"نمل جھیل اپنی تاریخی و سیاحتی اہمیت رکھتی ہے، مگر مقامی کسانوں کی معاشی خوشحالی کا حقیقی ذریعہ لاوہ ڈیم ہے جو زرعی زمینوں کو سیراب کر کے نمل کی تقدیر بدل سکتا ہے۔”
نمل جھیل اپنی خوبصورتی، سکون اور قدرتی دلکشی کے باعث دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ برطانوی دور حکومت میں تعمیر ہونے والا نمل ڈیم آج ایک حسین جھیل کا روپ دھار چکا ہے جو پہاڑوں کے بیچ نیلی آنکھ کی طرح جھلملاتا ہے۔ یہاں کی فضاء نہ صرف سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے بلکہ یہ علاقہ اپنی تاریخی اور تعلیمی اہمیت کے باعث بھی مشہور ہے۔ مگر نمل کے مقامی لوگوں کے لیے یہ جھیل اتنی خوشگوار نہیں جتنی ایک سیاح کے لیے ہے۔
نمل ڈیم کے باعث اس علاقے کی زرعی زمینیں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ جھیل کے پھیلاؤ کی وجہ سے کھیت زیرِ آب آ جاتے ہیں، زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں اور کسان اپنی روزی روٹی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ ڈیم نمل کے باسیوں کے لیے سیاحت کا ذریعہ تو بنا لیکن معاشی خوشحالی کا نہیں۔
اس کے برعکس اگر نالہ ترپی پر مجوزہ لاوہ ڈیم تعمیر ہو جائے تو نمل کی زرعی زمینیں سیراب ہوں گی۔ کسانوں کو وافر پانی دستیاب ہوگا اور کھیت سرسبز ہو کر خوشحالی کا باعث بنیں گے۔ زرعی پیداوار بڑھے گی تو نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ کسانوں کی دہائیوں پرانی محرومیاں بھی ختم ہو سکیں گی۔
یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ نمل جھیل بچانے کی مہم اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کیا نمل کے کسانوں اور زمینداروں کی ضروریات زیادہ توجہ طلب نہیں؟ سیاحت اور منظر کشی اپنی جگہ، مگر کسان کے لیے سب سے بڑی حقیقت اس کی زمین ہے۔ اگر وہی زمین پانی میں ڈوب جائے اور اس کے بچے بھوکے رہ جائیں تو جھیل کی دلکشی اس کے لیے بے معنی ہے۔
لہٰذا حکومتی سطح پر ایک واضح حکمتِ عملی کی ضرورت ہے کہ جہاں نمل جھیل کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو محفوظ بنایا جائے، وہیں لاوہ ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی لوگوں کو حقیقی فائدہ مل سکے۔ نمل جھیل یقینا ایک قیمتی قدرتی تحفہ ہے، مگر نمل کے عوام کی خوشحالی کا اصل ذریعہ لاوہ ڈیم ہے۔