زندگی ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان تنہا کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر قدم پر اسے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر کامیابی کے راستے پر گامزن ہوتے وقت۔ محنت تو بنیادی شرط ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی، رہنمائی، اور عملی مدد فراہم کرنے والے لوگوں کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، دوست، یا کوئی دانشور شخصیت یہ سب مل کر انسان کی زندگی کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میری اپنی زندگی بھی ایسے ہی بیش بہا لوگوں کے تعاون، محبت، اور رہنمائی سے سجی ہوئی ہے، جن میں سے ہر ایک نے میرے وجود کے کسی نہ کسی پہلو کو نکھارنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
میرے تعلیمی سفر کی بات کریں تو اس میں ایک اہم نام ہمارے پڑوس میں رہنے والی محترمہ خوش بخت کا ہے، جو نہ صرف ایک خوش اخلاق اور خوددار شخصیت ہیں، بلکہ اپنے والدین کی فرمانبردار بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کی واحد کفیل بھی ہیں۔ انہوں نے میٹرک میں داخلہ لینے کا مشورہ دینے کے علاوہ، مجھے انگریزی اور ریاضی جیسے مشکل مضامین میں بھرپور مدد فراہم کی۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے قابل ذکر ہے کہ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں جہاں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کا گھر سے نکل کر پڑھنا بھی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا۔ایسے ماحول میں میرا تعلیمی سفر آسان نہیں تھا قدم قدم پر مشکلات، مخالفتوں، اور اپنی جان تک کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خوش بخت جیسی ہستیوں کے تعاون نے مجھے اس راستے پر ثابت قدم رکھا۔
پھر 14 جون 2012 کو اللہ نے میرے راستے میں ایک اور عظیم ہستی کو لا کھڑا کیا محترمہ سٹائلا مسیح، میری جگری دوست، میری رہنمائی کرنے والی، میری حوصلہ افزائی کرنے والی۔ انہوں نے نہ صرف مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر یہ سبق سکھایا کہ خاموشی سے بس آگے بڑھتے جاؤ۔ تعلیم کے میدان میں ہو یا ملازمت کے شعبے میں، انہوں نے ہمیشہ میرا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے اخلاق، حیا، پردہ داری، اور ہمدردی کی مثال ملنی مشکل ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں یا دیگر مذاھب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ کس طرح بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے، وہ خدمت خلق کو اپنا فرض سمجھتی ہیں، اور فرقہ واریت جیسی ذہنی بیماریوں سے پاک ہیں۔ ایسے لوگ ہی زندگی کے دھارے کو بدل دیتے ہیں، اور میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ان جیسی عظیم ہستی کی رفاقت میسر آئی۔
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو نیک دل، خوش اخلاق، اور حوصلہ مند لوگوں سے ملا دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک اور شخصیت جنہوں نے میری زندگی پر گہرا اثر ڈالا، وہ ہیں کلثوم زیب۔ ان سے ملنے سے پہلے تک میں اپنی مادری زبان پشتو سے بالکل نابلد تھی نہ اسے پڑھ سکتی تھی، نہ لکھ سکتی تھی، نہ ہی اس میں کوئی خاص دلچسپی تھی۔ لیکن 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی نیشنل آرٹ کونسل کے تین روزہ مادری زبانوں کے میلے نے سب کچھ بدل دیا۔ اس میلے میں مجھے مینجمنٹ ٹیم کے ساتھ مل کر مہمانوں کے استقبال اور ریکارڈنگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہیں پر میری ملاقات محترمہ کلثوم زیب سے ہوئی، جو میرے لیے ایک اعزاز کی بات تھی۔ ان کی محبت، شفقت، اور حوصلہ افزائی نے مجھے پشتو سیکھنے پر آمادہ کیا۔ آج میں نہ صرف اس زبان کو پڑھ اور لکھ سکتی ہوں، بلکہ اس کے فروغ کے لیے بھی کام کر رہی ہوں۔ اگر وہ میری زندگی میں نہ آتیں، تو شاید میں کبھی اپنی مادری زبان سے اس طرح نہ جڑ پاتی۔ محترمہ کلثوم زیب میری زندگی کا وہ روشن ستارہ ہے جن کی کرنوں نے میرے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیا۔
یہ میلہ پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے حامل افراد کا مرکز بنا ہوا تھا، مگر محترمہ کلثوم زیب نے کبھی بھی کسی سے زبان یا علاقے کی بنیاد پر فاصلہ نہیں رکھا۔ ان کا رویہ اتنا جامع اور پرکشش تھا کہ وہ ہر خاتون سے گلے ملتیں، ان کے باتیں غور سے سنتیں اور اپنے خلوص سے سب کو اپنا بنالیتی تھیں۔ گویا وہ سب کے لیے ایک مہربان بہن یا ماں کی طرح تھیں، جن کی محبت اور ہمدردی کا دائرہ کبھی محدود نہ ہوا۔ ان کی یہ خصوصیت اتنی متاثر کن تھی کہ آج بھی اسے یاد کرکے دل عقیدت سے بھر جاتا ہے۔ ان کی ہر دم تازہ دم محبت، بے پناہ ہمت، خلوص، مہربانی اور خدمت گزاری نے نہ صرف انسانیت کے بارے میں میرے اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ یہ احساس بھی دلایا کہ سچی انسانیت اب بھی موجود ہے۔
مزید برآں! محترمہ کلثوم زیب کا نام پشتو ادب اور تعلیم کے افق پر ایک درخشاں ستارے کی مانند ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کو علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا ادبی سفر 45 سال قبل شروع ہوا، جب انہوں نے محسوس کیا کہ پختون خواتین کے فن کو وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو ان کا حق ہے۔ یہ احساس ان کے لیے ایک چیلنج بنا، جس کے نتیجے میں 2017 میں "خویندے ادبی لخکر” (بہنوں کا ادبی لشکر) وجود میں آیا۔
یہ پشتون خواتین کی پہلی باقاعدہ ادبی تحریک تھی، جو آج 450 سے زائد خواتین کو متحد کرچکی ہے۔ اسی سال انہوں نے خواتین کے ادبی محاذ "خال پختونخوا” کی بنیاد بھی رکھی، جو پشتو ادب کی تاریخ میں پہلی خواتین کی ادبی تنظیم بن گئی۔ دیگر ادبا کے مشورے سے اس کا نام "خال” تجویز ہوا، جو ایک مختصر مگر جامع مخفف ہے۔ محترمہ کلثوم زیب نے دن رات ایک کر کے صرف ایک سال میں تین بڑے ادبی پروگرامز کامیابی سے منعقد کیے، جو نہ صرف معزز بلکہ تاریخی اہمیت کے حامل تھے۔ ان کی کوششوں نے نہ صرف خواتین کو بااختیار بنایا بلکہ پشتو ادب کو بھی ایک نئی پہچان دی۔ ان کا خواب تھا کہ پختون خواتین کا ادب نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر پہچانا جائے، اور ان کی کاوشیں اس سمت میں ایک مضبوط سنگ میل ثابت ہوئی ہیں۔
ادبی دنیا میں محترمہ کلثوم زیب کا قلم ہمیشہ متحرک رہا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے ناول، افسانے، تراجم، تحقیق و تنقید، تالیف، کالم اور ادارت جیسے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی تصانیف کی فہرست طویل ہے، جو پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں لکھی گئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ ان کی پہلی شعری مجموعہ، تږې سترګې (پیاسی آنکھیں) 2000 میں شائع ہوئی، جبکہ اردو میں، لمس حیات (2016) اور کسک، جیسی کتابیں ان کے کلام کی وسعت کی گواہ ہیں۔ 2018 میں "تور ګلاب” (افسانے) اور "ځلنده سباؤن” (شاعری) منظر عام پر آئیں، جنہوں نے ادبی حلقوں میں گہری پذیرائی حاصل کی۔ 2020 میں ان کا ضخیم پشتو ناول "چاند ګل” شائع ہوا، جو فنِ ناول نگاری میں ایک اہم اضافہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ تاریخی ناول "پينځه کردارونه” (پانچ کردار) کو پختونخوا کا پہلا تاریخی ناول ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تحقیق کے میدان میں بھی ان کا کام نمایاں ہے۔ 2021 میں ان کی کتاب "پښتنې ملغلرې” (پشتون خواتین کی تاریخ) شائع ہوئی، جس میں تین سو سال کی پشتون خواتین کی تحریری تاریخ کو یکجا کیا گیا، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر سلمیٰ شاہین پر تحقیقی کتاب "سلمیٰ شاہین: فن اور شخصیت” اور "پشتون خواتین کے منتخب افسانے” جیسی کتب نے ان کے تحقیقی مقام کو مزید مستحکم کیا۔ ان کے سفرنامے "زه کابل ته ځم” (میں کابل جارہی ہوں) اور تراجم جیسے "زه سوزم” (اردو ناول "میں سوزم” کا پشتو ترجمہ) ان کی ادبی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی طرح بچوں کے لیے محترمہ کلثوم زیب کی خدمات بھی قابل قدر ہیں۔ انہوں نے 46 کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں سے 42 فروغ تعلیم و آگہی اور 4 پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ” کے لیے لکھی گئیں، جو نئی نسل کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے بھی انہوں نے پشتو ادب کو فروغ دیا، جس میں اے وی ٹی خیبر چینل سے ادبی تړون (2011-12) اور کافی ہاؤس (2016-17) جیسے پروگرامز کی میزبانی شامل ہے، جبکہ پختونخوا ریڈیو پر ادبی رنگون (2020) کے نام سے ایک ادبی سلسلہ بھی چلایا، جو سامعین میں مقبول ہوا۔ ان کی ادبی خدمات کے تحت خال کا تین ماہی مجلہ دردانے 2022 سے شائع ہو رہا ہے، جس کے نو شمارے اب تک منظر عام پر آچکے ہیں۔ یہ پشتو ادب کی تاریخ میں پہلا باقاعدہ خواتین کا مجلہ ہے، جس کی مدیرہ، نائب مدیرہ، لیگل ایڈوائزر اور تمام انتظامی بورڈ خواتین پر مشتمل ہے، جو ان کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں محترمہ کلثوم زیب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے کر اپنا تمام تر وقت ادب اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ ملازمت کے دوران ہی انہوں نے خواتین اساتذہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا۔ ان کی قائم کردہ تنظیم آل فیمیل ٹیچرز ایسوسی ایشن پختونخوا اساتذہ کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہی۔ پرائمری سطح کے نصاب کی متعدد کتابیں بھی ان کے قلم سے وجود میں آئیں، جن میں فروغ تعلیم و آگہی، پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ، ڈی سی ٹی، اور ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے لکھی گئی کتابیں شامل ہیں۔ یہ کتابیں اسکولوں کے نصاب کا حصہ ہیں، اور 2023-24 میں دوسری جماعت کی سرکاری نصابی کتاب بھی انہیں کے قلم سے تیار ہوئی ہے، جو ان کے تعلیمی میدان میں گہرے اثرات کی غماز ہے۔
محترمہ کلثوم زیب کی شخصیت ایک نایاب گہرائی اور تنوع لیے ہوئے ہے، جو گھریلو زندگی کی رعنائیوں اور سماجی خدمات کی عظمت کو یکجا کرتی ہے۔ اگرچہ وہ ایک بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی سیاست کو اپنا مرکز نگاہ نہیں بنایا۔ ان کا مشن خواتین کی عملی تربیت اور بااختیار بنانے تک محدود رہا ہے۔ خال پختونخوا کے نام سے ان کا قائم کردہ پلیٹ فارم کسی خاص سیاسی نظریے کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ یہ تمام مکاتب فکر کی خواتین کے لیے ایک مشترکہ محفل ہے۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے محض نعروں اور تقریروں پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی۔ تعلیم، روزگار، اور قانونی آگاہی جیسے شعبوں میں ان کے منصوبوں نے ہزاروں خواتین کی زندگیاں بدل دی ہیں۔
محترمہ کلثوم زیب کی شخصیت کا مرکزی نکتہ ان کا راسخ ایمان اور انسانیت سے والہانہ محبت ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی خدمت کے لیے بے چین رہتی ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے مسائل ان کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان کی کارکردگی دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اتنی محنت کے بعد بھی نہ تھکے۔ ان کے نزدیک سستی اور مایوسی جیسے رجحانات ناقابل قبول ہیں۔ ہر لمحہ کو بہتر بنانے کا جذبہ ان کے خون میں شامل ہے، اور یہی کیفیت ان کی صحبت میں بیٹھنے والے ہر فرد پر منتقل ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف خود متحرک رہتی ہیں بلکہ دوسروں کو بھی زندگی کے مثبت پہلوؤں کی طرف راغب کرتی ہیں۔
گھریلو زندگی میں وہ ایک مثالی ماں، نرم خوں، محبت کرنے والی بیوی اور گھر کی رونق ہیں۔ ان کا گھر ہمیشہ مہمانوں سے بھرا رہتا ہے، جن کی وہ نہایت خلوص اور توجہ سے خدمت کرتی ہیں۔ ان کی مہمان نوازی ضرب المثل ہے نہ صرف کھانے پینے کے معیار پر وہ خصوصی توجہ دیتی ہیں بلکہ مہمانوں کے دلوں کو بھی جیت لیتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے وہ انتہائی سادگی پسند ہیں۔ پاسٹ فوڈ یا بھاری بھرکم کھانوں کے بجائے وہ سادہ غذا کو ترجیح دیتی ہیں، یہاں تک کہ وہ کہتی ہیں: فاسٹ فوڈ سے بہتر ہے کہ میں سوکھی روٹی کھا لوں۔ لباس اور پوشاک کے معاملے میں ان کا ذوق نہایت اعلی ہے۔ وہ ہمیشہ معیاری اور باوقار انداز اختیار کرتی ہیں، جو ان کی شخصیت کی شائستگی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ بلکہ یہ ہی نہیں وہ تہذیب و شائستگی کی پیکر ہے، اور ہمیشہ دوسروں کو بھی تہذیبی اصولوں پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔
محترمہ کلثوم زیب کی تخلیقات اور خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اسے ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں، جو شاعری، ناول نگاری، تحقیق، ترجمہ، صحافت اور تعلیم جیسے میدانوں میں یکساں مہارت رکھتی ہیں۔ ان کا قلم ہمیشہ حق گوئی اور بے باکی کا علمبردار رہا ہے، جبکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو ایک مثالی انسان کی عکاسی کرتا ہے۔ پشتو ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، کیونکہ وہ نہ صرف ایک عظیم ادیبہ بلکہ ایک روشن ضمیر انسان بھی ہیں، جنہوں نے معاشرے کو بہتر راہیں دکھائی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی ہی نیک سیرت اور بااخلاق شخصیات کی صحبت نصیب فرمائے، جو نہ صرف ہمارے کردار کو سنوارتی ہیں بلکہ ہمیں انسانیت کی خدمت کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ ان جیسی ہستیاں معاشرے کے لیے مشعل راہ ہیں، اور ان کی کوششیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔