نادرا میں میرے تیرہ سال: ایک مختصر احوال

خاکسار آٹھ نومبر دو ہزار بارہ سے نادرا کا حصہ ہے۔ تقریباً تیرہ سال پر محیط عرصہ، ایک معروف قومی ادارے سے یہ وابستگی میں عنایت پر، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی عنایت سمجھتا ہوں۔ انسان پیشہ ورانہ طور پر بہت ساری چیزیں سوچتا ہیں، بے شمار امیدیں اس کے قلب و نظر کی عمیق دنیا کو روشن رکھتی ہیں اور مختلف طاقتور خواہشات اسے ہر دم کارگاہ حیات پر آگے بڑھاتی ہیں لیکن حقیقتاً ملتا وہی کچھ ہے جس کا ایک بندہ کئی اعتبارات سے مستحق قرار پائے اور اس "پانے” میں ہر بندے کی تدبیر، تقدیر، علم، اہلیت اور دلچسپی سمیت بے شمار دیکھی اور آن دیکھی چیزیں کار فرما رہتی ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ میں ایک جدید، مربوط، ہمہ وقت دستیاب، ذمہ دار اور باوقار قومی ادارے کا حصہ ہوں جہاں مجھے نہ صرف عزت اور سکون سے کام کا موقع میسر ہے بلکہ ہر دم انسانی خدمت کا شرف بھی حاصل ہو رہا ہے۔ بے شمار دوست ہیں، زندگی کے تمام ضروری سہولیات مہیا ہیں اور یہ کہ بہت سارے مواقع بھی جو کہ ہزاروں ملازمین کو (نادرا سے لگ بھگ 20000 ہزار کی تعداد میں افرادی قوت وابستہ ہے) ادارے کی بدولت حاصل ہیں۔ انسانی تنوع کے اعتبار سے نادرا ایک گلستان کی مانند ہے جس کے سبب ایک خوبصورت اور متوازن اجتماعیت وجود میں آئی ہے جہاں سنجیدگی، خوش اخلاقی، خاموشی، مہارتوں، استغراق، مربوط معاونت اور مخلصانہ تعلقات کار جیسی خوبیوں نے ایک روح پرور ماحول بنا دیا ہیں۔

نادرا نے اب تک پاکستان میں تقریباً نوے فیصد بالغ افراد کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ نادرا نے بائیومیٹرک سسٹم متعارف کراکے شناختی دستاویزات کو مزید محفوظ اور مربوط بنایا ہے لیکن پاکستان میں لاکھوں افراد (خاص طور پر خواتین، ٹرانسجینڈر اور خانہ بدوش) قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور گوناگوں مسائل کا شکار ہیں اگر نادرا نے ایسے افراد تک رسائی کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن ابھی مزید کام کی ضرورت ہے، اصل میں لوگوں کی رجسٹریشن میں مختلف رکاوٹیں حائل ہیں جن پر اب قابو پانے کے ضروری فیصلے ہو رہے مثلاً سندھ ہائی کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے بعد نادرا اب صرف والد کے شناختی کارڈ کے بغیر بھی لوگوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرتی ہے، خاص طور پر ان بچوں کو جو اپنے والد کے بغیر پرورش پا رہے ہیں۔ اس سے اکیلے والدین کے بچوں کو شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے۔

نادرا اپنے کام، ماحول، عملے، طریق کار، ٹیکنالوجی سے استفادے، ہمہ وقتی دستیابی، نظم و ضبط اور تیزی و سرعت کی بدولت ایک بہت ہی سمارٹ، اثر انداز، مربوط اور اہم قومی بلکہ بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے۔ نادرا نے محفوظ اور مربوط انسانی ڈیٹا کو کام میں لاتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگی میں زبردست آسانی اور سہولت لے آیا ہے۔ درست شناخت کی تصدیق، رقوم کی ادائیگی، درخواستوں کی اپلائی اور مختار ناموں کی منتقلی جیسے معاملات اب نادرا نے تصور سے زیادہ آسان بنا دیئے ہیں۔ نادرا کا ماحول اس قدر خوشگوار اور عملہ اس قدر خوش اخلاق ہے کہ تیرہ سال کے طویل عرصے میں ایک لمحے کے لیے بھی مجھے کوئی ناگواری محسوس ہوئی نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑے کی نوبت آئی۔ لوگ مسکرا کر ملتے ہیں اور نرم لہجے میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہیں جبکہ بوقت ضرورت خاموشی سے باہم مدد بھی کرتے ہیں۔

جس ادارے سے انسان کو روزی روٹی، عزت و سہولت اور آرام و آسائش جیسی نعمتیں میسر آرہی ہوں تو خلوص کا تقاضا ہے کہ اسے اپنے دل، توجہ، جذبے اور زندگی میں مناسب جگہ دیا جائے لہذا میری کوشش، خواہش اور دعا ہے کہ نادرا دن دگنی رات چوگنی ترقی کریں اور ملکی اداروں میں اس کا باوقار مقام تا قیامت قائم و دائم رہے۔ نادرا بنیادی خدمات کی ہمہ وقتی رسائی کے اعتبار سے ایک حد درجہ موثر ادارہ ہے۔ موجودہ دور میں وسیع پیمانے پر تصدیق و توثیق کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہ ضرورت نادرا کی وساطت بطریق احسن پوری ہو رہی ہے۔ کمرشل بینکوں، تجارتی اداروں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور آغوش کو نادرا کے ذریعے درست ادائیگیوں کی سہولت میسر آ رہی ہے۔

نادرا ایک وقیع قومی ادارہ ہے جس کا بنیادی وژن "شناخت کے ذریعے بااختیار بنانا ہے”۔ اس وژن کے ساتھ قومی ڈیٹا کو محفوظ کرنا اور ہم وطنوں کو قومی شناخت سے متعلق دستاویزات کی فراہمی نادرا کی اصل ذمہ داری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق نادرا اس وقت دنیا کے آٹھ دس بڑے آئی ٹی اداروں میں سے ایک ہے۔ نادرا مختلف کمرشل بینکوں، الیکشن کمیشن، نیشنل ہائی ویز، آئر پورٹس، پولیس اور دوسرے حساس قومی اداروں کے ساتھ ہمہ وقتی اشتراک عمل میں منسلک ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کے نظم و ضبط، حفاظت و سلامتی اور ترتیب و تشکیل سے متعلق بہت سارے ملکی اور بین الاقوامی پراجکٹس میں بھی شریک یا معاون و مددگار رہا ہے۔ نادرا کے خدمات کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہے جتنا کہ خود زندگی کا دائرہ۔ ہر شہری، ہر ادارے اور ہر منصوبے کو نادرا کی ضرورت پڑتی ہے نیز ہر مہارت طلب اور آئی ٹی طلب چیلنج پر نادرا کے بغیر قابو پانا، ممکن ہی نہیں۔

نادرا اپنے فرائض کی انجام دہی میں جس اصول کو پیش نظر رکھ کر کام کر رہا ہے وہ ہے بطورِ پاکستانی شہری سب کا احترام اور سب سے برابری کا سلوک۔ چند ایک اتفاقی واقعات کو چھوڑ کر نادرا نے ہمیشہ معزز شہریوں کی بے لوث خدمت انجام دیا ہے اور اس مقصد کے حصول میں جان بوجھ کر کسی غفلت اور لاپرواہی کا ارتکاب کبھی روا نہیں رکھا گیا ہے۔ نادرا ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی زندگیوں میں آسانی اور سہولت کے لیے پورے اہتمام سے سرگرم عمل ہے اور یہ سب کچھ وہ کسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ اپنا بنیادی فرض سمجھ کر انجام دے رہا ہے۔ آن لائن اپلائی، موبائل رجسٹریشن وین، چوبیس گھنٹے خدمات کی فراہمی، ملک بھر کے تمام قومی، بین الاقوامی اور مالیاتی اداروں سے عوامی سہولت کے خاطر اشتراک کار، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مستحقین کا درست اندراج اور انہیں شفاف انداز میں حکومتی امداد کی ادائیگی کو یقینی بنانا وغیرہ شامل ہیں۔

نادرا ایک مکمل سمارٹ، ٹیکنالوجی کی طاقت سے آراستہ، جدید، ہمہ گیر اور ماہرانہ انداز میں اپنے کام انجام دینے کے باوجود اس معاشرے کا حصہ ہے اور یہاں کام کرنے والے سارے آفیسرز اور آفیشلز بھی پاکستان کے ہی شہری ہیں اس لیے یہ بات قطعی خارج از امکان نہیں کہ کہیں کہیں معزز شہریوں کو شکایات کا موقع بھی پیدا ہوگا۔ لیکن شکایت پا کر سمجھنا کہ یہ مسئلہ میرے ساتھ کیوں پیش آیا؟ بالکل مناسب رویہ نہیں۔ زندگی میں شکایت انسان سے ہی انسان کو ہوتی ہے۔ شکایت ہونا کوئی انہونی بات نہیں البتہ شکایت کا ازالہ اور اصلاح احوال کے لیے بروقت مناسب اقدامات اٹھانا لازم ہیں۔ چیئرمین نادرا محترم طارق ملک نے ہمیشہ اس معاملے میں سب سے زیادہ حساسیت دکھائی ہے جب بھی کسی کو نادرا عملہ سے، کوئی شکایت ہوتی ہے تو آپ نہ صرف سیکنڈوں میں اس کا نوٹس لیتے ہیں بلکہ اصلاح احوال کے لیے بروقت اقدامات بھی اٹھانے میں دیر نہیں کرتے۔

نادرا قومی خدمت اور عوامی سہولت کے لیے ہر دم تیار اور متحرک ادارہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ نادرا زندگی اور معاملات کو آسان سے آسان بنانے کی جانب گامزن ہے۔ اس کے باوجود مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ نادرا جتنا کچھ کر سکتا ہے وہ ابھی تک نہیں کر پا رہا یا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ میرا خیال ہے کہ نام، ولدیت، عمر، ازدواجی حیثیت، رہائشی پتہ اور فنگر پرنٹس وغیرہ مکمل ڈیٹا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم، صحت، رہائشی سہولت، مجرمانہ یا شریفانہ ریکارڈ، ہنر و مہارت، منشیات، سکلز سنٹرز، ہسپتالوں، کالجز، یونیورسٹیوں، افراد کار، تجارتی یونٹس اور مراکز، زمینوں سے متعلق "جی آئی ایس” کے مطابق معلومات، روزگار کے میسر مواقع، بے روزگاری کی شرح، ملک میں موجود ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف، انجینیئروں، وکلاء، پروفیسرز، پروفیشنلز، تاجروں اور صنعتکاروں کی درست تعداد اور ضرورت نیز ہر گاؤں اور اس کی آبادی کے لیے فراہم وسائل اور درپیش مسائل کا اندازہ وغیرہ جیسے کام بھی نادرا کے دائرہ کار میں آنے چاہیے۔

میں سمجھانے کے واسطے ایک مثال سے اپنی منشاء کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ عمران خان نے 2018ء کی انتخابی مہم میں قوم سے دو بڑے وعدے کئے تھے کہ اگر ہم اقتدار میں آگئے تو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مکان فراہم کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کو سرے سے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ملک میں کتنے خاندان گھر کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ اس ضرورت کو معلوم کرنے کے غرض سے نادرا کے ذریعے رجسٹریشن کروایا گیا جس میں مستحق اور غیر مستحق کا پتہ چلنا ابھی باقی ہے۔ اس طرح بے روزگاری کے حوالے سے کوئی معتبر اعداد و شمار موجود نہیں۔ پچاس یا سو سیٹوں کے لیے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپلائی کرتے ہیں اور نتیجے میں منوں مایوسی سمیت گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ آپ ان دو مثالوں سے دوسرے بھی بہت سارے مسائل اپنے طور پر سوچ سکتے ہیں۔ کیا بے گھر خاندانوں اور بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں حکومت کو بہت پہلے سے معلوم نہیں ہونا چاہئے؟ حکومت کو اگر درست طور پر درپیش مسائل اور میسر وسائل کا ادراک ہی نہ ہو تو تعمیر و ترقی کے شاہراہ پر آگے بڑھنا یقیناً ممکن نہیں ہوتا۔

قوموں کی تعمیر و ترقی میں مکمل اور درست قومی ڈیٹا نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قومی ڈیٹا کو تمام تر اقدامات اور پالیسیوں کے لیے بطورِ اکائی اختیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مکمل اور درست ڈیٹا کی ترتیب و تشکیل کا کام نادرا بہت ہی کامیابی سے انجام دے سکتا ہے۔ یہ کام مزید ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس کے حوالے کرنا چاہیے۔ کیا بے گھر خاندان، بے روزگار افراد، غیر تعلیم یافتہ اور غیر ہنر مند افرادی قوت، موذی اور مہلک امراض کے شکار لوگ جو بغیر تشخیص و علاج کے صحت مند آبادی میں آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں اور دوسروں کی بیماری کے باعث بنتے ہیں یا منشیات اور دوسرے جرائم جیسی علتوں میں مبتلا شہریوں کے بارے میں درست معلومات، حکومت وقت کو بروقت فراہم نہیں ہونے چاہیے؟ یقیناً فراہم ہونی چاہیے اور یہ کام بہترین انداز میں نادرا ہی کر سکتا ہے۔

میری تجویز ہے نادرا کو ایک مستقل وزارت بنا کر اور وسیع پیمانے پر اختیارات دے کر، ہمہ گیر ڈیٹا کو صحت و درستگی کے ساتھ ترتیب دینے کا کام مکمل طور پر سونپا جائے یقیناً اس اقدام کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔ آبادیاتی نظم و ضبط، تعمیر و ترقی کے لیے شرط اول ہے۔ درست اور مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہر دور میں بے تحاشہ مالی اور افرادی وسائل ضائع ہوئے ہیں جبکہ مسائل جوں کہ توں موجود ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے