چند روز پہلے کی بات ہے۔ بخار نے ایسا جکڑا کہ بستر بھی میں بیزار ہو گیا۔ دوائیوں کی کڑوی دنیا میں پڑا ہوا تھا کہ یونیورسٹی کی دوست اقرا کی کال آ گئی۔
ہاں بھئی! کیسے ہو؟ بخار اُتر گیا یا ابھی بھی دکھیاری حالت میں ہو؟
میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا: الحمدللہ اب بہتر ہوں، اسپتال کا چکر لگا، دوا بھی چل رہی ہے، باقی دعا تم کرتی رہو۔”
بات چلتے چلتے فیس بُک تک جا پہنچی اقرا کہنے لگی
"بھائی، آج کل فیس بُک پہ تو جعلی اکاؤنٹس کا طوفان آیا ہوا ہے! پتا ہی نہیں چلتا کہ کون اصلی ہے کون نقلی۔ لنکڈ اِن، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک پہ اتنے فیک نہیں، جتنے یہاں ہیں کوئی لڑکا لڑکی بن بیٹھا ہے، کوئی تصویر اُدھر سے چرا کر ادھر لگا دیتا ہے۔ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ریکویسٹ قبول کریں یا بلاک کریں….
میں نے کہا: بی بی، تم نے تو دل کا حال کہہ دیا۔ یہی تو مسئلہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم جہاں دوستوں کو قریب لانے کے لیے بنا تھا، وہیں سب سے زیادہ دھوکے بھی یہیں ہوتے ہیں۔ چلو آج تمہیں اور باقی دوستوں کو بھی کچھ نشانیاں اور ٹرکس بتا دوں تاکہ جعلی نقاب اُتارنے میں آسانی رہے۔
جعلی اکاؤنٹس کی پہچان:
1. نیا نیا اکاؤنٹ
زیادہ تر فیک پروفائلز چند دن یا ہفتے پرانے ہوتے ہیں۔ کل ہی بنا ہو گا اور آج آپ کو ریکویسٹ بھیج دی۔
2. مشکوک تصویر:
بس ایک آدھ تصویر موجود، وہ بھی یا تو دھندلی یا پھر کسی ماڈل کی۔
ٹِپ: گوگل لینز سے سرچ کریں، فوراً پتا چل جائے گا کہ یہ تصویر کہاں کہاں گھوم رہی ہے۔3. دوست کم اور وہ بھی غیر متعلقہ
لسٹ کھولیں تو یا تو پانچ دس اجنبی نام ہوں گے یا پھر سب ایک ہی ملک سےبالکل روبوٹک انداز
4. ٹائم لائن سنسان:
ذاتی پوسٹ نہیں، صرف شیئر کی ہوئی تصویریں، لنکس یا اشتہارات اور وہ بھی سب ایک ہی دن میں دھڑا دھڑ پوسٹ کی گئیں۔
5. رویّہ عجیب
اجنبیوں کو دھڑا دھڑ ریکویسٹ بھیجنا، ان باکس میں لنکس بھیجنا، یا “Is this you in the video?” جیسے میسجز مارنا۔
اکثر ایسے اکاؤنٹس خواتین کا روپ دھارتے ہیں مگر گفتگو ایسی کرتے ہیں کہ فوراً شک ہو جاتا ہے۔چیک کرنے کے آزمودہ طریقے:
پروفائل کی تصویر گوگل لینز پر ڈالیں — اگر مختلف جگہوں پر ملے تو اکاؤنٹ جعلی ہے۔
دوستوں کی لسٹ دیکھیں سب غیر ملکی یا غیر متعلقہ ہیں؟ تو محتاط رہیں
پوسٹ ہسٹری کھنگالیں کیا سب پوسٹس ایک ہی دن کی ہیں یا سب اسپام قسم کی؟
میوچول فرینڈز چیک کریں اگر کوئی بھی نہیں، تو پہلے سوچیں، پھر دوستی بڑھائیں۔
ویڈیو کال یا وائس نوٹ سے کنفرم کریں جو اصلی ہو گا، سامنے آنے سے نہیں کترائے گا۔
احتیاطی تدابیر:
فیس بُک سیٹنگز مضبوط کریں، ریکویسٹ صرف فرینڈز آف فرینڈز تک محدود رکھیں۔
اپنی پوسٹس کی پرائیویسی Public کے بجائے Friends پر رکھیں
مشکوک اکاؤنٹ فوراً رپورٹ کریں۔
لنک یا فائل پر کلک کرنے سے پہلے دو بار سوچیں۔
یہ دور جتنا ہمیں قریب لاتا ہے اتنا ہی دھوکے بازوں کو بھی آسانیاں دیتا ہے۔ خاص طور پر ہماری بہنوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان جعلی نقاب پوش دوستوں سے بچ کر رہیں جو پہلے مٹھاس گھولتے ہیں، پھر ڈیٹا چرا کر بلیک میل کرتے ہیں۔
یہ کہانی محض میری اور اقرا کی گفتگو نہیں، ہم سب کے لیے وارننگ ہے۔
دعا کریں، اللہ سب کو ایسے فریب سے محفوظ رکھے۔