گیلپ سروے کے مطابق دو برس میں ویپنگ استعمال کرنے والی خواتین کی شرح تقریباً دگنی ، ماہرین صحت کا انتباہ: “ہر خوشبودار بادل دراصل خطرے کا سگنل ہے”
ملک کے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں، کیفے ٹیریا، شاپنگ مراکز اور سوشل میڈیا پر ایک نئی عادت تیزی سے پھیل رہی ہے، جو بظاہر معصوم نظر آتی ہے مگر صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ برقی سگریٹ اور ڈسپوزایبل ویپ پین اب خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے ہاتھوں میں عام نظر آنے لگے ہیں۔ سروے کمپنی گیلپ پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۱۸ سے ۲۴ برس کی عمر کی خواتین میں ویپنگ کا استعمال گزشتہ دو برسوں میں ۹ فیصد سے بڑھ کر ۱۷ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ رجحان صرف بڑے اور خوشحال طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بھی متوسط اور کاروباری گھرانوں کی بیٹیاں اس لت میں مبتلا ہو رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وفاقی سطح پر برقی نکوٹین پہنچانے والے آلات (ای این ڈی ایس) کے بارے میں کوئی واضح قانون موجود نہیں۔ سنہ ۲۰۰۲ء کے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس میں برقی سگریٹ یا ویپنگ کا ذکر تک شامل نہیں کیا گیا اور صوبائی سطح پر بھی ضابطہ سازی کا کوئی مؤثر طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً درجنوں ملکی و غیر ملکی برانڈز بلا روک ٹوک فروخت ہو رہے ہیں، جن کی پیکنگ پر نہ صحت کے انتباہ درج ہیں، نہ عمر کی حد اور نہ ہی نکوٹین کی مقدار کا واضح تعین کیا جاتا ہے۔
ایک نجی جامعہ کی طالبہ (جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی) نے بتایا کہ “ہمیں کیفے والے کہتے ہیں کہ یہ محض خوشبودار بھاپ ہے، اس میں نشہ نہیں”۔ یہ تاثر دراصل اُن کمپنیوں کی اشتہاری حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا پر خواتین کو خاص طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ دلکش تصاویر، فیشن شو نما ویڈیوز اور “دلکش بادل” اور “خوبصورت دھواں” جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے ویپنگ کو جدید طرزِ زندگی اور خود اعتمادی کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی ایک تحقیق کے مطابق بعض برانڈز کے کارٹریجز میں نکوٹین کی مقدار ۲۰ سے ۵۰ ملی گرام تک ریکارڈ کی گئی جو ایک عام سگریٹ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
ڈاکٹر ثمرین احمد، جن کی ٹیم نے کراچی کی دو یونیورسٹیوں میں ۸۰۰ طالبات کا سروے کیا، کہتی ہیں کہ نصف لڑکیوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ نکوٹین کو براہِ راست سانس کے ذریعے جسم میں پہنچا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو بے ضرر عادت سمجھنے کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پر چلنے والی گمراہ کن مہمات ہیں جن میں خواتین کو فیشن، آزادی اور مزے کے لبادے میں ان مصنوعات کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں خواتین میں ذیابیطس، ہارمونی نظام کی خرابی، دل کے امراض اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزارتِ صحت کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے قوانین میں ترمیم کر کے برقی سگریٹ کو تمباکو مصنوعات کے زمرے میں شامل کرے، صوبائی اسمبلیاں ضابطہ سازی کے لیے خصوصی کمیٹیاں بنائیں، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو درآمد شدہ و مقامی ویپنگ مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرے تاکہ ان کی رسائی محدود ہو۔
ساتھ ہی ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ خواتین کے لیے علیحدہ ترکِ نکوٹین مراکز اور ہیلپ لائن قائم کی جائے جہاں خواتین ڈاکٹر اور ماہرینِ نفسیات مشاورت فراہم کریں، جامعات و کالجوں میں آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں اور اسکولوں میں زندگی کی مہارتوں پر مبنی نصاب شامل کیا جائے۔
سماجی ماہرین کے مطابق ویپنگ کا یہ رجحان ایک ایسا خاموش طوفان ہے جسے روکا نہ گیا تو آنے والے برسوں میں یہ خواتین کی صحت کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ہر نیا دھویں کا بادل، چاہے وہ خوشبودار ہی کیوں نہ ہو، دراصل صحت اور زندگی کے لیے خطرے کا سگنل ہے۔