدید دور کے سب سے کامیاب، متاثر کن اور متنازع شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، توانائی، ٹرانسپورٹیشن اور کاروبار کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا عزم کیا ہے۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والا یہ شخص آج دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہے اور اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ایک دلچسپ مطالعہ بھی۔

ایلون ریو مسک 28 جون 1971 کو پریٹوریا، جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایرول مسک ایک جنوبی افریقی انجینئر تھے جبکہ ان کی والدہ مائی مسک ایک کینیڈین ماڈل تھیں۔ ان کا بچپن کچھ خاص خوشگوار نہیں تھا۔ وہ اکثر اپنے ہم عمر لڑکوں کے ہاتھوں تنگ کئے جاتے تھے جس کا تذکرہ اوپر گزرا ہے۔ قدرت کی عجیب تقسیم ہے کچھ لوگ مشکلات میں پڑ کر حد درجہ کمزور ہو جاتے ہیں اور کچھ مشکلات سے گزر کر مزید مضبوط اور طاقتور بن جاتے ہیں۔ 1989 میں، 18 سال کی عمر میں، ایلون فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے کینیڈا چلے گئے۔ وہ اپنی کینیڈین والدہ ے ساتھ رہنے لگا جہاں خوشی اور شہرت دونوں میسر آئیں۔

تعلیمی لحاظ سے ایلون مسک نے کوئینز یونیورسٹی، کینیڈا میں دو سال گزارنے کے بعد یونیورسٹی آف پنسلوانیا منتقل ہوگئے جہاں سے انہوں نے فزکس اور اکنامکس میں ڈگریاں حاصل کیں۔ 1995 میں انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا لیکن صرف دو دن بعد ہی تعلیم چھوڑ دی تاکہ وہ انٹرنیٹ، قابل تجدید توانائی اور خلائی سفر جیسے شعبوں میں اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

ایلون مسک کا کاروباری سفر 1995 میں زیپ ٹو نامی کمپنی سے شروع ہوا جو انہوں نے اپنے بھائی کمبل مسک اور گریگ کوری کے ساتھ مل کر قائم کی تھی۔ یہ کمپنی اخبارات کے لیے آن لائن سٹی گائیڈز تیار کرتی تھی۔ اس وقت ایلون مسک کے پاس اتنی مالی استطاعت نہیں تھی کہ وہ اپنا دفتر یا اپارٹمنٹ کرائے پر لے سکیں۔ وہ صوفے پر سوتے تھے اور ایک کمپیوٹر کو اپنے بھائی کے ساتھ باری باری استعمال کرتے تھے۔ 1999 میں Compaq نے زیپ ٹو کو 307 ملین ڈالر میں خرید لیا جس سے ایلون مسک کو بائیس ملین ڈالر ملے۔

زیپ ٹو کی فروخت کے بعد ایلون نے ایکس ڈاٹ کام نامی آن لائن بینکنگ کمپنی قائم کی جو بعد میں پے پال بن گئی۔ دو ہزار دو میں ای بے نے پے پال کو 1.5 بلین ڈالر میں خرید لیا جس سے ایلون مسک کو 165 ملین ڈالر ملے ۔ یہ وہ فنڈز تھے جنہوں نے انہیں اپنے بڑے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے قابل بنایا۔

دو ہزار دو میں ایلون مسک نے اسپیس ایکس (اسپیس ایکسپلوریشن ٹیکنالوجیز کارپوریشن) قائم کی جس کا بنیادی مقصد خلائی سفر کی لاگت کو کم کرنا اور آخرکار مریخ پر انسانی کالونی قائم کرنا تھا۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کمپنی اس لیے قائم کی کیونکہ وہ امریکہ کے خلائی پروگرام کی سست روی سے مایوس تھے۔

سپیس ایکس نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں جن میں پہلا نجی طور پر فنڈ شدہ راکٹ جو زمین کے مدار تک پہنچا (فالکن ون، دو ہزار آٹھ)، پہلا نجی کمپنی جس نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک کارگو پہنچایا (دو ہزار بارہ)، اور پہلا دوبارہ استعمال ہونے والا راکٹ (دو ہزار پندرہ) شامل ہیں۔

دو ہزار چار میں ایلون مسک ٹیسلا موٹرز میں سرمایہ کار بنے اور بعد میں اس کے سی ای او اور پروڈکٹ آرکیٹیکٹ کے طور پر خدمات انجام دینے لگے۔ ٹیسلا کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کو عام استعمال کے قابل بنانا تھا۔ ٹیسلا نے نہ صرف الیکٹرک کاروں کو جدید اور پرکشش بنایا بلکہ اس نے اپنے پیٹنٹس بھی اوپن کر دیے تاکہ الیکٹرک کاروں کی صنعت کو تیز رفتاری سے ترقی کرنے میں مدد مل سکے۔

ایلون مسک نے کئی انقلابی منصوبے شروع کیے ہیں مثلاً
سولر سٹی یعنی شمسی توانائی کا نظام، اس طرح نیورلنک یعنی انسانی دماغ اور کمپیوٹر کا انٹرفیس(انسانی دماغ اور کمپوٹر کا ربط و ضبط قائم کرنا، اس طرح دی بورنگ کمپنی یعنی زیر زمین ٹرانسپورٹیشن سسٹم کا آغاز جو کہ نہایت جدید اور تیز ترین رفتار کا حامل ہوگا، اس طرح ہائپر لوپ یعنی انتہائی تیز رفتار ٹرانسپورٹیشن سسٹم نصب کرنا۔ ایلون مسک ہر وہ خیال اور منصوبہ نہ صرف سوچتا ہے بلکہ اس کو عملاً اختیار بھی کرتا ہے جو انسانی زندگی میں جدت، سرعت اور سہولت لا سکتا ہے۔

ایلون مسک کی شخصیت اور کامیابی کے رازوں کے بارے میں ان کی سوانح عمری لکھنے والے والٹر آئزاکسن کا کہنا ہے کہ "ایلون میں متضاد خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ وہ جلد بازی میں فیصلے لیتے ہیں اور متنازع بیانات دیتے ہیں، لیکن یہی لاپرواہانہ رویہ ان کی کمپنیوں کی کامیابی کا باعث بن رہا ہے”۔

ایلون مسک کے کامیابی کے چند اہم راز

1. صرف پیسے کے لیے کام نہ کریں: ایلون کا کہنا ہے کہ "وہ دولت کے پیچھے نہیں بھاگتے”۔ دو ہزار چودہ میں انہوں نے کہا تھا کہ "انہیں معلوم نہیں کہ وہ کتنے امیر ہیں”۔

2. اپنے شوق کا پیچھا کریں: ایلون کا کہنا ہے کہ "اگر آپ مستقبل کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو تمام نئی اور دلچسپ چیزیں کرنا ہوں گی جو کہ زندگی کو بہتر بناتی ہیں”۔

3. بڑے خواب دیکھیں: ایلون مسک کار کی صنعت میں انقلاب، مریخ پر آبادی، ویکیوم ٹیوب میں تیز رفتار ٹرینیں، اور انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے مربوط کرنے جیسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

4. خطرات مول لیں: ایلون مسک خطرات اٹھانے سے نہیں گھبراتے۔ جب اسپیس ایکس کے پہلے تین راکٹ لانچ ناکام ہوئے تو انہوں نے ہار نہیں مانی بلکہ اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھیں یہاں تک کہ دو ہزار پندرہ میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔

5. مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں: ایلون مسک خود کو سرمایہ کار کی بجائے ایک انجینئر سمجھتے ہیں اور تکنیکی مسائل کو خود حل کرنے میں بے انتہا لطف محسوس کرتے ہیں۔

ایلون مسک کی ذاتی زندگی اور طرز زندگی

خاندانی تعلقات

ایلون مسک کی ذاتی زندگی کافی پیچیدہ رہی ہے۔ ان کی تین خواتین کے ساتھ شادیاں ہوئیں اور ان کے بارہ بچے ہیں۔ مغربی مردوں کو جہاں عورتوں کے حوالے سے بے پناہ آزادی میسر ہے وہاں وہ حد درجہ نا آسودگی کے بھی شکار ہیں۔ رشتوں کے بعد فوراً علاحدگی، ناچاقی یا طلاق کا خطرہ ہر وقت سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ایلون مسک بھی زندگی ان مسائل اور احوال سے بار بار گزرے ہیں۔ ان کی تین بیویوں کا مختصر تذکرہ مندرجہ ذیل ہے:

1. جسٹن مسک: ایلون مسک نے دو ہزار میں کینیڈین مصنف جسٹن ویلسن سے شادی کی جس سے ان کے پانچ بچے ہوئے۔ دو ہزار آٹھ میں طلاق ہو گئی۔ جسٹن کا کہنا تھا کہ ایلون مسک ان کے ساتھ بیوی کی بجائے ملازم جیسا سلوک کرتے تھے۔

2. طالولہ ریلے: ایلون مسک نے دو ہزار دس میں برطانوی اداکارہ طالولہ ریلے سے شادی کی جو دو ہزار بارہ میں طلاق پر ختم ہوئی۔ دو ہزار تیرہ میں انہوں نے دوبارہ شادی کی جو دو ہزار سولہ میں دوبارہ طلاق پر منتج ہوئی۔

3. گرائمز: دو ہزار اٹھارہ میں ایلون مسک کینیڈین گلوکارہ گرائمز کے ساتھ تعلقات میں آئے۔ ان کے دو بچے ہوئے جن میں سے ایک کا نام ایکس اور دوسری کا نام وائی ہے۔

عام زندگی میں حیرت انگیز طور پر، دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سابقہ گرل فرینڈ گرائمز کے مطابق وہ "حد غربت سے نیچے” کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ گرائمز نے بتایا کہ "ایک بار انہوں نے لاس اینجلس میں رہائش کے دوران میٹریس کی سائیڈ پر ایک سوراخ کو دریافت کیا۔ اس موقع پر نئے میٹریس کو خریدنے کی بجائے ایلون مسک نے مشورہ دیا کہ اس پرانے میٹریس کو ہی گھر میں رکھیں نئے کی ضرورت نہیں”۔ اس طرح دو ہزار بیس میں ایلون مسک نے اعلان کیا کہ وہ اپنے تمام گھر اور بیشتر اثاثوں کو فروخت کر دیں گے تاکہ مریخ میں انسانی کالونی کے لیے سرمایہ کاری کر سکیں۔ اس وقت وہ پچاس ہزار ڈالر کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جس کو انہوں نے سپیس ایکس سے کرائے پر لیا ہے۔

ایلون مسک کے سیاسی اور سماجی کردار

دو ہزار پچیس میں ایلون مسک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اعلی کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، اگرچہ وہ صرف چند ماہ ہی اس عہدے پر رہے کیونکہ دونوں کے بوجوہ سنگین اختلافات پیدا ہو گیے تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ایلون مسک اکثر اپنے بچوں کو اہم سیاسی اور کاروباری ملاقاتوں میں ساتھ لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کا چار سالہ بیٹا ایکس وائٹ ہاؤس کی میٹنگز میں حاضر ہوتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک سیاسی حکمت عملی ہوسکتی ہے تاکہ لوگوں کی نظروں میں ان کا تاثر عوامی بن سکے۔

ایلون مسک کے مستقبل سے متعلق چند بڑے عزائم

1. مریخ پر انسانی کالونی بسانا: ایلون کا سب سے بڑا خواب مریخ پر انسانی آبادی قائم کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس منصوبے پر ان کی تمام جمع پونجی بھی لگ جائے تو انہیں بالکل حیرت نہیں ہوگی۔

2. نیورلنک: انسانی دماغ اور کمپیوٹر کا انٹرفیس بنانا جو مختلف عصبی بیماریوں کے علاج میں مددگار ہوسکتا ہے۔

3. ہائپر لوپ: انتہائی تیز رفتار زیر زمین ٹرانسپورٹیشن سسٹم جو سفر کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے۔

4. مستقل قابل تجدید توانائی: ٹیسلا اور سولر سٹی کے ذریعے دنیا کو فوسل فیول سے آزاد کرانا ہے۔

ایلون مسک زندگی میں کامیابی اور مقبولیت کے باوجود ایک متنازع شخصیت بھی ہیں اور ان پر کئی طرح کے تنقیدی الزامات متواتر لگتے ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

1. کام کے سخت حالات: ٹیسلا کے کچھ ملازمین نے کام کے سخت حالات پر متعدد بار تنقید کی ہے۔

2. ٹویٹر خریداری: دو ہزار بائیس میں ٹویٹر کو چوالیس بلین ڈالر میں خریدنے کے بعد کئی متنازع فیصلوں پر تنقید ہوئی۔

3. عوامی بیانات: کئی مواقع پر ان کے عوامی بیانات متنازعہ ثابت ہوئے ہیں۔ اپنے دور مشیری میں تمام اعلیٰ افسران کو ہدایت جاری کی کہ "ہر ہفتے مجھے پراگریس رپورٹ پیش کیا کریں اور تسلی بخش کارکردگی نہ دکھانے والے افسران گھروں کو چلے جائیں”۔

4. ٹیکنالوجی پر تنقید: کچھ ماہرین ان کے بعض ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں کو ناقابلِ عمل قرار دے رہے ہیں۔

ایلون مسک کی کل مالیت مارچ دو ہزار بائیس تک دو سو ستر ارب ڈالر تھی جس میں رواں سال حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ بعض لوگوں نے اس اضافے کو سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں، لیکن ان کی زیادہ تر دولت ان کی کمپنیوں (خاص طور پر ٹیسلا اور سپیس ایکس) میں ان کی ملکیت کی صورت میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیسلا میں ان کی تنخواہ صرف ایک ڈالر سالانہ ہے۔

ایلون مسک ایک حد درجہ ذہین و فطین، کامیاب و کامران، موثر و معتبر اور متحرک و فعال شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ پُرعزم، مستقل مزاج، محنتی اور جفاکش شخص بھی ہیں۔ ان کی زندگی اور طرزِ عمل میں بہت ساری خوبیاں ایسی موجود ہیں جن کو سیکھ کر عام افراد بھی خود کو خاص افراد میں شامل کر سکتے ہیں۔ اپنے اوقات، سرمائے اور مواقع سے محنت اور محبت کے ساتھ کام لے کر یہ کارنامہ انجام دینا زیادہ مشکل نہیں۔ انسانوں کے دماغ اور حوصلوں میں ایسی طاقت اور توانائی موجود ہے کہ اگر اس کو سمجھداری اور ذمہ داری سے کام میں لائے تو ہر انسان مختلف شکلوں میں معجزے دکھا سکتا ہے۔ ایک عرض یہ بھی کرتا چلوں کہ ایلون مسک کی مریخ پر انسانی کالونی بنانے کی خواہش اپنی جگہ درست سہی لیکن ان کو اپنی کچھ توجہ زمین کی تاریک اور تباہ حال بستیوں کو روشن اور آباد کرنے پر بھی مرکوز رکھنی چاہیے مجھے امید ہے اس کنٹری بیوشن سے ان کی عزت اور محبت میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا۔ گزشتہ دو برسوں میں مشرق وسطی کی ایک خوبصورت انسانی بستی، ایک جابر طاقت کے ہاتھوں جہنم میں تبدیل ہو گئی لیکن اس پورے عرصے میں، میں نے ایلون مسک کی زبان سے ایک لفظ تک نہیں سنا یہ بلاشبہ ان کی حساس طبیعت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو انصاف اور احساس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے خواہ وہ جس خطے، مذہب، رنگ یا نسل سے متعلق ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے