مشکلات کے سائے میں جینے کا فن

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جسے کبھی پریشانی، دکھ یا تکلیف کا سامنا نہ ہوا ہو۔ زندگی کا اصول ہے کہ مشکل حالات آتے رہتے ہیں، بس ان کی نوعیت اور پس منظر ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ جو بات ایک کے لیے معمولی ہے وہ دوسرے کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مشکلات کے اثرات صرف دل و دماغ پر نہیں بلکہ جسمانی کیفیت، چہرے کے تاثرات اور بیرونی رویّوں تک کو بدل دیتے ہیں۔ اس کیفیت کو ہم نفسیات کی زبان میں Stress کہتے ہیں۔ جب یہ Stress حد سے بڑھ جائے تو انسان اپنی ذاتی زندگی میں بھی غیر مفید ہو جاتا ہے اور معاشرتی سطح پر بھی بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، یوں وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بگاڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔

اس دباؤ کی جڑیں فرد کی نجی زندگی تک محدود نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے اور اجتماعی رویّوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ میکرو سطح پر دیکھیں تو ہمارے ہاں طرزِ حکمرانی کے نقائص، معاشی ناہمواری اور سماجی ناانصافیاں افراد کے اندرونی دباؤ کو بڑھاتی ہیں۔ برسوں سے حکومت کا ڈھانچہ ایسا تشکیل دیا گیا ہے کہ اوپر والے طبقات کو مزید اوپر رکھا جائے اور نچلے طبقات کو اندھی گلیوں میں دھکیلا جائے۔ جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو فرد اجتماعی ترقی میں مثبت حصہ لینے کے قابل کیسے رہے؟ یہی وہ سماجی حقیقت ہے جو غربت اور محرومی کو محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ذہنی صحت اور سماجی ہم آہنگی کا مسئلہ بھی بنا دیتی ہے۔ حالیہ سیلابی آفات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انفراسٹرکچر پر بروقت اور سنجیدہ کام کیا جاتا تو پوری آبادی یوں نہ ڈوبتی۔ ان حالات کو صرف "اللہ کا عذاب” قرار دے کر اپنی ناکامی چھپانا دراصل سماجی طور پر پیدا کی گئی آفت (Socially Constructed Disaster) کی پردہ پوشی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اللّٰہ کے اصول کبھی نہیں بدلتے، بگاڑ ہم نے اپنی اجتماعی عقل اور اجتماعی رویّوں سے خود پیدا کیا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے ڈرکھائم نے Anomie کہا تھا، یعنی ایسی حالت جب معاشرہ اپنی اقدار اور اصول کھو بیٹھے اور افراد اجتماعی سمت سے بے خبر ہو جائیں۔

اگر ذرا قریب سے دیکھیں تو مائیکرو سطح پر بھی یہ دباؤ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی مالی پریشانی جب گھریلو بجٹ کو توڑ دیتی ہے اور بل سر پر چڑھ جاتے ہیں؛ کبھی اچانک صحت خراب ہو جاتی ہے یا کوئی خطرناک بیماری تشخیص ہو جاتی ہے؛ بعض اوقات کام کا دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وقت کم اور کام زیادہ محسوس ہوتا ہے؛ کبھی شادی یا دیگر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، اور پھر روزانہ کے حادثات اور خبریں دماغ کو مستقل اضطراب میں ڈال دیتی ہیں۔ زندگی کے اس موڑ پر کئی لوگ ہمت ہار دیتے ہیں اور کچھ تو خودکشی جیسے انتہائی قدم تک جا پہنچتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب فرد نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے بھی غیر کارآمد ہو جاتا ہے اور بالآخر Social Alienation کا شکار ہو کر اپنے رشتوں سے کٹنے لگتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس سے نکلنے کی راہ کیا ہے؟

سب سے پہلا قدم Emotional Acceptance ہے، یعنی یہ ماننا کہ غصہ، مایوسی، آنسو اور بے بسی سب فطری ردِعمل ہیں۔ انکار سے مسائل کم نہیں ہوتے۔ مگر اصل صلاحیت Emotional Regulation ہے، جو کہ فطری نہیں بلکہ سیکھنے کی چیز ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں تربیت (Socialization) زیادہ تر الٹی سمت میں ہوتی ہے: چھوٹی بات پر طوفان کھڑا کرنا، حل کے بجائے الزام تراشی کرنا، Stress میں کھانا پینا چھوڑ دینا، روزمرہ کی روٹین توڑ دینا یا خاموش ہو جانا۔ بچے اسی ماحول میں پلتے ہیں اور انہی رویّوں کو بطور سبق سیکھ لیتے ہیں، یوں ایک نسل ذہنی طور پر کمزور سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔

انسانی زندگی میں سب سے بڑا Coping Mechanism خود انسان ہے۔ اگر آپ ہی گر گئے تو مسئلہ بڑھ جائے گا۔ ذہنی سکون کو گاڑی کے ایندھن کی طرح سمجھا جا سکتا ہے: ایندھن ہو تو گاڑی چلتی ہے، ختم ہو جائے تو سب رک جاتا ہے۔ اس لیے مشکل وقت میں Self-Care غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

سب سے پہلے جسمانی صحت کو نظرانداز نہ کریں، متوازن غذا ضرور لیں چاہے بھوک نہ لگے۔ دوسری بات، اپنی روزمرہ روٹین نہ توڑیں کیونکہ جب معمول ٹوٹتا ہے تو دماغ منفی سوچوں کے نئے میپ بناتا ہے اور اکثر یہ میپ بند گلیوں تک لے جاتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ کمیونیکیشن ہر حل کا پہلا دروازہ ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے سوشیالوجی میں Social Support System کہا جاتا ہے۔ اپنے قریب ترین اور بھروسہ مند فرد سے مسئلہ شیئر کرنا فرد کو Collective Coping کا حصہ بنا دیتا ہے۔ اسی طرح باقاعدہ ورزش یا کم از کم واک نہ صرف جسمانی صحت بہتر کرتی ہے بلکہ مثبت ہارمونز پیدا کر کے فیصلہ سازی کو بھی بہتر بناتی ہے۔ یہ تمام اقدامات چھوٹے ضرور ہیں مگر وقت کے ساتھ بڑی بہتری پیدا کرتے ہیں۔

ہمارے گرد سب سے پرومینينٹ دباؤ فنانشل Stress ہے۔ مہنگائی گھریلو بجٹ کو الٹ دیتی ہے۔ قومی سطح پر پالیسیاں شاید نہ بن سکیں، لیکن گھریلو سطح پر بجٹ کو Re-plan کیا جا سکتا ہے۔ خواہش اور ضرورت میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ غیر ضروری خواہشات کو وقتی طور پر مؤخر کیا جا سکتا ہے مگر بنیادی ضروریات خصوصاً صحت پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ چھوٹے اقدامات جیسے بجلی کی بچت، فضول خرچی کم کرنا یا روزمرہ اخراجات پر قابو پانا، وقت کے ساتھ اجتماعی طور پر بھی بڑا فرق ڈالتے ہیں۔ یہ وہی عمل ہے جسے مائیکرو ریزیلیئنس کہا جاتا ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مستقل Stress میں ڈوبا ہوا شخص بالآخر سماج کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ لوگ وقتی دلاسہ تو دیتے ہیں مگر اندر سے دیر تک کسی کا بوجھ اٹھانا انسان کے بس میں نہیں۔

یہی انسانی فطرت ہے کہ بوجھل رشتے اور تھکا دینے والی کیفیت ایک وقت کے بعد برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔ اس لیے خود کو سنبھالنے اور Stress Management سیکھنے کی مہارت ہر فرد کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ مہارت تجربے، مشاہدے اور شعوری تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔

آخر میں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کا ایک پیدا کرنے والا ہے، ایک Divine System ہے۔جس میں سب دیکھا جا رہا ہے ۔ اور یہ سب سے سب سے طاقتور سسٹم ہے اور اس کے علم میں ہماری ہر مشکل، ہر پریشانی اور ہر سوچ ہے۔ اس کے ساتھ تعلق انسان کو Existential Meaning دیتا ہے، اور یہی یقین سب سے مضبوط سہارا بن جاتا ہے۔ یہ احساس کہ کوئی بڑی قوت مشکل میں آپ کا بازو تھامے کھڑی ہے، فرد کو نہ صرف ذاتی سطح پر مضبوط کرتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک کارآمد شہری بناتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس تعلق کو کمزور نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ اصل طاقت، توانائی اور سکون اسی تعلق سے جنم لیتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے