زندگی اور علم کے سفر میں لفظ اور خیال کا اٹوٹ رشتہ

میرے عزیز دوست حسن البنا نے حال ہی میں جون ایلیا سے منسوب ایک خیال پر پوسٹ میں لکھا ہے کہ "لفظ خیالوں کے حق مار لیتے ہیں” یہ بات ہمارے ادبی اور جذباتی ذوق نے فی الفور مسترد کر دیا اور میں نے نقد اس کی تردید کردی۔ میں نے عرض کیا کہ "لفظ خیالوں کے محسن ہیں، یہ موجود نہ ہوتے تو خیال قیامت تک کبھی ظاہر نہ ہوتے”۔ مندرجہ بالا پوسٹ میں ہمارے پیارے دوست نے چند لفظوں کا سہارا لے کر لفظوں کی ٹھیک ٹھاک توہین کی ہے۔ ہمارے دوست کو اپنا یہ خیال ظاہر کرنے کے لیے بھی لفظوں کا احتیاج لاحق ہوا۔ آئیے دل، دماغ اور روح کی گہرائیوں میں سوچ کر ہم زندگی اور علم کے سفر میں لفظوں اور خیالات کے باہمی رشتے، ان کی تاریخی و تہذیبی اہمیت، اور ان کے بغیر انسانی سوچ کے ممکنہ خلا کا جائزہ لیتے ہیں۔

لفظ اور خیال کے درمیان ایک ایسا دائمی اور لازم و ملزوم تعلق قائم ہے جس کے بغیر انسانی تہذیب اور ثقافت کا تصور بھی محال ہے۔ خیال، ذہن کی پیدا وار ہے، ایک ایسی غیر مرئی اور غیر محسوس وجود رکھنے والی شے جسے ظاہر کرنے کے لیے لفظوں کا ہونا ناگزیر ہے۔ لفظ دراصل خیال کے محسن ہیں، یعنی وہ اس کے خالق، نگہبان اور ترسیل کار ہیں۔ بغیر لفظوں کے خیال محض ایک مبہم سایہ ہے، ایک ایسی روشنی جو بجھنے سے پہلے پھیل نہیں پاتی۔

لفظ خیال کو شکل دیتے ہیں، اسے متعین کرتے ہیں، اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ جب کوئی مصنف، شاعر یا فلسفی اپنے خیالات کو پیش کرتا ہے، تو وہ دراصل لفظوں کے ذریعے اپنے ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے۔ مثال کے طور پر، علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کو اگر ان کے اشعار اور تحریروں کے ذریعے نہ دیکھا جائے تو وہ خیال کیسے عوام تک پہنچتا؟ اسی طرح، مولانا روم کی مثنوی میں پنہاں صوفیانہ خیالات لفظوں ہی کے طفیل ہمارے دلوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح خود جون ایلیا کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے لفظوں کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ملا۔ لفظوں سے کام نہ لیتے تو آج کسی کو بھی ان کے خیالات کے بارے میں پتہ نہ ہوتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے جب سے تحریر و تقریر کا سہارا لیا ہے، اس کے خیالات نے ترقی کی ہے۔ قدیم تہذیبوں کے ادبی، مذہبی اور فلسفیانہ متنوں نے ان کے خیالات کو محفوظ کیا اور آج ہم انہیں پڑھ کر ان کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اگر لفظ نہ ہوتے تو یہ خیال وقت کی گرد میں گم ہو چکے ہوتے۔ قرآن کریم، بائبل، وید اور دیگر مقدس کتابیں بھی دراصل لفظوں ہی کے ذریعے اپنے پیغامات کو قیامت تک زندہ رکھتی ہیں۔

ادب میں لفظوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ شاعر اور ادیب لفظوں کے جادو سے خیالات کو ایسی صورت دیتے ہیں کہ وہ قاری کے دل و دماغ پر مرتسم ہو جاتے ہیں۔ میر تقی میر کا یہ شعر دیکھیے:

"غمِ عشق گر نہ ہوتا میرے اشعار میں
پھر کہاں سے لاتی میں اپنی داستاں کو”

یہاں شاعر خود تسلیم کرتا ہے کہ اگر اس کے پاس لفظ نہ ہوتے تو وہ اپنے غمِ عشق کو کیسے بیان کرتا؟ لفظ ہی تو ہیں جو خیال کو آب و تاب بخشتے ہیں۔

علم کی ترتیب و تدوین اور اس کی اشاعت میں لفظ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تمام علوم و فنون، خواہ وہ سائنس ہو یا ادب، لفظوں ہی کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔ اگر لفظ نہ ہوتے تو نیوٹن کے کشش ثقل کا قانون، آئن سٹائن کے نظریات، یا پھر سقراط کے فلسفے کبھی بھی ہمارے علم کا حصہ نہ بن پاتے۔

نفسیاتی طور پر، لفظ انسان کے ذہنی عمل کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انسان سوچتا لفظوں میں ہے، خواب دیکھتا لفظوں میں ہے، اور اپنے جذبات کو بیان کرتا لفظوں ہی میں ہے۔ سماجی طور پر، لفظ ہی ہیں جو انسانوں کے درمیان روابط قائم کرتے ہیں، قوانین بناتے ہیں، اور معاشرتی اقدار کو باقاعدہ تشکیل دیتے ہیں۔

‎لفظوں کے بغیر خیالات کی تشکیل اور اظہار ناممکن ہے۔ زبان صرف ایک وسیلۂ ابلاغ نہیں، بلکہ یہ انسانی سوچ کی بنیادی ساخت ہے۔ فلسفی لڈوگ وٹگنسٹائن کے مطابق، "زبان کی حدود ہی دنیا کی حدود ہیں”۔ یعنی ہم جو کچھ سوچ سکتے ہیں، وہ زبان کے دائرے ہی میں ممکن ہے۔ اس طرح مشہور صوفی شاعر میر تقی میر کے اشعار میں لفظوں کی برتری اور ان کے بغیر خیالات کی بے ثباتی کا ذکر ملتا ہے۔ مثال کے طور پر:

‎”ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ مخواہ رلاتے ہو 
‎ آنکھ اٹھا کر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو”

‎یہاں لفظوں کے ذریعے ہی جذبات اور خیالات کی عکاسی ممکن ہوتی ہے۔

‎صوفیاء اور ادبا کے ہاں لفظوں کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ ان کے ہاں یہ حقیقت تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ اس طرح حافظ شیرازی اور عبدالقادر بیدل جیسے شعرا کے ہاں لفظوں کی برتری واضح ہے۔ اس طرح امیر مینائی کی غزل میں لفظوں کی اہمیت کو یوں بیان کیا گیا ہے:

‎”تیرے جور وستم اُٹھائیں ہم 
‎ یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم”

‎یہاں لفظ ہی ہیں جو خیال کے درد کو قابلِ فہم بناتے ہیں۔

‎خیال اور لفظ کا رشتہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورا ہے۔ خیال کو وجود میں لانے کے لیے لفظ ناگزیر ہیں۔ مرزا اسد اللہ خان غالب کے ہاں لفظوں کی نفاست اور خیالات کی گہرائی کا امتزاج ملتا ہے:

‎”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 
‎ بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”

‎یہاں لفظ ہی ہیں جو خیالات کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان کے بغیر لفظوں کے نہ تو خیال وجود پا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا اظہار ممکن ہے۔

اس لیے میرے خیال میں، لفظ خیال کے محسن ہیں۔ وہ اسے وجود عطا کرتے ہیں، اسے باقاعدہ پروان چڑھاتے ہیں، اور اسے زندہ رکھتے ہیں۔ اگر لفظ نہ ہوتے تو خیال، خیال ہی رہ جاتا، نہ تو وہ کسی تک پہنچ پاتا، نہ ہی کوئی اسے جان پاتا۔ یہ لفظ ہی ہیں جو خیال کو قیامت تک زندہ رکھتے ہیں، اور انسانی تہذیب و ترقی کا سفر جاری رکھتے ہیں۔

میرے دوست حسن البنا کو لفظوں کے حوالے سے اپنے خیالات پر ایک بار ضرور گہرائی سے سوچنا چاہیے مجھے یقین ہے انہیں لفظوں کے بارے میں اپنی "خام خیالی” کا ادراک ہو جائے گا اور یوں زندگی اور علم کے سفر میں لفظوں کی اہمیت ان پر کما حقہ واضح ہو جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے