سہیل وڑائچ، جنگ اور ساکھ کا امتحان

سہیل وڑائچ پاکستان کی صحافت کا ایک معتبر نام ہیں۔ کئی دہائیوں سے وہ نہ صرف سیاسی تجزیہ نگاری کے میدان میں اپنا مقام قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ اپنی انفرادیت اور مخصوص اسلوب کی وجہ سے عام قاری اور ناظرین کے لیے بھی کشش رکھتے ہیں۔ ایسے میں جب ان کے ایک حالیہ کالم نے برسلز کے ایک ایونٹ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی موجودگی اور اس سے جڑے پس منظر کو موضوع بنایا تو یہ محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک بڑا صحافتی واقعہ بن گیا۔ صحافتی برادری نے اسے ان کی پیشہ ورانہ معراج قرار دیا۔ لیکن یہ معراج سہیل وڑائچ کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ صحافت میں ایک ایک لفظ کس قدر وزن رکھتا ہے اور اس کے اثرات کس حد تک جا سکتے ہیں۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ اب یہ معاملہ سہیل وڑائچ کی ذاتی ساکھ تک محدود نہیں رہا بلکہ روزنامہ جنگ جیسے ادارے کی ساکھ کے ساتھ بھی جڑ گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی عام صحافی یا شہری کی تحریر یا سوشل میڈیا پوسٹ پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے تو کیا ایک سینئر ترین اور نمایاں صحافی اس سے مستثنیٰ ہیں؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے یا اس میں طاقتور اور عام آدمی کے لیے الگ الگ پیمانے بنائے گئے ہیں؟

یہاں ریاست اور صحافت دونوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ ایک طرف سہیل وڑائچ جیسے بڑے نام کی تحریر کو آزادیِ اظہار کے دائرے میں رکھنا ہے تو دوسری طرف اداروں اور ان کے کردار پر سوال اٹھانے کی حد کو بھی متعین کرنا ہے۔ صحافت اگر احتساب کا ذریعہ ہے تو خود صحافیوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے جبکہ بڑے نام اور بڑے ادارے اپنی مرضی کے پیمانے وضع کر لیتے ہیں۔

یہ سوال سہیل وڑائچ کی ساکھ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ پورے صحافتی نظام کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ اگر جنگ گروپ اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تو نہ صرف ادارے پر انگلیاں اٹھیں گی بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا کہ قانون اور اخلاقی اصول سب پر یکساں لاگو نہیں ہوتے۔ دوسری جانب اگر اس کو محض سنسرشپ یا آزادیٔ اظہار پر قدغن کے طور پر لیا گیا تو صحافت کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

آخر میں یہ بات اہم ہے کہ سہیل وڑائچ جیسے صحافیوں کو اس امر پر ضرور غور کرنا ہوگا کہ ان کے الفاظ کس قدر اثر رکھتے ہیں اور ان سے ریاست، ادارے اور عوامی رائے کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ صحافت طاقت ہے اور طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہیل وڑائچ اور جنگ اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں—خاموشی، وضاحت یا اعتراف۔ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں طے کرے گا کہ پاکستانی صحافت میں معیار اور انصاف کا کتنا پاس رکھا جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے