سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کے تمام مقدمات میں ضمانت دے دی۔ بظاہر یہ ایک عدالتی پیش رفت ہے جسے تحریک انصاف کی کامیابی اور عمران خان کی قانونی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اگر اس فیصلے کے پس منظر کو بغور پڑھا جائے تو اصل خبر کہیں اور پوشیدہ ہے۔
عمران خان پچھلے ڈیڑھ سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان پر درجنوں مقدمات بنائے گئے، جن میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق کیسز کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ ریاستی بیانیہ یہی تھا کہ 9 مئی کی منصوبہ بندی عمران خان کی قیادت میں ہوئی، اس لیے ان پر غداری، دہشتگردی اور آئینی اداروں پر حملے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے انہی مقدمات میں ضمانت منظور کر لی ہے تو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ یا تو مقدمات اتنے کمزور تھے کہ عدالت ان کو سنبھال نہ سکی، یا پھر کہیں طاقت کے مراکز کے درمیان نئی صف بندی شروع ہو گئی ہے۔
اصل خبر یہی ہے کہ ریاست کی اس بڑی کوشش کو جو عمران خان کو ہمیشہ کے لیے دیوار سے لگانے کے لیے کی گئی تھی، عدلیہ نے غیر مؤثر کر دیا۔ گویا قانونی طور پر عمران خان کو 9 مئی کا ماسٹر مائنڈ ثابت کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ فیصلہ عمران خان کی فوری رہائی کی ضمانت نہیں ہے کیونکہ ان کے خلاف دیگر کیسز موجود ہیں، لیکن اس سے بیانیے کی کمر ضرور ٹوٹ گئی ہے۔
پس پردہ یہ فیصلہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ 9 مئی کو عمران خان کے خلاف بنایا گیا سیاسی مقدمہ ناکام ہو رہا ہے۔ ریاست نے اس واقعے کو تحریک انصاف کے خاتمے کا جواز بنایا، ہزاروں کارکن گرفتار کیے گئے، پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی گئی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقدمات ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ضمانتیں کسی بڑی سیاسی ڈیل یا آئندہ کے منظرنامے کا حصہ ہوں۔ طاقت کے مراکز اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان کو ہمیشہ کے لیے مائنس کرنا ناممکن ہے۔ عوامی مقبولیت اپنی جگہ موجود ہے اور معاشی بحران نے موجودہ حکومت کو پہلے ہی کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں عمران خان کو کچھ ریلیف دینا اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی ناگزیر ہو گیا ہے۔
یوں سمجھ لیجیے کہ اصل خبر یہ نہیں کہ عمران خان کو ضمانت ملی، بلکہ یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ جس پر پورا مقدمہ کھڑا کیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے اسے جھٹکا دیا ہے۔ مستقبل کی سیاست میں عمران خان کا کردار اب مزید مضبوط ہو گا، اور جو طاقتیں انہیں سیاست سے باہر رکھنا چاہتی تھیں انہیں اب نئے راستے سوچنے ہوں گے۔