میں نے ہم سب (ڈیجیٹل فورم) پر ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۴ کو اپنے کالم “نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟” میں لکھا تھا:
“اور ہمیشہ کی طرح پاکستان کی محبت میں مٹنے والے بہاریوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔”
اور پھر ۶ جنوری ۲۰۲۵ کو اسی فورم پر “ڈار صاحب جب آپ ڈھاکہ جائیں تو” کے عنوان سے یاد دہانی کروائی تھی کہ:
“ترپن سال سے پاکستان سے محبت کے ’جرم‘ میں … ۷×۷ / ۶×۶ کے ڈربوں میں … مقیّد ہیں۔”
“ڈھاکہ میں اس اذیت خانے کا نام ’جنیوا کیمپ‘ ہے۔”
آج ۲۳ اگست ۲۰۲۵ کی خبر یہ ہے کہ وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار ڈھاکہ پہنچ رہے ہیں—تیرہ برس بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا پہلا باضابطہ دورہ۔
سوال مگر وہی ہے: کیا محصورین—بہاری اور دیگر غیر بنگالی اُردو بولنے والے—آپ کے ایجنڈے پر ہیں؟
میں یہ سوال چشمِ تصور میں اپنے مرحوم باپ کے گھر “۶۹/سی، ایوب ایونیو نزد ایوب گیٹ، محمد پور، ڈھاکہ (مشرقی پاکستان)” کے دروازے پر کھڑی ہو کر پوچھتی ہوں—وہ گھر جو ہم نے کبھی کلیم نہیں کیا۔ میں نے تب بھی لکھا تھا:
“میرے مرحوم باپ نے ایک گھر بنایا تھا … ۶۹/سی، ایوب ایونیو نزد ایوب گیٹ، محمد پور، ڈھاکہ۔”
وہی گھر آج عوامی لیگ کے ایک کارکن اسد کے نام پر ہے، جن کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ انہیں مبینہ طور پر پاکستان آرمی نے مارا تھا۔ لیکن عام تاثرات میں یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پاکستان دشمن اور پاکستان پرست کون تھے؟ پرچم جلانے اور پرچم بچانے والوں کے فرق کو کب تسلیم کیا جائے گا؟
انسان ایجنڈا کیوں نہیں ہوتے؟ یا ایجنڈا انسانی کیوں نہیں ہوتے؟ کیا سیاست ظلمت ہے یا خدمت؟ یہ دانشوروں کو ہی پتا ہوگا—مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ پالیسی نوٹس میں تجارت، ویزا، پروازیں، طلبہ تبادلہ اور “نئی شروعات” جیسے الفاظ آسانی سے فٹ ہو جاتے ہیں۔ مگر ان نوٹس میں انسان کہاں ہیں؟ اور اگر وہ انسان بہاری ہوں یا غیر بنگالی ہوں، یا ان پاکستان پرست لوگوں کی پانچویں نسل ہو—تو شاید وہ انسانوں کی درجہ بندی میں بھی نہیں آتے۔
میں نے صاف لکھا تھا:
“ہمارے پاس نہ کوئی ایمن مزاری ہے، نہ ماہ رنگ بلوچ، نہ حامد میر، نہ محمد حنیف۔”
یہ برادری—جسے کبھی “محصورین”، کبھی “اٹکے بہاری” اور کبھی اس سے بھی ذلت آمیز ناموں سے پکارا گیا—پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑی تھی۔ ان کا انتقامی قتلِ عام ہوا، عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی، گھروں کی لوٹ مار ہوئی، اور شناختیں چھین لی گئیں۔ میں نے لکھا تھا:
“نہتے بہاریوں کا سفاکانہ قتلِ عام، … عورتوں کی تذلیل/آبرو ریزی، اور پوری برادری کی بے گھری … جائز نہیں مانا جا سکتا۔”
۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ سے ۱۶ دسمبر ۲۰۲۴ تک—یعنی ۱۹۳۵۹ دن—یہ برادری ذلت اور گمشدہ شناختوں کے ساتھ جی رہی ہے۔ اور آج بھی:
“نہ کوئی سننے والا ہے نہ سنانے والا۔”
آج ایک موقع ہے۔
ڈار صاحب، آپ کی حکومت “تاریخی باب” کھولنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟
آپ ڈھاکہ میں ڈاکٹر محمد یونس کے چیف مشیر توحید حسین سے بھی ملیں گے۔ پہلی اکتوبر ۲۰۲۴ کی میڈیا بریفنگ میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو کوئی ایسا تاثر نہیں دیا کہ بنگلہ دیش ۱۹۷۱ کے معاملے کو چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے الفاظ تھے: پاکستان کی طرف سے ہم نے کوئی بیان نہیں سنا۔ ان کا ذاتی خیال یہ ہے کہ تعلقات آسان ہو جائیں گے اگر پاکستان ۱۹۷۱ کا ذکر کرے اور معافی مانگے۔
میں نے ہم سب کے توسط سے ان سے پوچھا تھا:
“توحید صاحب—جو جنگی جرائم مکتی باہنی نے نہتے بہاریوں پر کیے، اسے آپ آزادی کی جدوجہد قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ معافی مانگیں گے؟”
ڈار صاحب کیا آپ یہ سوال دہرا سکیں گے؟
میری گزارشات بہت سادہ ہیں—یہ مشکل نہیں، انسانی ہیں:
ایجنڈا آئٹم اوّل: ڈھاکہ کے جنیوا کیمپ اور دیگر کیمپوں کا دورہ، محصورین کی نمائندہ کمیٹی سے براہِ راست ملاقات۔
مشترکہ اعلامیہ: ورکنگ گروپ تین ماہ میں وطن واپسی پر سفارشات دے—ٹائم لائن، فنڈنگ، ذمہ داریاں۔
قونصلر خدمات: ڈھاکہ میں خصوصی ڈیسک—دستاویزی مدد، نادرا کیمپس، قانونی معاونت کا ربط۔
پارلیمانی بریفنگ: اسلام آباد اور ڈھاکہ میں مشترکہ سماعتیں—محصورین کے نمائندے، متاثرہ خواتین، تاریخ دان سب کو سنیں۔
تعلیمی و ثقافتی: وظائف، تحقیقی دعوت نامے، اور آرکائیوز تک باہمی رسائی۔
آخری گزارش—گزشتہ برس ڈھاکہ میں پاکستانی فنکاروں کے کنسرٹس بھی ہوئے۔ یہ ثقافتی کھڑکیاں اہم ہیں، مگر انصاف کے دروازے ان سے خود بخود نہیں کھلتے۔
میں نے پہلے بھی مانگا تھا: قیامت گزرنے کا بیان، باقاعدہ اعتراف، اور عملی راستہ۔ آج پھر مانگتی ہوں۔ کیونکہ:
“یہ دیوانے کا خواب ہے جو میں شاید اپنی آخری سانس تک دیکھوں گی۔”
میرا دکھ صرف اپنی برادری تک محدود نہیں؛ بنگالیوں کی اذیت کو بھی میں نے ہمیشہ مانا اور لکھا۔ مگر انتقام کبھی عدالت نہیں ہوتا۔
ڈھاکہ پہنچ کر اگر آپ نے محصورین کے ان ۶×۶ اذیت خانوں (جنہیں کیمپس کہا جاتا ہے) میں قدم رکھا، ان کی بیٹیوں اور بیٹوں کی آنکھوں میں دیکھا، تو شاید یہ خطہ نصف صدی بعد پہلی بار انصاف کے قریب جائے۔
ڈار صاحب، تاریخ کے پاس صرف ہمت والوں کے نام محفوظ رہتے ہیں۔ باقی سب خبروں میں گم ہو جاتے ہیں۔
آپ خبر بنانے نہیں بلکہ تاریخ بنانے—انسانی المیے کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے والی تاریخ بنانے—کے ارادے سے جائیں۔
اللہ آپ کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
بشکریہ ہم سب