میرے یقین میں فطرت کی حیثیت انسان کے لیے قدرت کی سجائی گود جیسی ہے جہاں اس کی حفاظت، سہولت، صحت اور مسرت کے لیے درکار سارا ساز و سامان مناسب مقدار اور اعلیٰ معیار میں پیدا کر دیا گیا ہے۔ یہ بلند پہاڑ، یہ لہلہاتے درخت، یہ بہتے دریا، یہ نرم و ملائم سرزمین، یہ رنگ بہ رنگ پودے، پھل اور پھول، یہ نوع بہ نوع حیوانات، یہ طرح طرح کی سریلی آوازیں اور یہ قسم قسم کی دوسری مادی اور معنوی چیزیں جو اس گود کو نہ صرف خوبصورت انداز میں تشکیل دی ہیں بلکہ اس کو باقاعدہ تھام بھی رکھی ہیں۔ انسان کا فرض بنتا ہے کہ قدرت کی بسائی فطرت کے اس بیش بہا خزانے کی دل و جان سے حفاظت کو یقینی بنائے۔ دو طرفہ فلاح و تحفظ کے لیے انسان اور فطرت کے درمیان صحت مند رشتہ ازحد ضروری ہے۔
انسان اور فطرت کے درمیان بہترین رشتے کا آغاز ہم آہنگی، احترام اور پائیداری کے اہتمام سے ہوتا ہے۔ انسان اور فطرت کے درمیان صحت مند تعلق کے چند اہم اصول ایسے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ہر باشعور آدمی اور قوم کے لیے ضروری ہے۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند رشتہ استوار کرنے میں قدرتی دنیا کے لیے بہر صورت گہرا اور دیرپا احترام پہلے تقاضے کے طور پر شامل ہے مثلاً اس کی فطری قدر و قیمت کا ادراک، توازن کا لحاظ، خوبصورتی کا احساس اور تنوع کی حفاظت وغیرہ شامل ہیں۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند تعلق میں قدرتی دنیا کے اندر ذمہ دارانہ کردار نبھانا اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کے دائرے میں موجود وسائل کی حفاظت جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند تعلق میں قدرتی وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرنا اور ماحولیات پر ہمارے طرزِ زندگی سے پڑنے والے ضرر ناک اثرات کو کم سے کم کرنا بھی بے حد اہم ہے۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند تعلق میں فطرت کے ساتھ ضروری ہم آہنگی شامل ہے بجائے اس کے کہ اس پر غلبہ حاصل کرنے، اس پر ٹوٹلی کنٹرول پانے یا اسے بالکل تباہ کرنے کی کوشش کریں۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ اپنی ضروریات حاصل کرنے کے عمل میں قدرتی نظام اور اپنے طرزِ عمل کے درمیان ہم آہنگی پیش نظر رکھیں۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند تعلق میں ہماری ضروریات اور قدرتی دنیا کی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس میں ماحول کی حفاظت کے لیے صابرانہ طرزِ زندگی کو فروغ دینا ازحد ضروری ہے۔
انسان اور فطرت کے درمیان ایک صحت مند تعلق میں فطری دنیا کی تحسین اور ہماری ذہنی، جسمانی، جذباتی اور روحانی بہبود کے لیے اس کی اہمیت کو تسلیم کرنا حد درجہ مطلوب رویہ ہے۔
انسان اور فطرت کے درمیان بہترین رشتہ تب تک ممکن نہیں جب تک قدرتی دنیا کے ساتھ ہمارا رویہ باہمی انحصار اور باہمی ربط و ضبط پر مبنی نہ ہو۔ انسان اور ماحول دونوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کی کوشش ہم سب پر فرض ہے۔ اس میں پائیدار ترقی کے طریقوں کو اپنانا، فطرت کی موروثی قدر و قیمت کا احترام اور قدرتی دنیا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں رہنے کے مناسب طریقے تلاش کرنا بھی اولین ترجیحات میں رکھنا لازم ہے۔
یہ تعلق محض خارجی دنیا تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی اندرونی فطرت کو بھی سلامتی عطا کرتا ہے۔ جدید شہری زندگی نے انسان کو ایک ایسی مصنوعی بلندی پر پہنچا دیا ہے جہاں سے وہ اپنے ہی وجود کی بنیاد یعنی مٹی، پانی، ہوا اور سبزے کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگا ہے۔ یہ علیحدگی ایک ایسا روحانی زخم ہے جس کا اثر ہم اپنی بے چینی، بے خوابی اور بے مقصدیت کی صورت میں سہہ رہے ہیں۔ فطرت سے جوڑ توڑ صرف ماحول کو بچانے کا ہی نہیں، بلکہ اپنی بشریت کو بچانے کا بھی عمل ہے۔
اس رشتے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہم فطرت کو محض ایک "وسیلہ” یا "ذریعہ” سمجھنے کی بجائے، ایک "وجود” اور "ہستی” کے طور پر دیکھیں۔ درخت لکڑی کا ڈھیر نہیں، ایک زندگی ہے۔ دریا پانی کی پائپ لائن نہیں، زمین کی شریانیں ہیں۔ پہاڑ پتھر کے ڈھیر نہیں، زمین کے استاد ہیں جو عظمت اور ثبات کا سبق دیتے ہیں۔ جب ہم یہ داخلی رویہ اپنا لیں گے تو پائیداری، احترام اور توازن ہمارے لیے احکامات نہیں بلکہ فطری تقاضے بن جائیں گے۔ ہماری ترقی کا پیمانہ عمارتوں کی بلندی نہیں، بلکہ شہروں میں گونجتی چڑیوں کی آواز اور بچوں کے قدموں تلے ہری گھاس کی موجودگی ہوگی۔
یہ سفر کسی حکومتی پالیسی یا بین الاقوامی معاہدے سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے اپنے روزمرہ کے انتخاب سے شروع ہوتا ہے۔ ایک پودا لگانے، پانی بچانے، اپنی اشیاء کو دوبارہ استعمال میں لانے، اپنے کھانے کے فضلے کو کچرے کی بجائے کھاد میں بدلنے، اور سب سے بڑھ کر، اپنے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون کی بجائے جسمانی مشقت کرنے کا موقع تھمانے کا انتخاب ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہی درحقیقت اس گود میں واپسی کے زینے ہیں۔
ہم مانیں یا نہ مانیں ہم قبول کریں یا نہ کریں ہمارے مزاجوں میں سختی، رویوں میں تلخی، جذبات میں شدت، چہروں پر رعونت، زبانوں میں کڑواہٹ اور سلوک میں اکتاہٹ دراصل فطرت میں موجود قدرتی توازن کے خاتمے سے در آنے والی علتیں ہیں اور ان چیزوں نے مل کر اکیسویں صدی میں بے پناہ سائنسی اور مادی ترقی کے باوجود حضرت انسان کو بے چینی اور تباہی سے بری طرح دو چار کیا ہے۔ ہمیں اپنی بقاء، آسودگی، سکون اور تحفظ کے خاطر فطرت میں موجود توازن کو دوبارا سے قائم کرنا ہوگا ورنہ ایک ہمہ گیر تباہی سے من حیث النوع انسان کا بچنا ممکن نہیں رہے گا۔