کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کے اتنے سارے ممالک میں کون سے ملک کے لوگ سب سے زیادہ خوش ہیں سب سے زیادہ خوشحال ہیں سب سے زیادہ مطمئن ہیں؟
اور کون سے ملک کے لوگ سب سے بدحال اور غیر مطمئن ہیں؟
اور کیا کبھی یہ سوچا کہ دنیا میں جو خوش ہیں وہ کیوں ھیں اور جو ناخوش ھیں تو کیوں ھیں ؟ یہ سوال محض تجسس پیدا نہیں کرتا بلکہ حکومتوں اور معاشروں کے لیے ایک آئینہ بھی ہے۔
ہر سال اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ’’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘‘ جاری ہوتی ہے جو مختلف ممالک میں عوام کی زندگی میں اطمینان اور ذہنی سکون کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کا تازہ ترین ایڈیشن 20 مارچ 2025ء کو جاری کیا گیا، جس میں چھ بنیادی عوامل کی بنیاد پر ملکوں کو ایک تا سات کے اسکور پر ناپا گیا:
1. معاشی معیارِ زندگی – یعنی فی کس آمدنی اور لوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کی صلاحیت۔
2. سماجی تعاون – معاشرے میں باہمی اعتماد، مدد اور سہارے کا موجود ہونا۔
3. اوسط عمر یا صحت – لوگوں کی عمومی صحت، علاج تک رسائی اور زندگی کی متوقع مدت۔
4. آزادیٔ انتخاب – اپنی زندگی کے اہم فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا اختیار۔
5. فیاضی یا سخاوت – معاشرتی رویّوں میں مدد اور دوسروں کے لیے قربانی دینے کا جذبہ۔
6. کرپشن کی کم شرح – حکومتی اداروں اور سماج میں شفافیت اور بدعنوانی کی کمی
یہی عناصر واضح کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق صرف دولت یا جی ڈی پی سے نہیں بلکہ مضبوط معاشرتی تعلقات، شفاف طرزِ حکومت اور ذاتی آزادی سے بھی ہے۔
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2025 کے مطابق دنیا کے خوش ترین ممالک میں فن لینڈ مسلسل آٹھویں سال پہلے نمبر پر ہے جس کا اسکور 7.73 رہا۔ ڈنمارک 7.52 کے ساتھ دوسرے، آئس لینڈ 7.51 کے ساتھ تیسرے، سویڈن 7.34 کے ساتھ چوتھے اور نیدرلینڈز 7.30 کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔ حیرت انگیز طور پر لاطینی امریکی ممالک کوسٹا ریکا اور میکسیکو پہلی مرتبہ بالترتیب چھٹے اور دسویں نمبر پر شامل ہوئے ہیں۔
اس فہرست کے آخری سرے پر افغانستان ہے جس کا اسکور محض 1.4 رہا، جبکہ لبنان، لیسوتھو اور سیرالیون بھی نچلی سطح پر موجود ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق پاکستان خوشی کے عالمی اشاریے میں 109ویں نمبر پر ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک درجے کی کمی ہے۔ تاہم پاکستان اب بھی اپنے بعض پڑوسیوں سے بہتر ہے: بھارت 118ویں، بنگلہ دیش 133ویں، سری لنکا 134ویں اور افغانستان 147ویں نمبر پر ہیں۔ جنوبی ایشیا میں سب سے بہتر کارکردگی نیپال نے دکھائی جو 92ویں یا 93ویں مقام پر رہا۔ امریکہ کی پوزیشن بھی مسلسل گرتے گرتے 24ویں مقام تک جا پہنچی ہے جس کی بڑی وجہ سماجی تنہائی اور اکیلے کھانے کا بڑھتا رجحان بتائی گئی ہے۔
رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ معاشرتی روابط اور مشترکہ خاندانی یا سماجی سرگرمیاں خوشی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان میں ان چھ بنیادی عوامل کی صورتحال تشویشناک ہے۔ معاشی معیارِ زندگی کے حوالے سے مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی قوتِ خرید بری طرح متاثر کی ہے۔ غیر مستحکم معاشی پالیسیاں، بیرونی قرضوں پر انحصار اور پیداواری شعبوں میں کم سرمایہ کاری اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ تمام سابقہ حکومتوں نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے قرضوں پر انحصار کیا، صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کے فروغ کے بجائے درآمدی پالیسیوں کو ترجیح دی، اور معاشی اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ نہیں کیا۔ اس مسئلے کا حل طویل المدتی معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور چھوٹے کاروباروں کو سہولت دینا ہے۔
سماجی تعاون میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
معاشرے میں اعتماد کا فقدان اور طبقاتی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ تعلیمی ناہمواری، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور ریاستی اداروں کی کمزور کارکردگی اس زوال کا سبب ہیں۔ گزشتہ حکومتوں نے تعلیم میں یکساں مواقع پیدا کرنے اور سماجی بہبود کے پروگراموں کو مربوط کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات کیے جن سے معاشرتی عدم توازن مزید بڑھا۔ اس کا حل تعلیمی اصلاحات، سماجی بہبود کے منصوبے اور قانون کی یکساں عملداری ہے۔
اوسط عمر اور صحت کے حوالے سے سہولتیں محدود اور غیر مساوی ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں صورتحال بدتر ہے۔ صحت کے بجٹ میں کمی، بنیادی مراکز صحت کا فقدان اور صاف پانی و خوراک کے مسائل اہم وجوہات ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے صحت کے بجٹ میں مستقل اضافہ کرنے اور دیہی علاقوں کے لیے جامع منصوبے بنانے کے بجائے عارضی اقدامات کیے جن سے بنیادی مسائل جوں کے توں رہے۔ اس کے لیے خاطر خواہ فنڈز، دیہی علاقوں میں موبائل کلینک اور صاف پانی کے منصوبے ضروری ہیں۔
عوام اپنی زندگی کے فیصلوں میں مکمل آزادی بھی محسوس نہیں کرتے کیونکہ معاشی دباؤ، روزگار کی کمی، کمزور عدالتی نظام اور سیاسی عدم استحکام راستے میں رکاوٹ ہیں۔ پچھلی حکومتوں نے عدالتی اصلاحات یا سیاسی استحکام کے لیے کوئی پائیدار منصوبہ تیار نہیں کیا۔ اس کے لیے شفاف حکومت، عدالتی اصلاحات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے۔
فیاضی کے معاملے میں لوگ ذاتی طور پر مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن ریاستی سطح پر یہ جذبہ منظم نہیں۔ فلاحی اداروں کو مضبوط کرنا اور عطیات کو شفاف نظام سے جوڑنا ضروری ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے فلاحی اداروں کو مربوط کرنے یا عطیات کے شفاف نظام کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
کرپشن تقریباً ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ احتسابی اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی، سیاسی مصلحتیں اور کمزور قانون نافذ کرنے والا ڈھانچہ اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے آزاد احتسابی نظام قائم کرنے کے بجائے اداروں کو سیاسی دباؤ کے تحت استعمال کیا جس سے عوامی اعتماد مزید کم ہوا۔ آزاد اور غیر جانبدار احتسابی نظام، سخت سزائیں اور شفاف طرزِ حکومت ہی اس مسئلے کو کم کر سکتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں جو صورتحال چل رہی ہے جو برتاؤ کیا جا رہا ہے اور جس طریقے سے پیکا قانون کو لاگو کیا گیا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگلے سال کہ ہیپینس رپورٹ میں پاکستان فہرست میں اور بھی نیچے جا چکا ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان مسائل کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب اصلاحات کرنے والے پڑھے لکھے ہوں، مخلص ہوں، سمجھدار ہوں اور حکومتی، معاشی اور معاشرتی معاملات کی گہری سمجھ رکھتے ہوں۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومتی ٹیموں میں ایسا کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا۔ اور نہ ہی موجودہ حکومت کا کوئی ایسا ارادہ یا ایجنڈا یا ویژن دکھائی دیتا ہے۔
یہ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں آنے والی جمہوری حکومتیں ان بنیادی عوامل کو مضبوط کرنے کے بجائے وقتی اقدامات اور نمائشی پالیسیوں پر زور دیتی رہی ہیں۔
عوامی خوشی اور فلاح کے یہ ستون مستحکم کیے بغیر کوئی بھی ملک عالمی درجہ بندی میں اوپر نہیں جا سکتا۔ جب تک معیشت کو مستحکم کرنے، صحت و تعلیم کو ترجیح دینے، بدعنوانی کے خاتمے اور سماجی انصاف کے قیام کے لیے حقیقی سیاسی عزم پیدا نہیں ہوتا، پاکستان کی عوام خوشحالی اور اعتماد کے اس سفر میں پیچھے ہی رہیں گے۔