پاکستان سے افغانستان تک: لاکھوں خواتین اور بچوں کا تاریک سفر

پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، جو اپنے وطن میں جنگ، تشدد اور معاشی بدحالی سے فرار ہوئے تھے۔ تاہم، حالیہ حکومتی اقدامات نے ان مہاجرین کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ جون میں پی او آر کارڈز کی میعاد ختم ہونے کے بعد تقریباً 14 لاکھ افغان شہریوں کو جبری طور پر واپس بھیجنے کا عمل دوبارہ شروع ہوا ہے۔ یہ فیصلہ ان خاندانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے جو دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہیں اور اب اچانک اپنے گھروں، کاروباروں اور روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اس عمل کو "غیر قانونی واپسی” قرار دیتے ہوئے پاکستان پر تنقید کی ہے، مگر حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور معاشی دباؤ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

جبری بے دخلی کے عمل میں سب سے زیادہ متاثر وہ افغان خواتین اور بچے ہیں جن کے پاس نہ تو وطن واپسی کے لیے وسائل ہیں اور نہ ہی افغانستان میں ان کے مستقبل کی کوئی ضمانت۔ بہت سی خواتین نے پاکستان میں ہی شادیاں کیں، بچوں کو جنم دیا، اور اسی معاشرے میں ضم ہو چکی ہیں۔ انہیں اب ایک ایسے ملک میں واپس جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جہاں افغان انتظامیہ کی حکومت خواتین کے بنیادی حقوق تک کو تسلیم نہیں کرتی۔ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کے کام کرنے پر قدغن، اور سماجی سرگرمیوں کی محدودیت کو دیکھتے ہوئے، یہ واپسی ان کے لیے ایک تاریک مستقبل کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو "عزت کے ساتھ” واپس بھیجا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے سے متصادم ہیں۔ معتبر رپورٹس کے مطابق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں افغان شہریوں کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے، حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے، اور سرحدوں پر چھوڑ دیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ افغانستان کی پہلے سے کھوکھلی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق، 2024 میں ہی 12 لاکھ سے زائد افغان پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے جا چکے ہیں، جو افغان معاشرے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔

افغان خواتین کے لیے یہ بحران دوہرا ہے۔ پاکستان میں وہ کم از کم تعلیم، صحت اور روزگار کے محدود مواقع تک رسائی رکھتی تھیں، لیکن افغانستان میں انتظامیہ کی پالیسیوں نے ان کے لیے زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ کئی خواتین نے پاکستان میں چھوٹے کاروبار شروع کر رکھے تھے یا گھریلو ملازمتیں کر کے اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہی تھیں۔ اب انہیں ایک ایسے ماحول میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں ان کی سماجی اور معاشی سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہیں۔ افغانستان میں نئی انتظامیہ کے دور میں خواتین کے لیے بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی، خاص طور پر صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، ان کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان مہاجرین کے ساتھ انسانی بنیادوں پر مناسب سلوک کرے۔ یو این ایچ سی آر نے زور دیا ہے کہ واپسی کا عمل رضاکارانہ، بتدریج اور انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تاہم، پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور اب یہ بحران عالمی سطح پر توجہ کا مستحق ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر تعاون کی فوری ضرورت ہے، خاص طور پر ان خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے جو اس تنازعے کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

افغان خواتین کے لیے پاکستان سے جبری واپسی صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں، بلکہ ان کے وجود پر ایک شدید حملہ ہے۔ نئے افغان انتظامیہ کے دور میں خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری پر پابندیوں نے انہیں سماجی موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی انہیں مسلسل عدم تحفظ کا سامنا تھا، لیکن کم از کم وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیج سکتی تھیں یا کسی حد تک روزگار حاصل کر سکتی تھیں۔ افغانستان واپسی کے بعد ان کے پاس یہ مواقع بھی ختم ہو چکے ہیں۔ تعلیم کے بغیر افغان لڑکیوں کا مستقبل مکمل طور پر تاریک ہو چکا ہے۔ افغان انتظامیہ نے لڑکیوں کے لیے سیکنڈری اسکولز اور یونیورسٹیز بند کر دی ہیں، جس کے بعد صرف مذہبی مدارس ہی ان کی تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں۔ یہ ادارے افغان انتظامیہ کے نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن چکے ہیں، جہاں لڑکیوں کو جدید علوم، سائنس، یا معاشرتی مضامین سے دور رکھا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، لیکن اب اس کا خواب صرف ایک یاد بن کر رہ گیا ہے۔ افغان انتظامیہ کا منظور کردہ نصاب میں نہ تو طب جیسے شعبوں کی گنجائش ہے اور نہ ہی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود کر رہی ہے بلکہ انہیں معاشی طور پر بھی مردوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

مدارس کے علاوہ، خفیہ اسکولز افغان لڑکیوں کی تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں، جو شدید خطرات کے باوجود چلائے جا رہے ہیں۔ نرگس کی کہانی اس المیے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ وہ ایک پرعزم نوجوان خاتون تھیں جو معاشیات کی طالبہ تھیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے دن رات محنت کرتی تھیں۔ لیکن افغان انتظامیہ کے اقتدار سنبھالتے ہی ان کے تمام خواب چکنا چور ہو گئے۔ یونیورسٹی بند ہو گئی، نوکری چلی گئی، اور مستقبل کے تمام راستے مسدود ہو گئے۔ نرگس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی چھوٹی بہنوں اور دیگر لڑکیوں کو خفیہ طور پر پڑھانا شروع کر دیا۔ یہ ایک خطرناک کام تھا، لیکن انہوں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا۔ مگر حالات دن بدن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ افغان انتظامیہ کے سیکورٹی اہلکاروں نے نرگس کے گھر پر چھاپہ مارا، انہیں گرفتار کیا اور تنبیہ کی۔ ان کے خاندان نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اب وہ ایک نئی جگہ پر لڑکیوں کو پڑھا رہی ہیں، لیکن خوف ہر لمحہ ان کا پیچھا کرتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر افغان انتظامیہ کو ان کے بارے میں پتہ چل گیا تو ان کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ نرگس جیسی ہزاروں لڑکیاں اپنے حقِ تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن افغان انتظامیہ کا نظام انہیں ہر قدم پر کچلنے پر تلا ہوا ہے۔

معاشی طور پر بھی افغان خواتین کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کو افغانستان واپس جانے کے بعد روزگار کے تمام دروازے بند مل رہے ہیں۔ افغان انتظامیہ نے خواتین کو زیادہ تر سرکاری اور نجی شعبوں سے خارج کر دیا ہے، حتیٰ کہ این جی اوز میں کام کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔ ایسے میں، واپس جانے والی خواتین یا تو گھریلو تشدد کا شکار ہو رہی ہیں یا پھر انتہائی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ افغانستان میں خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کے باعث بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور خواتین کے لیے ذہنی صحت کی خدمات تقریباً ناپید ہیں۔ پاکستان سے واپس آنے والی خواتین کے پاس نہ تو مناسب دوا ہے، نہ ہسپتال، اور نہ ہی کوئی معاشرتی حمایت۔ بین الاقوامی ردعمل بھی ناکافی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز تو اٹھا رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے بجائے، عالمی برادری نے افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

اس بحران کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ ہو جس میں مہاجرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان خواتین کی تعلیم اور روزگار کے لیے متبادل راستے تلاش کرے، مثلاً آن لائن تعلیم یا سرحد کے قریب خواتین کے لیے محفوظ مراکز کا قیام۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو لاکھوں افغان خواتین اور بچوں کا مستقبل مکمل طور پر تاریک ہو جائے گا۔ افغان لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ صرف ایک قومی المیہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کا ایک سنگین واقعہ ہے۔ دنیا کو اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، ورنہ افغانستان کی ایک پوری نسل تاریکی میں ڈوب جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے