حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریاں، تباہ کن ماحولیاتی تغیرات اور میرا ریسرچ پراجیکٹ

آج سے ٹھیک گیارہ سال قبل میں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں گریجویشن کی ڈگری لی ہے۔ آج جو حال احوال ملک کو درپیش ہیں عین یہی حالات اس وقت بھی درپیش تھے یعنی اس وقت بھی پاکستان دو مسائل کے سبب مشکل حالات سے گزر رہا تھا ایک طرف مون سون بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلابوں نے کے پی کے سمیت ملک بھر کے مختلف علاقوں کا احاطہ کیا تھا، سیلابی تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور دوسری طرف شدّت پسندی کے روز بہ روز بڑھتے واقعات۔

اس وقت کا میڈیا اور محفلیں دونوں اس بات کی واضح عکاسی کر رہے تھے کہ معاشرہ درپیش مسائل سے کس قدر شدت کے ساتھ متاثر ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مختلف علاقوں میں آنے والے سیلابوں سے گیارہ سو افراد موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں جبکہ پینتیس ہزار زخمی ہوئے اور ساڑھے تین کروڑ لوگ مجموعی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ فصلوں، مال مویشی، زمینوں، گھروں، بازاروں، سڑکوں، پلوں اور جذباتی صدموں ایسے بے شمار نقصانات سمیت بے بسی و بے یقینی کے احساس میں مبتلا افراد کے حوالے سے کوئی معتبر جائزہ ابھی موجود نہیں۔

انسان پر ازل سے فیصلہ کن اثرات اس کے ماحول سے پڑتے ہیں۔ سماج، معاش، صحت، اخلاق، رجحان، ادب، ثقافت اور صحافت سمیت پوری زندگی دراصل مخصوص ماحول کی گرفت میں ہوتی ہے اور یہ گرفت اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ کوئی بھی مائی کا لعل خود کو اس سے آزادی نہیں دلا سکتا۔ اکیسویں صدی کا فرد گیارہویں صدی میں نہیں جا سکتا اور نہ ہی مشرق کا باسی مغربی تشخص اور ہستی کے ساتھ جی سکتا ہے ہاں چھوٹا موٹا اور سطحی قسم کا نقل اتارنا ایک بالکل الگ بات ہے۔

اس حقیقت کا اندازہ مجھے اس وقت زیادہ وضاحت سے ہوا جب آخری سمیسٹر کا آغاز ہو رہا تھا اور پوری کلاس نگران استاد سے ریسرچ پراجیکٹ کے حوالے سے مشاورت میں مصروف تھی میں حیرت زدہ رہ گیا جب کلاس کے نوے فیصد طلبا نے ط ا ل ب ا ن کے اٹھان اور پھیلاؤ پر ریسرچ پراجیکٹ تیار کرنے کی خواہش ظاہر کی، چند ایک نے فلم انڈسٹری پر کام کا عزم کیا جبکہ میں واحد طالب علم تھا جس نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا پرنٹ میڈیا میں کوریج کے حوالے سے جائزہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی۔ سر انعام الرحمن جو ہمارے نگران تھے، نے مجوزہ موضوع پر بھرپور حوصلہ افزائی کی اور اس کی اہمیت پر سب کے سامنے کھل کر روشنی ڈالی۔ سوں ہم نے محترم انعام الرحمن صاحب کے زیر نگرانی اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنے تحقیقی پراجیکٹ پر کام کا آغاز کیا جس کے چند جھلکیاں قارئین کو پیش کیے جارہی ہیں۔ مجھے امید ہے یہ آپ کو دلچسپ لگیں گی۔

01. تعلیمی دورانیہ

میرا تعلیمی دورانیہ یونیورسٹی میں 2007ء سے 2011ء تک پر محیط تھا۔

02. میرا رجسٹریشن نمبر

FSS/BSMC/F07/-50

03. میرے ریسرچ پراجیکٹ کا عنوان

پاکستان کے دو معروف انگریزی اخبارات ڈان اور دی نیوز کی طرف سے ماحولیاتی مسائل سے متعلق کوریج، موازنہ پر مبنی مطالعہ۔

04. اعلامیہ

میں صمیم قلب سے اعلان کرتا ہوں کہ یہ پراجیکٹ رپورٹ نہ تو مجموعی طور پر اور نہ ہی جزوی طور پر کسی ذریعہ سے نقل کی گئی ہے۔ مزید یہ بھی اعلان کیا جاتا ہے کہ میں نے یہ رپورٹ مکمل طور پر اپنے اساتذہ اور سپروائزر کی مخلصانہ رہنمائی میں اپنی ذاتی کوششوں کی بنیاد پر مکمل کی ہے۔ اگر اس رپورٹ کا کوئی بھی حصہ نقل کیا ہوا یا رپورٹ کیا ہوا پایا گیا تو میں اس کے تمام تر نتائج کے لیے تیار رہوں گا۔ اس رپورٹ میں پیش کردہ کام کا کوئی حصہ اس یونیورسٹی یا کسی دوسری یونیورسٹی کے کسی دوسری ڈگری یا اہلیت کے لیے کسی درخواست کی حمایت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

05. اعتراف

تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے، جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، جس نے مجھ جیسے کم مایہ فرد کو توفیق عطا کر کے اس منصوبے کو مکمل کرنے کا قابل بنایا۔

میں اس خوشگوار موقع پر اپنے نہایت ہی مشفق اور مہربان نگران سید انعام الرحمن کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ اپنی بہترین رہنمائی اور مخلصانہ تعاون سے میرا حوصلہ بلند رکھا۔

مجھے اس بات کے اعتراف میں بھی کوئی جھجک نہیں کہ میں محترم سید انعام الرحمن صاحب کی بیش بہا تجاویز، مخلصانہ رہنمائی اور مشفقانہ مددگاری کے بغیر یہ پراجیکٹ مکمل نہیں کر سکتا تھا۔

انسان کو ہر چھوٹے بڑے منصوبے کے لیے ایک مکمل سپورٹ سسٹم درکار ہوتا ہے اس کے بغیر وہ کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہ سپورٹ سسٹم اساتذہ، خاندان، دوست و احباب اور عزیز و اقارب کے مجموعی کردار، حمایت اور خلوص سے مل کر بنتا ہے۔ میں اپنے تمام اساتذہ، دوست و احباب اور عزیز و اقارب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نہ صرف شکر گزار ہوں بلکہ ان سب کے لیے ہر دم دعا گو بھی کہ ان سب کے بغیر میرے لیے چنداں ممکن نہ تھا کہ میں یہ منصوبہ مکمل کر پاوں گا۔

میں اپنے کلاس فیلوز اور شعبہ انوائرمینٹل سائنس کے دو طلباء سید کفایت اللہ جان اور عدنان اللہ خان کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی تاکہ میں اپنے پراجیکٹ کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے قابل ہو جاؤں۔

آخر میں اپنے خاندان کے تمام افراد کی حمایت اور محبت کا اعتراف بھی کرنا چاہوں گا۔ میں صمیم قلب سے یہ حقیقت تسلیم کرتا ہوں کہ میں اپنی تمام تر کامیابیوں کا مرہون منت اپنے حقیقی، مخلص اور سب سے زیادہ محبت کرنے والے والدین کی بدولت ہوں، جو زندگی کے سفر میں میرے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، اور جن کی دعائیں میرے لیے ہمیشہ عزم، اطمینان اور حوصلے کا باعث ہیں۔

06. صورت مسئولہ

تاریخی طور پر ترقی پذیر قومیں ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرتی چلی آرہی ہیں۔ ماحولیاتی مسائل پر کم سے کم میڈیا کوریج اس صورتحال کی ایک مثال ہے۔ پاکستان میں بھی صورتحال قطعی مختلف نہیں، ملک میں ماحولیاتی معلومات کا حصول کافی مشکل ہے جبکہ ماحولیاتی شعور کا معاملہ تو اور بھی سنگین ہے۔ مثال کے طور پر پرنٹ میڈیا میں ہر اخبار نے سیاست، کاروبار، کھیل اور شوبز کے لیے الگ الگ صفحات تو مخصوص کیے ہیں لیکن کوئی صفحہ ماحولیاتی مسائل اور خبروں کے لیے مختص نہیں۔ اخبارات عوام میں ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کے لیے کافی اور مستقل کوریج نہیں دے رہے۔ مزید برآں ایسے موضوعات کے حوالے سے بنیادی اعداد و شمار کی بھی کمی ہے۔ اس تحقیقی کام کا مقصد پاکستان کے معروف اخبارات میں ماحولیاتی مسائل کی کوریج کی چھان بین کرنا ہے۔

07. ریسرچ پراجیکٹ کے مقاصد

اول پاکستان کے دو معتبر انگریزی اخبارات روزنامہ "ڈان” اور روزنامہ "دی نیوز” کی طرف سے ماحولیات سے متعلق مسائل اور خبروں کو دینے والی کوریج کی حد جاننا۔

دوئم ماحولیاتی مسائل سے پاکستانی پرنٹ میڈیا کی موجودہ لاعلمی کا تنقیدی جائزہ لینا۔

سوئم جون اور جولائی دو ہزار دس کے مہینوں میں ڈان اور دی نیوز کی جانب سے ماحولیاتی مسائل پر دی گئی کوریج کا موازنہ کرنا۔

چہارم یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ پاکستان کے معروف اخبارات میں ماحولیاتی مسائل کو کیسے اور کیوں صحیح طریقے سے کور نہیں کیا جا رہا ہے۔

پنجم یہ کہ ماحولیاتی آگاہی پیدا کرنے میں ڈان اور دی نیوز کا کردار معلوم کرنا۔

08. مفروضہ

اس تحقیق کے لیے مفروضہ یہ ہے کہ پاکستانی پرنٹ میڈیا حتیٰ کہ انگریزی روزنامے کی صف اول کے اخبارات بھی ماحولیاتی مسائل کو مناسب کوریج نہیں دے رہے ہیں۔

09. موجودہ ماحولیاتی بحران کا ابھرنا

جب سے صنعتی انقلاب شروع ہوا ہے دنیا کے ہر حصے میں کئی بڑے شہر بھی وجود میں آئے ہیں۔ صنعت کاری ہمیشہ شہری علاقوں کو تشکیل دے کر متحرک کرتی ہے۔ مذکورہ دونوں عمل زمین کے قدرتی ماحول کے لیے نئے اور زیادہ پیچیدہ مسائل لا رہے ہیں۔ وہ اپنی نوعیت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف ہیں، مثال کے طور پر نئے ابھرنے والے ماحولیاتی مسائل مقامی کے بجائے قومی اور عالمی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول اور وسائل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ آزاد منڈی کی معیشت میں جدید مادیت پسند اور صارفیت پسند کلچر کو مراعات مل رہی ہیں۔ قدرتی ماحول کے ہر حصے میں صنعتی اکائیوں کی اندھا دھند توسیع کی وجہ سے پانی، زمین اور ہوا کی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتوں سے ہوا اور آبی ذخائر آلودہ ہونے سے زندگی کو ٹھیک ٹھاک خطرات لاحق ہیں۔ ماحولیاتی مسائل کے علاوہ سماجی اور اقتصادی مشکلات بھی ناپسندیدہ نتائج میں شامل ہیں۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تقریباً تمام صنعتی عمل سرمایہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے ذریعے چلایا جاتا ہے لیکن وہ جس حد تک مسائل پیدا کر رہا ہے اس سے پوری دنیا کی صحت اور سلامتی شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔ ان بین الاقوامی مالیاتی ٹائیکونز کو اتنی طاقت ملی ہے کہ تاریخ کے معروف دھارے میں کسی شہنشاہ کو بھی نہیں ملی ہے۔

یہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے رویوں کو اندھا دھند صنعت کاری سے اعتدال پسندی انسان دوستی میں تبدیل کریں۔ یہ طرزِ عمل فطرت کے عین مطابق بھی ہے۔ یہ فلسفہ حیات انسانوں اور ہمارے آس پاس کی دنیا کے درمیان ایک اخلاقی تعلق کے بارے میں تاکید کرتا ہے۔ یہ طرزِ فکر انسانوں کو تمام مخلوقات کے بارے میں خصوصی فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں بتاتا ہے اور باقاعدہ اخلاقی اصول بنا کر دیتا ہے کہ جو وسائل کے غیر منصفانہ اور غیر ضروری (تعیش پسندانہ) استعمال کو منع کر کے اپنے ماحول کو نامطلوب اور مہلک تبدیلوں سے روکنے پر زور دیتا ہے۔

10. موسمیاتی تبدیلی

موجودہ ماحولیاتی بحران میں کچھ ایسے نامطلوب عالمی مسائل ہیں جو سائنسی اور پالیسی ایجنڈے پر بری طرح حاوی ہوچکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی یا دوسرے لفظوں میں گلوبل وارمنگ ان میں سے ایک ہے۔ اس مسئلے کی وسعت اور شدّت نے قدرتی نظام میں موجود توازن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور گویا اس میں خلل ڈال دیا گیا ہے کیونکہ اس سے تازہ پانی کی دستیابی، مٹی کی پیداواری صلاحیت اور انسانی آباد کاری کے انداز میں بڑی تبدیلیوں کے خطرات نمودار ہوئے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں عالمی سطح پر آبی چکر کا پیٹرن بگڑنے کا خدشہ ہے جس سے زراعت کافی متاثر ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک جہاں زراعت کا شعبہ جو معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے سب سے زیادہ نقصان اٹھا سکتا ہے مزید برآں سیلاب جیسی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات پر اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کئی طریقوں سے وسائل کے ذخیرے پر اثر انداز ہو سکتی ہے جیسا کہ درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کی بے قاعدگی اور انتہائی شدید موسمی حالات وغیرہ۔ یہ مسائل، وسائل کے انحطاط کے عمل کو مزید تیز کرے گا جو پہلے سے ہی جاری و ساری ہے۔

11. بحث

میڈیا غیر جانبدرانہ اور شفاف رپورٹنگ کے ذریعے ریاست اور قوم کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے جبکہ جانبدرانہ، غیر شفاف، ضرورت سے زیادہ کمرشلزم، سنسنی خیزی قوم اور ریاست دونوں کے لیے تباہ کن ہیں۔ موجودہ موضوع کے لیے منتخب کردہ ڈان اور دی نیوز دونوں پاکستان کے صف اول کے اخبارات سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اخبارات ماحولیاتی مسائل سے قدرے بہتر طور پر نمٹتے ہیں۔ بالعموم اخبارات پر سیاسی اور معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ اشتہارات بھی غالب نظر آتے ہیں۔ کسی بھی اخبار میں اداریے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ رائے عامہ ہموار کرنے میں مددگار ہیں۔ ادارتی صفحات کو کسی بھی اخبار کا دماغ اور طاقتور ترین حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اخبارات کا یہ حصہ قوم کی صحیح راہنمائی کرتا ہے اور عوام الناس کو قومی اور بین الاقوامی مسائل سے آگاہ کرتا ہے۔ قوم کو اس کی غفلت سے نکالنے میں مدد بھی کرتا ہے۔ یہ قوم کو آنے والے چیلنجوں اور ان کے تدارک کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اخبارات کے یہ اہم حصے بھی قوم کو انتشار سے نکالنے کی بجائے محض سیاست بازی کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ نیوز سیکشن کے حصے پر، ماحولیاتی مسائل کے لیے کوئی خصوصی صفحہ الاٹ نہیں کیا گیا ہے۔

12. پرنٹ میڈیا

میڈیا کوریج اور مہمات کسی بھی خاص مسئلے پر رائے عامہ کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ مختلف مسائل کی غیر مساوی کوریج اور مستقل بنیادوں پر مختلف مسائل پر زور دینے کی وجہ سے، میڈیا کا اثر قلیل مدت تک رہتا ہے۔ ایک اخبار محدود صفحات کی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے اور ان صفحات کو مختلف خبروں کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے۔ صفحہ اول اور پیچھے کا صفحہ سیاسی اور معاشی خبروں کے لیے مخصوص ہے۔ ضلعی صفحہ دور دراز علاقوں کی خبروں تک محدود ہیں۔ کھیل کا صفحہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ میٹروپولیٹن یا شہر کا صفحہ شہر کی خبروں کو نمایاں کرتا ہے۔ ادارتی اور کالم کے صفحات اخبار کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں اور کالم نگار کی ذاتی رائے، شوبز کا صفحہ فلموں، ڈراموں اور تھیٹرز کے حوالے سے ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں سے آگاہ کرتا ہے، کاروباری صفحات مقامی اور بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ عالمی خبروں کے صفحات قارئین کو سیاست، تنازعات اور معیشت سے متعلق بین الاقوامی مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔

13. اخبارات کا انتخاب

پاکستان میں مختلف اخبارات کی گردش کا تخمینہ تقریباً 40 لاکھ ہے۔ روزنامہ جنگ اردو پریس میں نوائے وقت کے بعد سب سے بڑا روزنامہ ہے (اب اگر چہ ایسا نہیں ہے)، جبکہ ڈان اور دی نیوز پاکستان میں انگریزی کے سب سے بڑے اخبارات ہیں۔ 180 ملین کی آبادی میں موجودہ گردش کافی کم ہے۔ کم گردش کی کچھ وجوہات بھی ہیں جیسا کہ خواندگی کی کم شرح، پریس کا شہری رجحان اور ملک میں اخبارات کی زیادہ قیمت۔ بہت کم ایسے ممالک ہیں جن کی فی کس گردش پاکستان سے کم ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کی بنیاد کمرشل ازم پر ہے۔ ہر اخبار اشتہارات سے بھرا پڑا ہے جو ان کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مقامی صنعت کاروں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے پاس اخبارات کی کوریج کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی دولت ہوتی ہے تاہم ماضی قریب میں میڈیا کی تعلیم کو ملک کے علمی حلقوں میں مقبولیت ملی ہے۔ میڈیا گریجویٹس کے لیے بہت سارے مواقع اب موجود ہیں کیونکہ میڈیا تنظیمیں اور گروپس انہیں تیار کر رہے ہیں۔ صرف ایک دہائی پہلے صورتحال بالکل مختلف تھی۔

جون اور جولائی کے مہینوں کے لیے ڈان اور دی نیوز کا مکمل جائزہ لے کر ماحولیاتی مسائل کی کوریج کی تفصیل جس میں ماحول سے متعلق کہانیاں اور کیپشنز کے ساتھ ساتھ تصویریں شامل ہیں۔ ان دونوں اخبارات کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ ماحولیاتی مسائل کو دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کوریج دیتے ہیں۔ مزید برآں ڈان اور دی نیوز ملک کے تعلیم یافتہ، طبقہ اشرافیہ اور پالیسی سازوں میں کافی مقبول ہیں۔

14. ڈان

ڈان پاکستان کا سب سے قدیم انگریزی اخبار ہے۔ یہ سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر شائع ہونے والا اور انگریزی کے سب سے بڑے روزناموں میں سے ایک ہے۔ اخبارات کا ڈان گروپ ہیرالڈ کے نام سے ایک میگزین بھی شائع کرتا ہے، ایک شام کا اخبار دی اسٹار اور ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی میگزین اسپائیڈر کے نام سے بھی ہے۔ اس وقت ڈان کا ویک ڈے سرکولیشن 138000 ہے۔ ڈان گروپ کے سی ای او حمید ہارون ہیں اور عباس ناصر ڈان کے موجودہ ایڈیٹر ہیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے خود برطانوی راج کے دوران 1941ء کو نئی دہلی میں اس روزنامے کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ پہلے ہفتہ وار تھا پھر 1942 میں روزنامہ بن گیا۔ پوتھن جوزف ڈان کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد اسے پاکستان کے دارالحکومت کراچی منتقل کر دیا گیا۔ ڈان نے تحریک آزادی کے دوران کل وقتی طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کی ترجمانی کی کیونکہ یہ مسلم لیگ کا سرکاری ادارہ تھا۔ اس وقت ڈان کے دفاتر سندھ کے دارالحکومت کراچی، پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور قومی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں۔

15. دی نیوز

دی نیوز کو جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے ذریعے شائع کیا جاتا ہے جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے جس کی بنیاد میر خلیل الرحمان نے رکھی تھی۔ یہ ملک کے معروف انگریزی روزناموں میں سے ایک ہے۔ اس کی گردش تقریباً 140000 ہے۔ فی الحال یہ سندھ کے دارالحکومت کراچی، پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور راولپنڈی/اسلام آباد سے شائع ہو رہا ہے۔ مزید برآں لندن سے شائع ہونے والا ایک بیرون ملک ایڈیشن بھی ہے جو کہ برطانیہ میں پاکستانیوں کی خبروں اور مسائل کو کوریج فراہم کرتا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے نیویارک سے علیحدہ ایڈیشن شروع کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ میر جاوید الرحمٰن گروپ کے چیئرمین ہیں اور میر شکیل الرحمٰن دی نیوز کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

16. تحقیقی طریقہ کار

"تحقیقی طریقہ کار” کی اصطلاح عام طور پر جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ اور تشریح کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر محیط ہے۔ اس میں اکثر اعداد و شمار کے نفیس شماریاتی تجزیوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ نتائج میں ارتباط یا شماریاتی اہمیت کی درست نشاندہی کی جا سکے۔ جہاں تک ہمارے موجودہ موضوع کا تعلق ہے ہم نے اس کے لیے "اہمیت کی قدر” یعنی Importance value index کا اشاریہ جس کا مختصر نام (IVI) ہے کی تکنیک کو متعین کیا ہے جسے ماحولیات میں کسی کمیونٹی کے پرجاتیوں کی انفرادی اہمیت کے اسکور کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ IVI انفرادی انواع کے لیے 300 میں سے ایک قدر دیتا ہے جو اس کی اہمیت کے اسکور کا تعین کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں کسی بھی برادری کے اندر غلبہ، متعلقہ چھتری کا احاطہ، رشتہ دار فریکوئنسی اور رشتہ دار کثافت کو رشتہ دار جگہ، رشتہ دار نمبر سے بدل دیا گیا۔ کہانیوں اور متعلقہ ہیڈ لائن کالم کی جگہ جبکہ پرجاتیوں کو انفرادی ہفتوں سے تبدیل کیا گیا تھا۔ ہمارے پراجیکٹ میں "اہمیت کی قدر” کا حتمی فارمولا یہ تھا:

"اہمیت کی قدر” (IVI) = Rel. Space + Rel. کہانیوں کی تعداد + Rel. سرخی کالم کی جگہ”

17. نتیجہ

مناسب میڈیا کوریج کے ذریعے ماحولیاتی بیداری پیدا کرنا اب ماحولیاتی تحفظ، منصوبہ بندی اور انتظام کے لیے ایک بنیادی شرط بن گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا کسی خاص مسئلے پر رائے عامہ کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی پرنٹ میڈیا میں ماحولیاتی تحفظات کے حوالے سے عزم کا فقدان پایا جاتا ہے اس لیے ماحولیاتی مسائل کو مناسب اور موزوں کوریج نہیں دے رہا۔ پاکستان کے ممتاز انگریزی روزنامے ڈان اور دی نیوز بھی ماحولیات سے متعلق مسائل کو کم سے کم کوریج دے رہے ہیں۔ موجودہ رجحان میں سیاسی اور معاشی مسائل زیادہ غالب رہتے ہیں۔ اداریوں اور کالموں میں ماحولیات سے متعلق مسائل کا احاطہ کرنے کی بھی بہت زیادہ کمی ہے۔ دیکھا جائے تو آج ماحولیاتی مسائل پہلے سے کہیں زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں اس لیے میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے انہیں مناسب کوریج دیں۔ یہ اہتمام یقینی طور پر پالیسی سازوں کو اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے کے احساس کی طرف لے جائے گا اور عوام الناس کے لیے پائیدار (معتدل) طرز زندگی کو اپنانے میں آسانی پیدا کرے گا۔ یاد رہے کہ ہماری تحقیقی رپورٹ میں یہ تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ "ماحولیاتی مسائل کو ملنے والی کوریج دو فیصد سے بھی کم ہے”۔

18. خلاصہ

ماحولیاتی مسائل کا رجحان اگر چہ تازہ ہے لیکن شدید اور طویل مدتی اثرات کی وجہ سے اس نے سائنسی اور پالیسی ایجنڈے پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ موجودہ ماحولیاتی بحران کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا درحقیقت ان دنوں سب سے اہم موضوع ہے۔ میڈیا کوریج اور مہمات کسی خاص مسئلے پر رائے عامہ کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ پاکستانی پرنٹ میڈیا میں ماحولیاتی تحفظات کے ساتھ وابستگی کا فقدان ہے اور اس لیے ماحولیاتی آگاہی پیدا کرنے میں اس کا کردار محدود ہے۔ مثال کے طور پر ہر اخبار نے سیاست، کاروبار، کھیل اور شوبز کے لیے الگ الگ صفحات مخصوص کیے ہیں لیکن کوئی صفحہ ماحولیاتی مسائل کے لیے مختص نہیں۔ پاکستان میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح ماحولیاتی مسائل کی کوریج کے بارے میں "بیس لائن ڈیٹا” کی کمی ہے۔ اس تحقیق میں دو انگریزی اخبارات ڈان اور دی نیوز کو تحقیقی جائزے کے لیے منتخب کیا ہیں کیونکہ یہ ملک کے طبقہ اشرافیہ اور پالیسی سازوں پر سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے اخبارات ہیں۔ منتخب شدہ مدت جون اور جولائی سال 2010ء ہے۔ ڈیٹا کو منظم ترتیب دیا گیا ہے، گروپنگ کیا گیا ہے مزید برآں شماریاتی تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ تحقیقی عمل کے لیے "امپورٹنس ویلیو انڈیکس” (IVI) کا ماڈل استعمال کیا گیا ہے جہاں دی گئی جگہ، کہانیوں کی تعداد، ہیڈ لائنز اور کالمز کی بنیاد پر موازنہ کیا جاتا ہے۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ڈان نے جولائی کے چوتھے ہفتے میں ماحولیات سے متعلق مسائل کو زیادہ سے زیادہ کوریج دی ہے اور دی نیوز نے جون کے پہلے ہفتے میں سب سے زیادہ کوریج دی ہے۔ ڈان اور دی نیوز کی مجموعی اہمیت بالترتیب 139.40 اور 160.60 یعنی دو فیصد سے بھی کم تاہم نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ دی نیوز نے ڈان کے مقابلے میں ماحولیاتی مسائل کو قدرے زیادہ کوریج دی ہے۔

19. سفارشات

مشاہدے کے ذریعے ایسا لگتا ہے کہ گھنی آبادی والے رہائشی علاقوں میں واقع کارخانے فضائی آلودگی، آبی آلودگی اور شور کی آلودگی کے بڑے ذرائع ہیں۔ یہ قدرتی ماحول کے ہر طبقے کو تبدیل کر رہے ہیں اور عوام کی زندگی اور صحت دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ حکومتی علاقے جہاں ہیں اور سرمایہ کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ آبادی والے علاقوں سے باہر فیکٹریاں لگانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ اس طرح نہ صرف ملازمین سکون، سنجیدگی اور لگن سے کام کر سکیں گے بلکہ عام لوگ بھی صاف ستھرے ماحول میں زندگی گزار سکیں گے۔ اس سے صنعتی پیداوار پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ شہروں اور قصبوں میں کچرے کے ڈھیر ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ غیر مہذب رجحانات میں سے ایک ہے۔ شہروں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی مناسب طریقہ کار رائج نہیں یہاں تک کہ لوگ گندگی کے ڈھیر لگاتے جا رہے ہیں اور کوئی پرواہ بھی نہیں کرتے اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور مقامی حکام کو چاہیے کہ وہ کمیٹیاں بنائیں جن میں مقامی افراد شامل ہوں تاکہ کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے اور گلیوں کی صفائی کا شعور پیدا کیا جاسکے۔ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے مقامی حکام، حکومت، عوام اور میڈیا کا گٹھ جوڑ بہت زیادہ ضروری ہے۔

اس سلسلے میں میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو صاف ستھرے ماحول کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی کوریج اور خصوصی صفحہ مختص کیا جانا چاہیے بلکہ سنگین ماحولیاتی خبروں پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی ڈیسک بھی قائم کرنا چاہیے۔ مناسب رفتار اور کوریج دینا بھی عوام کو ماحولیاتی مسائل پر غور اور بحث کرنے کے لیے مجبور کرے گا۔ اس طرح لوگ ماحول پر دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے محدود وسائل کے استعمال کے ذریعے طرز زندگی میں تبدیلی کو یقینی بنائیں گے۔ ماحولیات سے متعلق مسائل میں کشش بہر صورت موجود ہے اور یہ عوام کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ میڈیا کو ماحولیات کے مسائل کو مناسب جگہ دینی چاہیے تاکہ یہ عوامی توجہ کا مرکز بن جائے”۔

نوٹ: مذکورہ بالا کالم 2022 میں تحریر کیا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے