انسانی تاریخ کے اس طویل سفر میں عورت ایک ایسا مرکزی خیال رہی ہے جس کے گرد تخلیق، تخریب، احترام، تنقید، محبت اور نفرت کے جذبات نے ایک پیچیدہ اور ہمہ گیر داستان رقم کی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں جہاں نوع انسانی کے پہلے قتل کا محرک ایک عورت کی بے احتیاطی کو قرار دیا جاتا ہے، وہیں یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر عظیم الشان تہذیب و تمدن کی تعمیر و تشکیل میں عورت کے ہاتھ کا نمایاں کردار رہا ہے۔ یہ واضح تضاد درحقیقت اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورت میں فطری طور پر تخلیق اور تخریب، دونوں کی غیر معمولی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اس کی ان قوتوں کو مثبت سمت دینا یا منفی راستے پر ڈالنا بالکل اس کی ابتدائی تربیت اور زندگی بھر ملنے والی رہنمائی پر منحصر ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جو میری والدہ محترمہ ہمیشہ انتہائی شدت سے بیان کرتی تھیں۔
میری والدہ محترمہ کی رائے میں، خواتین کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی محتاط اور سوچ سمجھ کر رویہ اپنانا ازحد ضروری ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک عورت کی ایک معمولی سی غلطی یا بے احتیاطی نہ صرف اس کے اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متزلزل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ میں نے اپنی ماں کو بچپن ہی سے سادگی، صبر، حیا اور پردے کے اعلیٰ ترین معیارات کو اپنے معمولات زندگی کا حصہ بنائے دیکھا۔ وہ ہمیشہ سے ہم بہنوں کی بہترین اخلاقی و روحانی تربیت میں اپنی پوری توانائی صرف کرتی رہیں۔ میری یہ ان پڑھ ماں درحقیقت فہم و فراست کی ایک عظیم درس گاہ تھیں، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی تعلیم محض ڈگریوں کا حصول نہیں، بلکہ کردار کی تعمیر اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
ایک ایسا گھریلو ماحول جو محبت، سادگی اور قلبی سکون سے پر ہو، درحقیقت ایک ننھی بیٹی کی شخصیت کے لیے ایک زرخیز و مرطوب زمین کی مانند ہوتا ہے۔ ایسی زمین میں اعتماد، خودداری، مثبت انداز فکر اور بلند حوصلگی کے بیج آسانی سے پنپتے ہیں اور پھر شخصیت کے رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں۔ یہی وہ پرسکون اور پراعتماد فضا ہے جہاں ایک سمجھ دار، نڈر اور باشعور ماں اپنی بیٹی کے وجود میں اخلاق، حیا، محنت، صبر، بردباری اور روشن خیالی جیسے لازوال جوہر بذریعہ عمل منتقل کرتی ہے۔ یہی اوصاف بعد ازاں اس کی شخصیت کا حصہ بن کر اسے زندگی کے ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ہر قسم کی پیچیدگیوں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔
ایک ایسی ماں جو خود اخلاقیات اور عملی زندگی کے اعلیٰ اصولوں پر پوری اترتی ہو، وہ اپنی بیٹیوں کے کردار میں وقت کی پابندی، محنت، صبر، رجائیت اور نرم مزاجی جیسی قیمتی صفات کو اس مہارت اور نفاست سے پروتی ہے جیسے کوئی ماہر و نفیس جواہر ساز ایک کھردرے پتھر کو تراش خراش کر اس میں سے ہیرے کی چمک نکال لے گیا ہو۔ یہ اوصاف محض کتابی الفاظ یا زبانی جمع خرچ نہیں ہوتے، بلکہ یہ تو زندگی بھر ساتھ چلنے والے ایسے رہنما اصول بن جاتے ہیں جو ہر موڑ پر روشنی کا مینار ثابت ہوتے ہیں۔ بیٹی کے لیے ماں کی گود نہ صرف ایک محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے بلکہ یہ ایک ایسی متحرک، زندہ اور حقیقی یونیورسٹی بھی ہوتی ہے جس کا ہر لمحہ ایک نیا سبق دیتا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گھر وہ پہلا اور اہم ترین مدرسہ ہے جہاں انسان کی شخصیت کی بنیادوں کی اینٹیں رکھی جاتی ہیں۔ مسلم معاشرتی ڈھانچے کی عمارت کی اساس گھر ہی ہے اور اس گھر کی رونق، اس کی جان، اس کی روح اس کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ یہ وہ نازک اور خوبصورت پھول ہیں جو کل کو ماں بن کر ایک نئی نسل کو پروان چڑھائیں گی۔ یہ ایک ایسی طلسماتی کڑی ہیں جو ماضی کی روایات کو مستقبل سے جوڑتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے ذہن و دل، دونوں کی تشکیل کرتی ہیں۔ ایک بچی کی تربیت محض ایک فرد کی آبیاری نہیں، بلکہ درحقیقت ایک پورے معاشرے کی تعمیر نو ہے۔ اس لیے یہ مقدس فریضہ کسی ایک خاندان کی انفرادی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک قومی، اجتماعی اور نسلی فریضہ ہے۔ آج کے اس دورِ تبدیلی میں، جب معاشرتی قدروں پر غیر مقامی ثقافتوں کے اثرات ہر طرف سے حملہ آور ہیں، بچیوں کی گھریلو بنیادوں پر تربیت کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اسی طرح اگر گھر کا ماحول پر سکون، محبت آمیز، اعتماد سے بھرپور اور بے تکلف ہو، تو بچی کے اندر ایک ایسی مضبوط خود اعتمادی جنم لیتی ہے جو کہ زندگی بھر اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ ایک باشعور اور باخبر ماں اپنی بیٹی کو نہ صرف زبانی طور پر اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے، بلکہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات، رویوں اور اعمال کے ذریعے بھی اسے یہ گر سکھاتی ہے۔ یہ وہ بنیادی اینٹیں ہیں جن پر مضبوط، نڈر اور باعمل کردار کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اگر یہ اوصاف بچپن ہی میں اس کے شعور و لاشعور کا حصہ بن جائیں، تو پھر زندگی کی کوئی بھی طوفانی آندھی یا مصیبت اس درخت کو جھکا نہیں سکتی۔
اسی طرح دورِ حاضر ترقی، جدت اور ایجادات کا دور ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فتنوں، آزمائشوں اور اخلاقی بحران کا دور بھی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی یلغار نے نوجوان ذہنوں کو گہرے طور پر متاثر اور بعض اوقات مغلوب کر دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں اگر گھر میں تربیت کا دائرہ کمزور پڑ جائے، تو بچیاں ان بیرونی، غیر محسوس اور اکثر مضر اثرات کے آگے بے بس ہو سکتی ہیں۔ انہیں یہ باور کرانا انتہائی ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے خاندان، بلکہ پورے معاشرے اور قوم کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی اگر اخلاقی تربیت سے عاری ہو، تو وہ اپنے زندگی کے بڑے فیصلوں میں نہ صرف غلطی کر سکتی ہے بلکہ اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل تاریک بنا سکتی ہے، جبکہ ایک باکردار، باشعور اور ہوشمند لڑکی ہر میدان میں کامیابی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔
بچیوں کی تربیت کے مقاصد میں محض مذہبی رسمیں یا رسومات سکھانا شامل نہیں ہونا چاہیے، اس کا دائرہ کار وسیع تر ہونا چاہیے۔ اس میں روزمرہ زندگی کے سلیقے، وقت کی قدر و اہمیت، گھر کے کام کاج میں حصہ لینا، دوسروں کے ساتھ نرم رویہ، مالی معاملات میں نظم و ضبط، اور اپنے آپ کو ہر حال میں سنبھالنے کی صلاحیتیں شامل ہونی چاہئیں۔ ایک ایسی لڑکی جو صبر و برداشت، نرم خو، خوش اخلاقی اور ہنرمندی سے آراستہ ہو، وہ نہ صرف ایک وفاشعار بیوی بلکہ ایک باصلاحیت، دوراندیش اور باخبر ماں بھی بنے گی، جو اپنی آنے والی اولاد کو بھی انہیں خوبیوں سے مالا مال کرے گی۔
یہاں پر ایک نکتہ کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے اور وہ یہ کہ تعلیم اور تربیت دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔ تعلیم سے مراد معلومات، ڈیٹا اور علم کا حصول ہے، جبکہ تربیت ان تمام معلومات کو عملی زندگی، رویوں اور کردار میں ڈھالنا ہے۔ اگر بچی کو دنیاوی ڈگریاں تو مل جائیں مگر اس کے اخلاقی اقدار، زندگی گزارنے کی تمیز اور انسان دوستی پروان نہ چڑھیں، تو وہ معاشرے کے لیے کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا نہیں کر پائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ علم کے ساتھ ساتھ بہترین کردار کی بھی مالک ہو، تو وہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی حاصل کر کے بھی اپنی ثقافتی ورثے، اخلاقی روایات اور تہذیبی اقدار سے مضبوطی سے جڑی رہے گی۔
اسی طرح عملی تربیت کے لیے گھر کے ماحول میں کئی طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ بچیوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں، انہیں وقت کے صحیح استعمال کا عادی بنایا جائے، نماز کی پابندی عائد کردی جائے، معیاری ادب اور علمی کتابوں سے روشناس کرایا جائے، فضول قسم کی گفتگو منع کرایا جائے اور نیک رفاقت میسر کی جائے، ہمدردی، غم گساری اور غریبوں اور یتیموں کی مدد کا جذبہ پیدا کیا جائے، پراعتماد طریقے سے بات چیت کرنا سکھایا جائے، اور خدمتِ خلق کے جذبے سےآراستہ کیا جائے۔ یہ وہ طاقتور ہتھیار ہیں جو انہیں زندگی کے میدان میں ہر قدم پر سرخرو ہونے میں ناقابل یقین مدد فراہم کریں گے۔
جب گھروں میں بچیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف دیرپا بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جو اچھی اور پختہ تربیت پا کر ماں بنے، وہ اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکتی ہے، خاندان میں یکجہتی اور ہم آہنگی قائم رکھ سکتی ہے، شوہر کے لیے سکون قلب کا سامان بن سکتی ہے، اور معاشرے میں امن، آشتی اور باہمی احترام کا پیغام پھیلا سکتی ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کو تعلیم و تربیت دینا گویا پوری ایک نسل کو تعلیم دینے کے مترادف ہے۔
اسی طرح آج کے اس جدید، تیز رفتار اور مسابقتی دور میں ہمیں اپنی بچیوں کی تربیت کو اپنی اولین ترجیح دینی چاہیے۔ انہیں محض ڈگریوں، سرٹیفکیٹس اور مادی عہدوں کے پیچھے بھاگنا نہ سکھایا جائے، بلکہ ان کے کردار، اخلاق اور شخصیت کو ایسا تابناک، مضبوط اور روشن بنایا جائے کہ وہ ہر میدان میں چمک سکیں۔ اگر آج ہم اپنی بچیوں کی صحیح سمت میں تربیت کریں گے، تو آنے والا کل یقیناً پرامن، خوشحال، ترقی یافتہ اور روشن ہوگا۔ تربیت دراصل وہ بیش قیمت اور لازوال جوہر ہے جو کسی بھی دنیاوی دولت سے زیادہ قیمتی ہے، کیونکہ یہی وہ پائیدار بنیاد ہے جس پر ایک عظیم، مضبوط اور باشعور معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔