کم عمری کی شادی؛حقیقی مسئلہ کیا ہے

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں روایات، ثقافت، اور مذہب کا گہرا اثر ہے۔ کئی دہائیوں سے، کم عمری کی شادی ایک ایسا معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جو ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں رائج ہے۔ اس روایت کے پیچھے متعدد وجوہات کارفرما ہیں، جن میں غربت، جہالت، سماجی دباؤ، اور فرسودہ رسوم و رواج شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں، اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور سول سوسائٹی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور قانونی اقدامات کیے ہیں۔

کم عمری کی شادی کے حامیین کے نزدیک یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، بل کہ یہ ایک کثیر الجہتی سماجی مسئلہ ہے۔ یہ بچے، بالخصوص بچیوں کے بچپن، تعلیم، اور صحت کو تباہ کر دیتی ہے۔ جب ایک لڑکی کو اپنی گڑیوں اور کتابوں کی عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے، تو اس کا بچپن چھن جاتا ہے۔ کم عمری کی شادی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم کر دیتی ہے۔ شادی کے بعد ان پر گھریلو ذمے داریاں عائد ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر، وہ معاشی طور پر اپنے شوہر پر منحصر ہو جاتی ہیں، اور ان کی اپنی کوئی شناخت نہیں بن پاتی۔ یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگی بلکہ ان کے بچوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کم عمری میں حمل خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کم عمر دلہنیں جسمانی اور ذہنی طور پر ماں بننے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ ان کی ہڈیاں، پٹھے اور تولیدی اعضاء ابھی پوری طرح نشوونما نہیں پائے ہوتے، جس کی وجہ سے حمل اور زچگی کے دوران سنگین طبی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں خون کی کمی، انفیکشن، اور قبل از وقت پیدائش کے خطرات شامل ہیں۔ کم عمری میں شادی کی مخالفت کرنے والوں کے نزدیک ایسی شادی میں بچیوں کو اکثر جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ وہ جسمانی طور پر ناپختہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ جنسی تعلقات کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ، وہ ذہنی طور پر بھی اس بڑے رشتے کی ذمے داریوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ گھریلو تشدد اور دیگر اقسام کے ظلم کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ایک حالیہ بِل کے تحت، کم عمری کے ساتھ جسمانی تعلق کو زیادتی تصور کیا گیا ہے، جو کہ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ بچپن کی شادی لڑکے اور لڑکی دونوں کی ذہنی اور جذباتی صحت پر گہرے منفی اثرات ڈالتی ہے۔ چھوٹی عمر میں گھر، خاندان اور دوستوں سے دور ہو کر ایک نئے ماحول میں جانا ان کے لیے ایک شدید ذہنی صدمہ ہوتا ہے۔ وہ ڈپریشن، خوف، اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ موضوع پاکستان میں اس لیے بھی حساس ہے کہ اس کا تعلق اسلامی تعلیمات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بعض مذہبی حلقے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلام میں شادی کی کوئی خاص عمر متعین نہیں ہے۔ اس حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا حوالہ دیا جاتا ہے، جن کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی۔ تاہم چوں کہ ہمارا آئین قرآن و سنت کے تابع ہے اس لیے اس معاملے کو اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور ناپاک چیز کو پاک سے نہ بدلو، اور نہ ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھاؤ، بلاشبہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔” (النساء: 2) پھر اسی سورت میں فرمایا: "اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان میں سمجھ داری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔” (النساء: 6)

ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں صرف جسمانی بلوغت ہی کافی نہیں ہے، بل کہ ذہنی بلوغت اور رشدو حکمت (سمجھ داری) بھی ایک اہم شرط ہے۔ رشدو حکمت سے مراد وہ فکری، جذباتی اور سماجی پختگی ہے جو کسی شخص کو اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل بناتی ہے، بالخصوص شادی جیسے اہم اور پیچیدہ رشتے کے لیے۔ ایک کم عمر بچہ یا بچی جسمانی طور پر بالغ ہو سکتا ہے، لیکن اس میں رشدو حکمت کا فقدان ہوتا ہے۔

بعض فقہا نے اگرچہ نکاح کی کوئی حد مقرر نہیں کی، لیکن اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی عائد کی ہیں۔ جیسے امام شافعی کا قول ہے کہ ولی کو بالغ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح، دیگر فقہی مذاہب نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ شادی ایک باہمی رضامندی کا عمل ہے جو فریقین کی فکری پختگی پر منحصر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ایک مخصوص دور اور پس منظر میں پیش آیا، جب عرب معاشرت میں کم عمری کی شادی ایک رواج تھا۔ اس کے باوجود، یہ واقعہ استثنائی نوعیت کا ہے اور اسے ایک عام اصول کے طور پر نہیں اپنایا جا سکتا۔ یہ واقعہ خطے اور ماحول پر منحصر ہوتا ہے، اور سب سے بڑا عنصر زمانے کا تغیر ہے۔ عرب معاشرہ چوں کہ ایک صحت مند، مضبوط اور گرم خطے پر مشتمل تھا اس لیے اس دور کی خواتین کی اوسط بلوغت کی عمر کم ہوا کرتی تھی۔ لہذا آج 14 سو سال بعد اس زمانے پر آج کے معاشرے کو قیاس کرنا درست امر نہیں۔

نیز اس کے علاوہ اگر اسلامی تعلیمات کے ظاہر کو بھی دیکھا جائے تو ان میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے، عمر کی قید نہ ہونے کی صورت میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا یا 18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد شادی کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔ البتہ جب کوئی ایسا معاملہ ہو جس میں عمر وغیرہ کی کوئی قید نہ ہو تو ریاست کسی بھی انتظامی مصلحت کے تحت ایک خاص حد مقرر کرتے ہوئے تحدید کرنے کی مجاز ہے، لہذا آج کی سماجی ضروریات کے پیش نظر 18 سال کی عمر طے کرنا کوئی ایسا امر معلوم نہیں ہوتا جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔

البتہ مذکورہ بل میں جو قابلِ اعتراض بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ کم عمری میں شادی کرنے والے کو بچے یا بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شمار کیا جائے گا۔ جب کہ یہاں زیادتی زنا بالجبر کا متبادل ہے اور زنا کی حد نصوص میں وارد ہے۔ اور حدود کا دائرہ کار طے کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے اس کے علاوہ کوئی انسان یہ اتھارٹی نہیں رکھتا کہ وہ حدود کا دائرہ کار طے کر سکے۔ لہٰذا اس معاملے اور شق کو سنجیدہ احباب کی جانب سے از سرِ نو زیرِ غور لا کر علمائے کرام کی مشاورت سے طے ہونا چاہیے۔ موجودہ دور میں جہاں تعلیم اور صحت کے مسائل بڑھ چکے ہیں، کم عمری کی شادی سے بچنا ہی شریعت کے مقاصد کے مطابق ہے۔ اسلام کا مقصد انسانوں کو نقصان سے بچانا اور ان کی حفاظت کرنا ہے، اور کم عمری کی شادی سے جو نقصانات ہوتے ہیں، وہ اس مقصد کے منافی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو کم عمری کی شادی کے خلاف بنائے گئے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا چاہیے۔ سزاؤں کو سخت کیا جانا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نکاح خواں، والدین، اور دیگر سہولت کاروں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

کم عمری کی شادی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار تعلیم ہے۔ والدین میں شعور بیدار کیا جائے کہ تعلیم نہ صرف بچیوں کا حق ہے، بل کہ یہ ان کے بہتر مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ حکومت کو دیہی علاقوں میں سکولوں کی تعداد بڑھانی چاہیے اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا چاہیے۔

علمائے کرام، آئمہ مساجد اور مذہبی رہ نما اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ خطبات اور دروس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شادی کی عمر اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں۔ اس سے معاشرے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ البتہ بل میں زیادتی کے حوالے سے جو غیر اسلامی شقیں ہیں انہیں بھی علمائے کرام ہی حکومتی عہدے داروں سے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، سول سوسائٹی، اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر بیداری مہم چلانی چاہیے۔ اس مہم میں کم عمری کی شادی کے طبی، نفسیاتی، اور سماجی نقصانات کو واضح طور پر اجاگر کیا جائے۔ ان اداروں اور کمیونٹیز کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ یہ تمام مہم اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیں، اور اس سے اغیارز بالخصوص فیمنزم اور سیکولر این جی اوز کا آلہ کار نہ بنیں۔

کم عمری کی شادی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو بچیوں کے جسمانی، ذہنی، اور تعلیمی مستقبل کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ مسئلہ اگرچہ اسلامی تعلیمات سے جوڑا جاتا ہے، لیکن قرآن و سنت کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف جسمانی بلوغت کو ہی کافی نہیں سمجھتا، بل کہ رشدو حکمت کو بھی ایک اہم شرط قرار دیتا ہے۔ لہٰذا، اس مسئلے کا حل اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے، بل کہ اس کے عین مطابق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقے مل کر اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھائیں اور بچیوں کو وہ بچپن اور تعلیم دیں جس کی وہ حق دار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فریق ثانی کو بھی کسی معاملے میں قانون سازی کرتے ہوئے اسلامی اقدار کا مکمل پاس رکھنا ضروری ہے۔ اگر ہم ایسا کر پائے، تو ہم نہ صرف ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، بل کہ پاکستان کا مثبت چہرہ بھی اقوام عالم کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے