ترقی کا سفریا تخریب کائنات

چندسال پہلے لاہورمیں ہم علی داود صاحب کے گھر بیٹھے تھے، افضال بھائی، نوفل ربانی، اورصابر علی بھی شریک مجلس تھے ، صابر بھائی نے ایک کتاب تھمائی جو ترقی کیا ہے؟ کے عنوان سے تھی درحقیقت یہ انصاری مکتب فکر کی غماز کتاب تھی اس وقت اس پر تنقیدی تبصرہ ہوا تھا میں نے عرض کیاتھاکہ یہ آئیڈیل بات ہے، کہ انسان فطرت اور نیچر کے مطابق سادہ زندگی گزاریں جس میں کائنات اورانسان کی فلاح مضمر ہے تاہم مولاناعبید اللہ سندھی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسانی زندگی کا پہیہ آگے کی طرف چلتاہے ، اس کو واپسی کی طرف گھمانا ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہوتا یعنی بالفاظ دیگر انسانی زندگی میں رجعت قہقری کاامکان نہیں ہے ، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کے بڑے ممالک جیسے چین امریکہ یورپ بھارت جس ترقی کی دوڑ میں لگ چکے ہیں ان کو کنٹرول کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی اور قوانین فطرت کو چھیڑنے کی سعی میں ان بڑے ممالک کاکردار ہے اور اس ہاتھیوں کی دوڑ میں ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ پاکستان کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ایک فیصدبھی حصہ دار نہیں ہے۔

دنیا کی موجودہ ترقی کا شور و غوغا بظاہر آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے زمین پر یہ ترقی ایک مہلک تخریب سے کم نہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھنے والا دھواں، مشینوں کی بے ہنگم گھن گرج اور سرمایہ دارانہ حرص و ہوس کی دوڑ، سب نے مل کر کرۂ ارض کو ایک ایسے دائرۂ ہلاکت میں دھکیل دیا ہے جس کا انجام خوفناک ہے۔

یہ کیسے ترقی ہے کہ آسمان کی نیلگوں وسعتیں سیاہ بادلوں کے بجائے زہریلی گیسوں سے بھر گئی ہیں؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ برفانی چوٹیوں کے سینے پگھل رہے ہیں، ندیاں بے قابو ہو کر بستیاں بہا لے جاتی ہیں، اور کبھی بارشوں کی یلغار ہر شے کو ڈبو دیتی ہے، تو کبھی قحط کی خشک سالی انسان کے ہونٹوں کو پیاس سے چٹخا دیتی ہے۔

آج کی ترقی نے پانی کو زہر، زمین کو بنجر اور فضا کو ناسور بنا دیا ہے۔ زرعی کھیت جو کبھی اناج کے خوشوں سے لبریز تھے، اب سیم و تھور کی سفیدی سے اَٹے ہیں۔ دریاؤں کا پانی جو کبھی زندگی کا پیامبر تھا، آج صنعتی فضلے اور کیمیائی زہروں کا گہوارہ ہے۔ سمندر، جو کبھی مچھلیوں کے قافلے اور موتیوں کے خزانے چھپائے بیٹھے تھے، اب پلاسٹک اور تیل کے داغوں میں ڈوبے جا رہے ہیں۔

حیوانات اور پرندوں کی صدا خاموش ہو رہی ہے، جنگلات کی سرسبز چادر نوچ لی گئی ہے، اور زمین اپنی حیاتیاتی رنگینی سے محروم ہو رہی ہے۔ یہ سب اسی ترقی کے کرشمے ہیں جس پر چائنا امریکہ یورپ بھارت کا انسان نازاں ہے درحقیقت یہ ترقی کاسفر زمین کو بربادی کے دہانے پر لے آیا ہے۔

انسانی صحت بھی اسی ترقی کے ہاتھوں پامال ہو رہی ہے۔ سانس لینا دشوار، پینے کا پانی مضرِ صحت، اور غذا میں زہر کی آمیزش، بیماریاں نئی صورتوں میں ظاہر ہو رہی ہیں، کبھی دمہ، کبھی سرطان، کبھی دل کے عوارض۔ گویا انسان اپنی ہی تعمیر کردہ دنیا میں اجنبی اور مجبور ہو چکا ہے۔

اس ترقی نے سماج کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف سرمایہ دار طبقہ ہے جو زمین کے خزانوں پر قابض ہے، اور دوسری طرف کروڑوں انسان ہیں جو بھوک، پیاس اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وسائل پر جھگڑے اور جنگیں بڑھ رہی ہیں۔ کل تک جو جنگیں سرحدوں کے لئے تھیں، کل کو وہ پانی اور خوراک کے لئے لڑی جائیں گی۔

یہ صرف ماحول کی تباہی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی زوال بھی ہے۔ انسان اپنے خالق کی عطا کردہ زمین کو برباد کر کے خود کو “اشرف المخلوقات” کہلوانے کے حق سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ آج کی ترقی کا مطلب ہے:
گرمی کی لہر میں جلتے شہر،
سیلاب میں ڈوبتی بستیاں،
قحط کے مارے ہوئے انسان،
اور مستقبل کی پیاسی نسلیں۔

اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والی صدیوں کی تاریخ لکھے گی کہ:
“انسان نے ترقی کے نشے میں زمین کو قبرستان بنا دیا۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے