بچا لو! اپنا لو! اس سے پہلے کہ کھو دو!

ولیم ڈالرمپل اپنی کتاب، دی گولڈن روڈ کے باب، دی روڈ ٹو ٹیکسلا، میں لکھتے ہیں کہ ٹیکسلا اُن چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں بدھ مت، یونان، ایران اور ہندو مت کی روحیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں.

اُس روز ہمیں ٹیکسلا میں ہندو مت کی روح کی سانسوں کو محسوس کرنا تھا. محبت اور عقیدت کی خوشبو وارفتہ ہونا تھا. ہماری منزل تھی، رگو ناتھ مندر ٹیکسلا.

جو اپنی کوکھ میں محبت اور عقیدت کی ایک داستان چھپائے بیٹھا ہے. یہ مندر آج بےنور ہے، متروک ہے، لیکن اس شہر کا اثاثہ ہے، اس دھرتی کا اثاثہ ہے.

مختصر سفر طے کر کے ہم مندر پہنچے گئے. یہاں رہنے والوں سے مندر وزٹ کرنے کی اجازت لی اور ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اجازت دے دی.

یہ مندر 1933 میں شریمتی رام رکھی نے اپنے پتی کی محبت اور اپنے دھرم کی عقیدت میں تعمیر کروایا. یعنی یہ مندر 92 سال قبل تعمیر ہوا.

شری متی رام رکھی کے پتی کا نام بھگت لال چند تھا. بھگت لال چند کا تعلق راولپنڈی سے تھا اور ٹیکسلا میں کاروبار سے وابستہ تھے.

دن، ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے،اس مندر میں عقیدت کے کئی مظاہرے ہوتے رہے. حتیٰ کہ 1947 کا وہ سال آ گیا کہ جب اس مندر کو عقیدت سے تعمیر کرنے والی رام رکھی اور یہاں پوجا کرنے والے کئی پجاریوں کو تقسیم کی لہر سرحد پار لے گئی. یہ مندر ویران ہو گیا. یہ مندر عبادت گاہ ہے.

عبادت گاہ کی رونق، عبادت کرنے والوں سے ہوتی ہے. اس مندر کی بے رونقی اور بےنوری کو ساڑھے سات دہائیاں بیت چکی ہیں اور اس مندر پر ساڑھے سات دہائیوں کا یہ دور یوں گزرا کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے.

تقسیم ہند کے بعد، بھارت سے آنے والے مہاجرین کو، پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقوں میں موجود ان مندروں، گرد واروں، حویلیوں اور دھرم شالوں میں بسایا گیا. یہ مندر بھی ایک کشمیری خاندان کو الاٹ کیا گیا.

میری یہ رائے ہے کہ وہ وقتی حل تھا، اب ان خاندانوں کو متبادل اور بہتر جگہوں پر منتقل کر کے، ان عمارتوں کو قومی ورثہ قرار دیا جانا چاہیے، ان کی تعمیر و مرمت کی جائے، انہیں محفوظ کیا جانا چاہیے. ماضی میں چاہے ان عمارتوں کی مذہبی وابستگی کسی بھی مذہب سے ہو، اور آج ہماری ان سے مذہبی وابستگی ہو یا نہ ہو، آج یہ ہمارا اثاثہ ہے، ہمارا ورثہ ہے، پاکستان کا اثاثہ ہے، پاکستانیوں کا ورثہ ہے. اس کی بہتری، اس کی دیکھ بھال، اس کی حفاظت، ہماری زمہ داری ہے، ہم سب کا فرض ہے.

ایسا کرنے سے ہم دنیا بھر سے غیر ملکی سیاحوں خصوصاً مذہبی سیاحوں کو پاکستان آنے کی دعوت دے سکتے ہیں کہ یہاں آئیے، پوجا کیجیے، ریلکس جمع کیجیے، ان پتھروں میں ان اینٹوں میں عقیدت سے سر جھکائیے. ہم اپنے ورثے سے، اپنے اثاثے سے، اپنی دھرتی سے اپنی قومی آمدنی میں اضافہ کریں گے. اپنے تاریخی، مذہبی اور تہذیبی ورثے سے کمائیں گے.

چند سالوں میں اس مندر کی تعمیر کو ایک صدی بیت جائے گی. لیکن اگر خدانخواستہ اس سے پہلے ہی یہ مندر زمیں بوس ہو گیا تو ہم شریمتی رام رکھی کی محبت اور عقیدت کی آخری نشانی ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے. خدارا اسے محفوظ کیجیے.

جو قومیں اپنے ورثے کو سنبھالتی ہیں اسے اپناتی ہیں، اس کی حفاظت کرتی ہیں وہ کبھی دیوالیہ نہیں ہوتیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے