خدمت کا مفہوم الخدمت کے زبانی

خدمت کا معنی مدد، معاونت اور سہولت کے ہیں۔ انسانوں کی بھلائی کے لیے ان کی جو بھی مدد اور معاونت کی جائے خواہ بلا معاوضہ ہو یا بمعاوضہ، اسے خدمت کہا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم "الخدمت فاؤنڈیشن” بالکل یہی کام کرتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لوگوں کی بلا معاوضہ خدمت کی جاتی ہے۔ الخدمت ایسی تنظیم ہے جو بلا مسلک، زبان، علاقائیت اور مذہب ہر کسی کی خدمت کرتی ہے۔ ملک یا بیرون ملک جہاں کہیں بھی انسانوں کو خدمت کی ضرورت ہوتی ہے تو ان خدمات میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت شریک نظر آتی ہے۔ صرف شریک ہی نہیں بلکہ بطور رہنما کردار ادا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

الخدمت کو جو لوگ چلاتے ہیں ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور اس کے تقریباً سارے رضاکار جماعت اسلامی کے ارکان و کارکنان ہیں۔ الخدمت کی یہ انتظامیہ اور رضاکار ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ ہر ضلع میں جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام اس کا نظم قائم ہے۔

الخدمت کے رضاکاروں میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ججز، وکلاء، پروفیسرز، طلبہ، علماء کرام، شعراء، صحافی، ادیب، کسان، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز الغرض تقریباً ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ یہ سب حضرات بلا کسی تفریق کے الخدمت کے ہر کام کے لیے مستعد اور تیار رہتے ہیں۔

ان میں آپ کو مفتی، بریگیڈیئر، جج، ڈاکٹر، سیاستدان، قاری، حافظ، استاد وغیرہ کندھوں پر سامان اٹھاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اور یہ بوجھ اٹھانا وہ اپنے لیے عار نہیں بلکہ باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔

الخدمت زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے رضاکاروں اور ڈونرز کے تعاون سے خدمت سرانجام دے رہی ہے۔ جس میں غریبوں کو علاج کی سہولت، یتیموں کی تعلیم و تربیت اور کفالت، بیواؤں اور محتاجوں کی مدد، معذوروں کے لیے خصوصی تعاون، بے روزگاروں کو فنِ روزگار کی تعلیم، عورتوں کے لیے دستکاری وغیرہ شامل ہیں۔ حال ہی میں "بنو قابل” کے ذریعے بلا مبالغہ پورے ملک میں ہزاروں نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر رزقِ حلال کمانے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔

الخدمت کے زیرِ نگرانی بڑے بڑے ہسپتال، تعلیمی ادارے، پانی کے منصوبے، یتیموں کے ادارے، مساجد، روزگار کے پروجیکٹس، ایمبولینس سروس، میڈیکل لیبارٹریز، گائنی سینٹرز، خون کے عطیات کے مراکز، مزدوروں کے لیے دسترخوان، اور غریبوں کے لیے سستا روٹی تنور وغیرہ چل رہے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن اپنے رضاکاروں کو باقاعدہ ٹریننگ دیتی ہے تاکہ کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس مطلوبہ صلاحیت اور اہلیت کے لوگ موجود رہیں۔ الخدمت کی یہ تربیت ہمیں ملک میں مختلف حادثات اور ہنگامی حالات کے دوران واضح طور پر نظر آتی ہے۔ جیسے ہی کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو حکومتی اہلکاروں سے پہلے الخدمت کے لوگ پہنچ چکے ہوتے ہیں اور جائے وقوعہ پر عملی کام کی ابتداء کر چکے ہوتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جماعت اسلامی کی الخدمت کے سب لوگ بلا تفریق تعریف کا مرکز بنتے، ان کا ساتھ دیا جاتا کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ہمارے طرف سے فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہر مصیبت میں عوام کی خدمت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم ہر مرتبہ الیکشن میں مسترد کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ لوگ ہمارے درمیان ہر مصیبت میں بے لوث خدمت کے لیے موجود رہتے ہیں۔

ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی وہ آج عملاً خدمت کر رہے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے کبھی جماعت اسلامی کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ ہمیشہ ان کا مذاق اڑایا۔ اس پر مجھے ایک بات یاد آتی ہے کہ ایک مرتبہ ایک استاد کے سامنے اس کا پرانا شاگرد بڑے ادب سے کھڑا ہوا تو کسی نے پوچھا: "یہ کوئی صدر، وزیر اعظم یا آرمی چیف تو نہیں کہ تم اتنا احترام کر رہے ہو؟” شاگرد نے جواب دیا: "صدر، وزیر اعظم اور چیف بڑے ہوں گے، مگر میرے لیے وہی سب سے بڑا ہے جس نے مخلص ہو کر مجھے پڑھایا اور سنوارا۔”

تو کم از کم اتنا تو خیال رکھنا چاہیے کہ سیاستدان برانڈ ہوں گے، چرب زبان بھی ہوں گے، وزارتوں پر بھی براجمان ہوں گے اور دنیا میں ان کا بڑا نام بھی ہوگا، مگر عملاً ہمارے لیے یہی جماعت اسلامی کی الخدمت ہے جو پوری قوم کے کام آتی ہے۔ اس لیے اتنا تو ان کا حق بنتا ہے کہ ہم انہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔

خود سوچیں! اگر جماعت اسلامی کی طرح کسی اور پارٹی کو یہ یقین ہوتا کہ ہم کتنی ہی خدمت کریں، لوگ ہمیں پھر بھی سنجیدہ نہیں لیں گے، ہمارے مقابلے میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو مشکل وقت میں غائب رہتے ہیں اور حالات نارمل ہوتے ہی بڑے بڑے دعوے شروع کر دیتے ہیں، تو کیا کوئی پارٹی ایک دن کے لیے بھی خدمت کرتی؟ ہرگز نہیں! لیکن ہم پھر بھی ان پروپیگنڈوں سے متاثر ہوتے ہیں کہ یہ خدمت سیاست کے لیے ہو رہی ہے۔

بھائی! جو یہ پروپیگنڈہ کرتا ہے ذرا اس کی چالاکی اور دھوکہ دہی پر غور کریں کہ وہ کہہ کیا رہا ہے؟ ہمیں تو ایسے لوگ چاہیے جو خدمت کے ذریعے سیاست کریں نہ کہ جھوٹ بول کر۔ ہمیں تو ایسے لوگ چاہیے جو ہمارے معاشرے میں ایسا رجحان قائم کریں کہ سیاست کو جھوٹ اور فریب کے اندھیروں سے نکال کر خدمت جیسی عظیم عبادت سے جوڑ دیں۔

جماعت اسلامی پر لوگ اعتماد کرکے پیسہ دیتے ہیں اور وہ اس پیسے کو اپنے رضاکاروں کے ذریعے خدمت میں لگاتے ہیں۔ اگر کسی کو جماعت اسلامی کے نظامِ شفافیت کے ساتھ چلنے کا طریقہ کار معلوم نہ ہو تو وہ الخدمت کے ڈونرز کو دیکھ لے۔ یہ سب باخبر لوگ ہیں، اور جب بھی کوئی ڈونیشن دیتے ہیں تو الخدمت ہی کو دیتے ہیں۔ یہ ڈونیشن کروڑوں میں ہوتے ہیں، اور ہم سب جانتے ہیں کہ پیسوں کے معاملے میں انسان بہت حساس ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار کروڑوں کے حساب سے کسی پر اعتماد کرتا ہے تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اس کے نزدیک قابلِ بھروسہ ہے۔

ہمارے ملک کے نامور سیاستدان، صحافی اور تاجر وغیرہ الخدمت کے مستقل ڈونرز ہیں۔ سیاست یا صحافت میں وہ کسی اور کے ساتھ ہوں گے مگر جہاں خدمت اور امانتداری کی بات آتی ہے تو وہاں وہ جماعت اسلامی کی الخدمت ہی کو قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کوئی اس دلیل کو نہ سمجھے تو الخدمت کی سالانہ آڈٹ رپورٹ دیکھ سکتا ہے۔ الخدمت کو جو کچھ ملتا ہے اس کا خرچ فردِ واحد کے صوابدید پر نہیں ہوتا بلکہ ایک پوری ٹیم ہوتی ہے جو آمدن اور خرچ کا مشترکہ حساب رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہر سال الخدمت کا صوبائی سطح پر آڈٹ بھی ہوتا ہے، جس میں آمدن، خرچ اور مدات کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر کہیں الخدمت نے یتیموں کے لیے کتابیں خریدی ہوں تو کتابوں کی رسیدیں اور ان پر ذمہ داران کے دستخط موجود ہوتے ہیں۔

بہرحال جو بھی الخدمت کے نظام کو سمجھنا چاہے وہ جماعت اسلامی کے کسی بھی ضلعی دفتر سے اس نظام کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔

سلام الخدمت، سلام جماعت اسلامی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے