ربیع الاول: نبی کریم ﷺ کی آمد، بدعات کی حقیقت اور تاریخ کے نقوش

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو تاریخِ اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ اسی مہینے میں سید المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت اور وصال ہوا۔ یہ دونوں واقعات امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تاہم، اس مہینے سے متعلق بعض غیر شرعی رسومات بھی رواج پا گئی ہیں جن کی دینِ اسلام میں کوئی اصل نہیں ملتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ربیع الاول کی حقیقت کو سمجھا جائے اور اس کے ساتھ وابستہ بدعات اور تاریخی حقائق کو جانا جائے۔

فضائل:

قرآن و حدیث میں ماہِ ربیع الاول کی کوئی مخصوص فضیلت یا عبادت بیان نہیں ہوئی۔ یہ بھی باقی مہینوں کی طرح اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا مہینہ ہے، جس میں عام دنوں کی طرح ہی عبادات انجام دی جا سکتی ہیں۔

مسنون اعمال:

* اس مہینے میں کوئی خاص عبادت مقرر نہیں۔
* نماز، روزہ، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر، دعا اور صدقہ جیسے عام اعمال ہی جاری رہنے چاہئیں۔
* سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور سنت پر غور و عمل کا ذریعہ بنائیں۔

رسوم و رواج (غیر شرعی بدعات):

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ربیع الاول کے حوالے سے بہت سی ایسی بدعات اور رسومات رائج ہیں جو اسلام میں ثابت نہیں:

* ربیع الاول کا چاند دیکھ کر ایک دوسرے کو “عید مبارک” کہنا یا آمدِ عید کا اعلان کرنا۔
* میلاد النبی ﷺ کے نام پر ایسی محافل جن میں غیر شرعی امور شامل ہوں (آتشبازی، گانے بجانے، فضول خرچیاں وغیرہ)۔
* محض ربیع الاول کی نسبت سے نئی رسومات ایجاد کرنا۔

یہ سب قرآن و سنت کی روشنی میں ناجائز ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی سنت کو زندہ کریں، نہ کہ نئی رسومات کو دین کا حصہ بنائیں۔

اہم تاریخی واقعات (تاریخ وار):

✅ 1 ربیع الاول

* 1ھ / 622ء: رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کی ہجرت کے لیے روانہ ہوئے۔

✅ 8 ربیع الاول

* 1ھ / 622ء: آپ ﷺ غارِ ثور سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

✅ 12 ربیع الاول

* 571ء: رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
* 1ھ / 622ء: آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔
* 11ھ / 632ء: رسول اللہ ﷺ کا وصالِ مبارک مدینہ منورہ میں ہوا، اسی دن حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ مقرر ہوئے۔
* 897ھ / 1492ء: سقوطِ غرناطہ، اندلس میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ۔

✅ 19 ربیع الاول

* 1ھ / 622ء: مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔

✅ 20 ربیع الاول

* 227ھ / 841ء: عباسی خلیفہ معتصم باللہ کی وفات۔

✅ 21 ربیع الاول

* 923ھ / 1517ء: مصر سلطنتِ عثمانیہ کے زیر نگیں آیا۔

✅ 22 ربیع الاول

* 886ھ / 1481ء: سلطان بایزید ثانی سلطنتِ عثمانیہ کے تخت پر بیٹھے۔

✅ 23 ربیع الاول

* 13ھ / 634ء: حضرت خالد بن ولیدؓ نے بصرہ کو فتح کیا۔

✅ 25 ربیع الاول

* 5ھ / 626ء: غزوہ دومتہ الجندل پیش آیا۔
* 15ھ / 636ء: حضرت خالد بن ولیدؓ نے شام کا شہر حمص فتح کیا۔

✅ 17 ربیع الاول

* 977ھ / 1569ء: مغل بادشاہ جہانگیر کی ولادت۔

دیگر اہم واقعات (مہینے میں بغیر متعین دن کے):

* 2ھ / 623ء: غزوہ بوات۔
* 2ھ / 623ء: غزوہ سفوان (بدر اولی)۔
* 4ھ / 625ء: یہودی قبیلہ بنو نضیر مدینہ سے جلا وطن ہوا۔
* 7ھ / 628ء: غزوہ ذات الرقاع۔
* 41ھ / 661ء: حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صلح۔
* 170ھ / 786ء: امام شافعیؒ کی ولادت۔
* 241ھ / 855ء: امام احمد بن حنبلؒ کی وفات۔
* 300ھ / 912ء: اندلس کے حکمران عبداللہ کی وفات اور عبدالرحمن ثالث کی تخت نشینی۔
* 465ھ / 1072ء: سلجوقی سلطان الپ ارسلان کی وفات۔
* 1349ھ / 1930ء: علامہ سید سلیمان ندویؒ کا وصال۔
* 1373ھ / 1953ء: قاضی سلیمان منصورپوری کا انتقال۔

ماہِ ربیع الاول ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور وصال اسی مہینے میں ہوا۔ یہ ماہ ہمیں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو اس کا عملی ثبوت ان کی سنت پر عمل اور ان کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہے، نہ کہ رسومات اور بدعات میں مبتلا ہونا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور ان کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے